26/08/2026
تمام دنیائے انسانیت کو جشنِ ولادتِ محمدﷺ مبارک :
"مدینۂ منورہ ہے۔ عید کا دِن ہے۔ سرورِ دو عالمﷺ نمازِ عید کی ادائیگی کے لیے جا رہے ہیں۔ راہ چلتے ایک بچے سے ملاقات ہوتی ہے۔ یہ میلے سے کپڑے پہنے ہوئے ہے۔ عجیب غربت کی پرچھائیاں اس معصوم کے چہرے پر شاید جھلکتی ہوں۔ اس کا بھی شاید "کوئی" نہیں تھا! شاید لمبا لمبا عرصہ خالی پیٹ گزارتا ہو گا۔ اس وقت چھاتا اس کے سر پر بھی آسمان ہی کا تھا۔
رحمتِ دو عالمﷺ اس سے آگے بڑھ کر دریافت کرتے ہیں کہ اس حال میں کیوں ہو؟ یہ ننھا معصوم جواب دیتا ہے کہ میرے ماں باپ نہیں۔ شفیق از نفسِ مادرﷺ بڑھتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ میں تمہارا باپ ہوں۔ اس یتیم و بے سہارا کو لئے حضرتِ فاطمۃ الزہراء رضی اللّٰهُ عنہا کے گھر چلے جاتے ہیں۔ وہاں فرماتے ہیں کہ اس کو حسنؓ و حسینؓ جیسا لباس پہناؤ، ان جیسا کھلاؤ۔
اپنے اس امتی بیٹے کو حسنؓ و حسینؓ کے ہمراہ عید پڑھنے لے جاتے ہیں۔ یوں یہ غریب، دنیا و آخرت کے "امراء" میں شامل ہو جاتا ہے۔"
(ماخوذ)
انسانیت کے دکھوں، دردوں، زخموں اور غموں کے تلاطم خیز سمندر سے گہری جڑت رکھنے والے تاریخِ انسانی کے سب سے بڑے انقلابی حضرت محمدﷺ کے دلِ و دماغ میں موجزن انسانیت کی خیر خواہی اور فلاح و بہبود کا یہی وہ اعلیٰ ترین جذبہ تھا جو اجتماعی سطح پر ظلم، جبر، استبداد اور استحصال کے تمام نظاموں، ابوجہل اور قیصر و کسریٰ کے طاغوتی نظاموں کو توڑ کر عدل و انصاف، مساواتِ انسانی اور انسان دوستی پر مبنی سیاسی، معاشی، معاشرتی اور سماجی نظام کی تشکیل کی ٹھوس بنیاد بن جاتا ہے۔
پس انسانیت دوست جذبوں کی ہمیشہ پرورش کرتے رہنا چاہیے اور انسانوں کے غموں، دکھوں، دردوں اور زخموں کے خلاف تلاطم خیز غصہ اور نفرت کی آگ کو توانائی میں بدل کر ظلم کے نظاموں کے خلاف عقل و شعور کی بنیاد اور عدم تشدد کے اصول پر انقلابی جدوجہد کو تیز تر کیا جانا ازبس ضروری ہے۔
عہد جدید میں انسانیت پرور جذبوں سے لبریز امام شاہ ولی اللّٰه کے فلسفہ و فکر کی بنیاد پر برپا ہونے والا سوشلسٹ انقلاب بنی نوعِ انسانی پر سرمایہ داری و سامراجی نظاموں کے مسلط کردہ تاریک "مقدر" کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے یکسر بدل کر رکھ دے گا۔ اور ایسے معاشروں کی تشکیل یقینی بنائے گا جہاں کل انسانیت وحدت، خوشحالی، امن، عدل، آزادی، مساوات، اخوت اور اجتماعی ترقی سے ہمکنار ہو گی نیز فطرت انسانیہ کے بے کنار تقاضوں کے بروئے کار آنے سے نوع انسانی فلسفیانہ، عقلی، نطریاتی، فکری، اخلاقی، روحانی اور تخلیقی ارتقا کی بے مثال منزلوں کو سر کرتی چلی جائے گی۔
منجانب: شعبہ پریس اینڈ پبلیکیشنز یونائیٹڈ پاکستان