United Pakistan

United Pakistan پاکستان میں امام شاہ ولی اللّٰه کے فلسفہ و فکر کی بنیاد پر سوشلسٹ اور سیکولر انقلاب کی نقیب پارٹی۔

تمام دنیائے انسانیت کو جشنِ ولادتِ محمدﷺ مبارک :"مدینۂ منورہ ہے۔ عید کا دِن ہے۔ سرورِ دو عالمﷺ نمازِ عید کی ادائیگی کے ل...
26/08/2026

تمام دنیائے انسانیت کو جشنِ ولادتِ محمدﷺ مبارک :

"مدینۂ منورہ ہے۔ عید کا دِن ہے۔ سرورِ دو عالمﷺ نمازِ عید کی ادائیگی کے لیے جا رہے ہیں۔ راہ چلتے ایک بچے سے ملاقات ہوتی ہے۔ یہ میلے سے کپڑے پہنے ہوئے ہے۔ عجیب غربت کی پرچھائیاں اس معصوم کے چہرے پر شاید جھلکتی ہوں۔ اس کا بھی شاید "کوئی" نہیں تھا! شاید لمبا لمبا عرصہ خالی پیٹ گزارتا ہو گا۔ اس وقت چھاتا اس کے سر پر بھی آسمان ہی کا تھا۔
رحمتِ دو عالمﷺ اس سے آگے بڑھ کر دریافت کرتے ہیں کہ اس حال میں کیوں ہو؟ یہ ننھا معصوم جواب دیتا ہے کہ میرے ماں باپ نہیں۔ شفیق از نفسِ مادرﷺ بڑھتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ میں تمہارا باپ ہوں۔ اس یتیم و بے سہارا کو لئے حضرتِ فاطمۃ الزہراء رضی اللّٰهُ عنہا کے گھر چلے جاتے ہیں۔ وہاں فرماتے ہیں کہ اس کو حسنؓ و حسینؓ جیسا لباس پہناؤ، ان جیسا کھلاؤ۔
اپنے اس امتی بیٹے کو حسنؓ و حسینؓ کے ہمراہ عید پڑھنے لے جاتے ہیں۔ یوں یہ غریب، دنیا و آخرت کے "امراء" میں شامل ہو جاتا ہے۔"
(ماخوذ)

انسانیت کے دکھوں، دردوں، زخموں اور غموں کے تلاطم خیز سمندر سے گہری جڑت رکھنے والے تاریخِ انسانی کے سب سے بڑے انقلابی حضرت محمدﷺ کے دلِ و دماغ میں موجزن انسانیت کی خیر خواہی اور فلاح و بہبود کا یہی وہ اعلیٰ ترین جذبہ تھا جو اجتماعی سطح پر ظلم، جبر، استبداد اور استحصال کے تمام نظاموں، ابوجہل اور قیصر و کسریٰ کے طاغوتی نظاموں کو توڑ کر عدل و انصاف، مساواتِ انسانی اور انسان دوستی پر مبنی سیاسی، معاشی، معاشرتی اور سماجی نظام کی تشکیل کی ٹھوس بنیاد بن جاتا ہے۔

پس انسانیت دوست جذبوں کی ہمیشہ پرورش کرتے رہنا چاہیے اور انسانوں کے غموں، دکھوں، دردوں اور زخموں کے خلاف تلاطم خیز غصہ اور نفرت کی آگ کو توانائی میں بدل کر ظلم کے نظاموں کے خلاف عقل و شعور کی بنیاد اور عدم تشدد کے اصول پر انقلابی جدوجہد کو تیز تر کیا جانا ازبس ضروری ہے۔

عہد جدید میں انسانیت پرور جذبوں سے لبریز امام شاہ ولی اللّٰه کے فلسفہ و فکر کی بنیاد پر برپا ہونے والا سوشلسٹ انقلاب بنی نوعِ انسانی پر سرمایہ داری و سامراجی نظاموں کے مسلط کردہ تاریک "مقدر" کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے یکسر بدل کر رکھ دے گا۔ اور ایسے معاشروں کی تشکیل یقینی بنائے گا جہاں کل انسانیت وحدت، خوشحالی، امن، عدل، آزادی، مساوات، اخوت اور اجتماعی ترقی سے ہمکنار ہو گی نیز فطرت انسانیہ کے بے کنار تقاضوں کے بروئے کار آنے سے نوع انسانی فلسفیانہ، عقلی، نطریاتی، فکری، اخلاقی، روحانی اور تخلیقی ارتقا کی بے مثال منزلوں کو سر کرتی چلی جائے گی۔

منجانب: شعبہ پریس اینڈ پبلیکیشنز یونائیٹڈ پاکستان

السلام علیکم احباب! یونائیٹڈ پاکستان آن لائن ہفتہ وار ڈائیلاگ فورم بذریعہ گوگل میٹ درج ذیل شیڈول کے مطابق منعقد ہونا ہے:...
22/08/2026

السلام علیکم احباب!

یونائیٹڈ پاکستان آن لائن ہفتہ وار ڈائیلاگ فورم بذریعہ گوگل میٹ درج ذیل شیڈول کے مطابق منعقد ہونا ہے:

موضوع: یونائیٹڈ پاکستان کا تعارف اور انقلاب کا لائحہ عمل

🕖 وقت: 7:00pm
📅 تاریخ 23 اگست بروز اتوار
📌 وینیو: آن لائن(گوگل میٹ)
میٹنگ کوڈ: qkh-jnzz-pvf

منجانب:
سنٹرل سیکرٹری دعوت یونائیٹڈ پاکستان

22اگست یوم وفات امام انقلاب عبیداللّٰه سندھی کے موقع پر تجدید عہد:جرمِ حق گوئی میں صدیوں سے سرِ دار ہیں ہمجو کبھی کم نہی...
22/08/2026

22اگست یوم وفات امام انقلاب عبیداللّٰه سندھی کے موقع پر تجدید عہد:

جرمِ حق گوئی میں صدیوں سے سرِ دار ہیں ہم
جو کبھی کم نہیں ہوتا ہے وہ معیار ہیں ہم

کیسے تاریخ فراموش کرے گی ہم کو
تیغ پر خون سے لکّھا ہوا انکار ہیں ہم

آج دنیائے انسانیت اور اقوام عالم تاریخ کے مشینی دور کے نئے موڑ پر ایک دو راہے پر کھڑی ہیں۔ دین اسلام کے تقریباً ہزار سالہ عالمی نظام عدل و مساوات کے غلبے کے نتیجے میں ہونے والے سماجی ارتقا کے تحت جب یورپ میں صنعتی/مشینی انقلاب کا آغاز ہوا تو بتدریج پانچ سو سالوں میں جہاں دین اسلام کا نظام عدل و مساوات سماج میں آنے والی تبدیلیوں کو صحت مندانہ اصولوں پر جذب نہ کرنے کے باوصف رو بہ زوال ہوا وہیں یورپ اور امریکہ کا دنیا پر غلبہ اور تسلط قائم ہوا۔ بدقسمتی سے دین اسلام کے نظام عدل و مساوات کے علی الرغم امریکہ اور یورپ کا دنیا پر غلبہ سرمایہ داری نظام، استعماریت/سامراجیت، استحصال، طبقات، تقسیم انسانیت، غلامی، محکومی، انسانیت دشمنی، کالونیل ازم اور پھر نیو کالونیل ازم پر منتج ہوا۔ امریکی و یورپی سامراجی طاقتوں کے انسانیت پر تسلط کے سیاہ دور میں کہ جب دین اسلام کا نظام عدل و مساوات خلافتِ عثمانیہ کے رو بہ زوال ہونے کے باوصف آخری ہچکیاں لے رہا تھا ایسے میں جہاں اکتوبر 1917ء میں روس کی سر زمین پر برپا ہونے والا سوشلسٹ انقلاب مظلوم انسانیت اور محکوم اقوام کے لئے ایک نئی روشنی بن کر طلوع ہوا وہیں پر دین اسلام کے ہزار سالہ نظام عدل و مساوات کے رو بہ زوال ہونے کے بعد اس کی راکھ سے انقلاب ایران وہ شعلہ جوالہ بن کر ابھرا کہ جو آج مشرق وسطیٰ میں امریکی سامراجی پیٹرو ڈالر بالادستی کو آبنائے ہرمز کے گہرے پانیوں میں غرق کرنے کا اہتمام کر رہا ہے۔ چنانچہ آج انہی انقلابات کے بطن سے جنم لینے والی سامراج دشمن مزاحمت کے نتیجے میں ہی امریکہ اور یورپ کا انسانیت دشمن سامراجی تسلط ٹوٹ کر بکھر رہا ہے۔ روس، چین اور ایران کی قیادت میں گلوبل ساؤتھ کی اقوام نئی انگڑائی لے رہی ہیں۔ تاریخ کے اس نئے موڑ پر کہ جب صدیوں سے انسانیت پر مسلط پرانا استحصالی سرمایہ داری سامراجی نظام ٹوٹ رہا ہے تو ایسے میں دنیائے انسانیت اور اقوام عالم متلاشی ہیں ایک ایسے نظام کی کہ جس کو وہ بطورِ رول ماڈل اپنا کر تاریخ کے مشینی دور کے اس جدید ترین عہد میں ہمہ گیر ارتقا کی اگلی منزلوں سے ہمکنار ہو سکیں۔
اس تناظر میں امام شاہ ولی اللّٰه کا فلسفہ و فکر اور اس کی امام انقلاب عبیداللّٰه سندھی کی تشریحات کی اساس نیز کل ولی اللّٰہی تحریک کی برطانوی استعمار کے خلاف جدوجہد آزادی کی انسپائریشن کی بنیاد پر تشکیل جدید کا وہ تمام تر فلسفیانہ و عمرانی نظام فکر موجود ہے کہ جو آج کے عہد میں ساری انسانیت اور اقوام عالم کی امیدوں کا محور و مرکز بن سکتا ہے۔ پیش نظر رہے کہ امام شاہ ولی اللّٰه نے اپنا فلسفہ و فکر اس وقت پیش کیا کہ جب ایک طرف دین اسلام کا نظام عدل و مساوات اورنگ زیب عالمگیر کی وفات کے بعد رو بہ زوال تھا تو دوسری طرف انسانیت ہزاروں سال کے ارتقا کے نتیجے میں سماج میں آنے والی تبدیلیوں کے باوصف زرعی عہد سے نکل کر مشینی/صنعتی عہد میں داخل ہو رہی تھی۔ امام شاہ ولی اللّٰه نے اس تبدیلیوں سے ہمکنار نئے مشینی/صنعتی عہد میں تاریخ انسانی کے سب سے زیادہ کامیاب اور رول ماڈل انقلاب یعنی حضرت محمد رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وآلہ وسلم کے انقلاب کو بطورِ بنیاد و اساس بناتے ہوئے انسانی فطرت کی اتھاہ گہرائیوں سے ابھرنے والے جمیع تقاضوں کی ترجمانی کا حامل فلسفہ و فکر پیش کیا۔ اور پھر امام انقلاب عبیداللّٰه سندھی نے روس کے سوشلسٹ انقلاب، ترکی کے سیکولر انقلاب، یورپ کے صنعتی انقلاب اور دنیا کی جدید ترین نظریاتی فکری اور فلسفیانہ تحریکوں اور رجحانات کا بالاستیعاب مطالعہ نیز مشاہدہ کر کے ریشنل ازم کی بنیاد پر یہ حتمی نتیجہ اخذ کیا کہ آج کے جدید ترین عہد میں بھی امام شاہ ولی اللّٰه کا فلسفہ و فکر اپنی معقولیت، جامعیت، پرفیکشن اور انسانی فطرت کے جمیع تقاضوں کی ترجمانی کے باوصف اپنے اندر دنیائے انسانیت کی راہنمائی اور تشکیل جدید کا تمام تر سامان اور دنیا کے تمام جدید انقلابات، نظریات اور فلسفوں پر اپنا تفوق و افضلیت رکھتا ہے۔ چنانچہ صنعتی/مشینی دور کی علمیات(Epistemology) کی اصطلاحات کو مدنظر رکھتے ہوئے امام انقلاب عبیداللّٰه سندھی نے امام شاہ ولی اللّٰه کے فلسفہ و فکر کی وہ تشریحات پیش کیں جو کہ عقل و دانش کے متلاشی نوجوان کے جدید ترین ذہن کی تشفی کا مکمل سامان اپنے اندر رکھتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ کہ آج صرف اور صرف امام انقلاب عبیداللّٰه سندھی کی امام شاہ ولی اللّٰه کے فلسفہ و فکر کی مذکورہ تشریحات ہی وہ فلسفیانہ نظام فکر ہیں کہ جس پر قومی، علاقائی اور عالمی سیاسی، معاشی، سماجی اور عمرانی تشکیل کل انسانیت اور اقوام عالم کو تاریخ کے اس جدید ترین مشینی دور کے نئے موڑ پر وہ رول ماڈل نظام دے سکتی ہیں کہ جس کو اپنا کر نہ صرف یہ کہ امریکہ اور یورپ کی سامراجی طاقتوں کا ٹوٹتا ہوا استحصالی تسلط مکمل طور پر مٹا دیا جائے بلکہ تاریخ کے اگلے مرحلے پر ایسے معاشروں کی تشکیل یقینی ہو کہ جہاں انسانوں پر سے انسانوں کے استحصال کی ہر شکل ہمیشہ کے لئے مٹ جائے اور بنی نوع انسان جنت نظیر معاشروں سے ہمکنار ہو کر اپنے نوعی تقاضوں کے باوصف ذہنی و نفسی انقلابات کی نئی اور بلند ترین منزلوں سے ہمکنار ہو۔
اسی ضمن میں وطن عزیز پاکستان میں گماشتہ سرمایہ داری نظام اور امریکی سامراجی غلبہ کے خلاف یونائیٹڈ پاکستان امام شاہ ولی اللّٰه کے مذکورہ فلسفہ و فکر کی بنیاد پر سیکولر، سوشلسٹ، نیشنلسٹ، ڈیموکریٹک اور نیشنل ڈیموکریٹک انقلاب نیز ایشیاٹک فیڈریشن کی اساس پر ریجنل/علاقائی تشکیل اور انسانیت دوست سامراج دشمن اقوام کے ساتھ اشتراک عمل کے ذریعہ فطرت انسانیہ کے بطن سے پھوٹنے والی عالمگیر اقدار(اخلاق اربعہ) پر نئے عالمی نظام کے قیام کے واضح اور دو ٹوک نصیب العین پر جدوجہد انقلاب میں مصروف عمل ہے۔ اور یقیناً یہی جدید ترین انقلاب آج کے عہد میں دنیائے انسانیت اور اقوام عالم کے لئے وہ رول ماڈل اور انسپائریشن بنے گا کہ جو کہ بحق انسانیت تاریخ کے دھارے کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے مکمل طور پر بدل کر رکھ دے گا۔
آج امام انقلاب عبیداللّٰه سندھی کے یومِ وفات پر یونائیٹڈ پاکستان کے اولو العزم نوجوان یہ عہد کرتے ہیں کہ بہت جلد سر زمین پاکستان پر امام شاہ ولی اللّٰه کے فلسفہ و فکر کی بنیاد پر سوشلسٹ انقلاب برپا کر کے ہم اپنے اکابرین/اسلاف بالخصوص امام انقلاب عبیداللّٰه سندھی، امام شاہ ولی اللّٰه، شیخ الہند محمود حسن، شاہ سعید احمد رائے پوری اور کل ولی اللّٰہی تحریک کے زعماء اور بانیان پاکستان کے خوابوں کو شرمندہ تعبیر کر کے رہیں گے۔ اور یقیناً تاریخ کے مشینی دور کے اس نئے موڑ پر یہی انقلاب پاکستان کے 25کروڑ عوام کی آرزوؤں، امنگوں اور خواہشات کی تعبیر اور کل دنیائے انسانیت و اقوام عالم کے لئے رول ماڈل بنے گا۔

منجانب: شعبہ پریس اینڈ پبلیکیشنز یونائیٹڈ پاکستان

Capital is dead labour, that, vampire-like, only lives by sucking living labour, and lives the more, the more labour it ...
20/08/2026

Capital is dead labour, that, vampire-like, only lives by sucking living labour, and lives the more, the more labour it sucks. The time during which the labourer works, is the time during which the capitalist consumes the labour-power he has purchased of him.

Karl Marx

Dept of Press & Publication United Pakistan

19/08/2026

پاکستان میں بڑھتا ہوا خلفشار اور انقلاب کی ناگزیریت
عامر علی شاہ، سنٹرل وائس پریذیڈنٹ برائے تربیت یونائیٹڈ پاکستان
راولپنڈی ڈویژن کے زیر اہتمام ڈویژنل تربیتی سیمینار سے خطاب
26-07-2026

پاکستان آج سیاسی، معاشی اور سماجی بحرانوں کے ایک ایسے دور سے گزر رہا ہے جہاں مہنگائی، بے روزگاری، غربت، طبقاتی تقسیم، سیاسی عدم استحکام اور عوامی بے چینی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا موجودہ نظام کے اندر رہتے ہوئے ان بنیادی مسائل کا حل ممکن ہے، یا پاکستان کو ایک انقلابی تبدیلی کی ضرورت ہے؟

یونائیٹڈ پاکستان کے سنٹرل وائس پریذیڈنٹ برائے تربیت جناب عامر علی شاہ صاحب نے 26 جولائی 2026 کو راولپنڈی ڈویژن یونائیٹڈ پاکستان کے زیرِ اہتمام منعقدہ تربیتی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے موجودہ حالات، سرمایہ دارانہ نظام، طبقاتی استحصال اور عوام اور ایلیٹ کلاس کے درمیان بڑھتے ہوئے معاشی فاصلے کا تفصیلی جائزہ پیش کیا۔

انہوں نے پاکستان کے مختلف علاقوں میں اپنے بنیادی حقوق کے حصول کے لیے ہونے والی ہڑتالوں، احتجاجی تحریکوں اور عوامی جدوجہد کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ عوامی مطالبات اور احتجاج اپنی جگہ حقیقی ہیں، لیکن ایک ایسی واضح انقلابی نظریاتی رہنمائی، مستقل سیاسی تنظیم اور ملک گیر انقلابی پلیٹ فارم کی عدم موجودگی میں یہ جدوجہد اپنے حتمی مقصد تک نہیں پہنچ پاتی۔

خطاب میں اس بات پر زور دیا گیا کہ صرف حکومتوں کی تبدیلی پاکستان کے بنیادی مسائل کا حل نہیں۔ حقیقی تبدیلی کے لیے سیاسی شعور، نظریاتی کلیرٹی، ملک گیر تنظیم، عوامی طاقت اور اجتماعی انقلابی جدوجہد ضروری ہے۔ اس تناظر میں یونائیٹڈ پاکستان خود کو ایک سیاسی انقلابی جماعت کے طور پر پیش کرتا ہے جو پاکستان بھر میں نوجوانوں، طلبہ، محنت کشوں اور باشعور شہریوں کو منظم کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔

یہ خطاب بالخصوص پاکستان کے نوجوانوں، طلبہ، محنت کشوں اور ان تمام باشعور افراد کے لیے ہے جو موجودہ بحران کی بنیادی وجوہات کو سمجھنا اور ایک انقلابی متبادل کی تلاش کرنا چاہتے ہیں۔

سوچیے، سوال اٹھائیے، منظم ہوئیے اور ایک نئے پاکستان کی جدوجہد کا حصہ بنیے۔

سرمایہ کی قہرمانی طاقت اور چکا چوند کا تریاق صرف اور صرف امام شاہ ولی اللّٰه کے فلسفہ و فکر کی بنیاد پر سوشلزم اور سوشلس...
18/08/2026

سرمایہ کی قہرمانی طاقت اور چکا چوند کا تریاق صرف اور صرف امام شاہ ولی اللّٰه کے فلسفہ و فکر کی بنیاد پر سوشلزم اور سوشلسٹ انقلاب کا آفاقی نظریہ ہے جو فطرتِ انسانیہ کے بےکنار تقاضوں کا ترجمان، تمام مذاہب کا مصدق اور دینِ اسلام کا جدید ترین اور عصری مظہر ہے۔

منجانب شعبہ پریس اینڈ پبلیکیشنز یونائیٹڈ پاکستان

السلام علیکم احباب! یونائیٹڈ پاکستان آن لائن ہفتہ وار ڈائیلاگ فورم بذریعہ گوگل میٹ درج ذیل شیڈول کے مطابق منعقد ہونا ہے:...
16/08/2026

السلام علیکم احباب!

یونائیٹڈ پاکستان آن لائن ہفتہ وار ڈائیلاگ فورم بذریعہ گوگل میٹ درج ذیل شیڈول کے مطابق منعقد ہونا ہے:

موضوع: سرمایہ داریت اور سامراجیت کے خلاف انقلابی جماعت کی ضرورت واہمیت

🕖 وقت: 7:00pm
📅 تاریخ 16 اگست بروز اتوار
📌 وینیو: آن لائن(گوگل میٹ)
میٹنگ کوڈ: dsy-itfk-iex

منجانب:
سنٹرل سیکرٹری دعوت یونائیٹڈ پاکستان

14 اگست 2026 کو آزادی کے دن کے موقع پر راولپنڈی ڈویژن کے زیر انتظام دعوتی سیمینار کا انعقاد کیا گیا ۔جس میں مرکزی جنرل س...
15/08/2026

14 اگست 2026 کو آزادی کے دن کے موقع پر راولپنڈی ڈویژن کے زیر انتظام دعوتی سیمینار کا انعقاد کیا گیا ۔
جس میں مرکزی جنرل سیکرٹری یونائیٹڈ پاکستان مہمان خصوصی میاں عادل احمد صاحب نے شرکت کی اور موضوع آزادی کا حقیقی مفہوم اور تقاضے پر نوجوانوں پر نوجوانوں کی ذہنی آبیاری کی ۔
سیمینار کی صدارت صدر راولپنڈی ڈویژن شاہزیب حیدر صاحب نے کی۔

نیز صدر صوبہ پنجاب علی محبوب صاحب،جنرل سیکرٹری صوبہ پنجاب سیف الرحمن صاحب اور سنٹرل پریس اینڈ پبلیکیشنز فدا علی رضا نے خصوصی شرکت کی ۔
سیمینار میں دوستوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور پاکستان کی سیاسی ، سماجی اور معاشی معاملات پر سوالات کئے اور اپنی رائے کا اظہار کیا ۔
اور یہ عہد کیا کہ پاکستان سے نظام سرمایہ داریت کا خاتمہ سوشلسٹ انقلاب کے زریعے یونائیٹڈ پاکستان کے پلیٹ فارم سے جلد از جلد کیا جائے گا .
منجانب : شعبہ پریس اینڈ پبلیکیشنز یونائیٹڈ پاکستان

اہل وطن کو جشن آزادی مبارکپاکستان کے عوام کی خوشحالی، امن، وحدت، عدل اور اجتماعی ترقی ہی حقیقی آزادی کا پیمانہ اور مادر ...
14/08/2026

اہل وطن کو جشن آزادی مبارک

پاکستان کے عوام کی خوشحالی، امن، وحدت، عدل اور اجتماعی ترقی ہی حقیقی آزادی کا پیمانہ اور مادر وطن پاکستان کی جغرافیائی سالمیت، سلامتی، آزادی اور خودمختاری کی ضمانت ہے۔ بدقسمتی سے آزادی کے فوری بعد ہی نیو کالونیل ازم کے تحت اور کالونیل ازم کے سٹرکچر کے ساتھ پاکستان پر مسلط گماشتہ سرمایہ داری نظام اور امریکی سامراجی غلبے کے نتیجے میں حقیقی آزادی کے درجہ بالا تقاضے تکمیل پذیر نہ ہو سکے۔ اس ضمن میں یونائیٹڈ پاکستان اجتماعی لیڈرشپ اور تربیت یافتہ تنظیمی کیڈرز کی تیاری میں مصروف عمل وہ سیاسی انقلابی پارٹی ہے کہ جو امام شاہ ولی اللّٰه کے فلسفہ و فکر کی بنیاد پر عدم تشدد کے اصول پر سوشلسٹ انقلاب برپا کر کے حقیقی آزادی کے درجہ بالا تقاضوں کی تکمیل اور اپنے آباؤ اجداد کے خوابوں کی تعبیر یقینی بنائے گی۔ تب پھر نہ صرف یہ کہ پاکستان کے 25کروڑ سے زائد عوام معاشی خوشحالی، امن، عدل، وحدت اور اجتماعی ترقی سے ہمکنار ہوں گے بلکہ مادر وطن پاکستان ناقابلِ تسخیر قوت بن کر اقوام عالم کی رہبری میں لیڈرشپ کا کردار ادا کرے گا۔ تب پھر جو جشن آزادی ہو گا وہ پاکستان کے 25کروڑ عوام کی بے پناہ امنگوں اور مسرتوں کے شدید ترین جذبات سے لبریز حقیقی جشن آزادی ہو گا۔

منجانب شعبہ پریس اینڈ پبلیکیشنز یونائیٹڈ پاکستان

14 اگست 2026ء یوم آزادی 14 اگست 2026ء کو قیام پاکستان کے 79 سال مکمل ہوگئے ہیں۔ یقیناً یہ موقع بھرپور جشن سے منانا بنتا ...
14/08/2026

14 اگست 2026ء یوم آزادی

14 اگست 2026ء کو قیام پاکستان کے 79 سال مکمل ہوگئے ہیں۔ یقیناً یہ موقع بھرپور جشن سے منانا بنتا ہے۔
آئیے اس موقع پر رک کر ہم اس بات پر غور کریں کہ آیا 79 سال گزر جانے کے باوجود ہم آزادی کے حقیقی ثمرات سے فیض یاب ہوئے ہیں یا نہیں۔ بدقسمتی سے انتہائی تلخ حقیقت یہی ہے کہ ہم آج تک آزادی کے حقیقی ثمرات سے فیض یاب نہیں ہو سکے۔ دراصل قیام پاکستان کے ساتھ ہی قائداعظم کی وفات کے بعد کھوٹے سکے پاکستان کے عوام کی گردنوں پر مسلط ہو گئے۔ ان کھوٹے سکوں کی یہ خصوصیت تھی کہ وہ پاکستان کے عوام اور پاکستان کی دھرتی کے غدار اور امریکی سامراج کے ایجنٹ اور آلہ کار تھے اور آج اناسی سال گزر جانے کے باوجود وہی کھوٹے سکے چہرے بدل بدل کر نسل در نسل پاکستان کے عوام کی گردنوں پر مسلط ہیں۔ یہ کھوٹے سکوں کا تسلط تھا کہ پاکستان اپنے قیام کے وقت سے ہی اپنے ریجن سے کٹ کر امریکی کیمپ میں چلا گیا جس نے آج تک ہمیں اپنا غلام بنا رکھا ہے۔ 1960ء کی دہائی میں پاکستان کی سیٹو اور سینٹو میں شمولیت بھی انھی کھوٹے سکوں کا شاخسانہ تھی۔ ضیاء الحق کی بدترین طویل آمریت اور اس کی کوکھ سے جنم لینے والا نام نہاد جہاد افغانستان، فرقہ واریت، بنیاد پرستی، انتہا پسندی ،دہشت گردی اور منشیات فروشی یہ سب مکروہ جرائم بھی انھی کھوٹے سکوں کے تسلط اور پاکستان پر قبضے کی وجہ سے ممکن ہو سکے۔

دراصل امریکی سامراج پہلے دن سے ہی یہ فیصلہ کر چکا تھا کہ نوزائیدہ ملک پاکستان کو اپنے مدمقابل طاقت سویت یونین کے خلاف اپنا اڈہ بنانا ہے۔ اور اسی مقصد کے لئے برطانوی استعمار کے ہندوستان پر قبضے کے دوران یہاں کے عوام سے غداری اور انگریز استعمار کی غلامی کا طوق اپنے گلے میں ڈالنے کے صلہ میں جاگیریں حاصل کرنے والے عناصر، سول و ملٹری بیوروکریسی، الیکٹیبلز، زرد صحافت اور علمائے سو و مشائخ سو پر مشتمل کھوٹے سکوں کا راج پاکستان پر قائم کیا گیا۔ پاکستان پر گماشتہ سرمایہ داری اور فرسودہ جاگیرداری نظام کا تسلط بھی انھی کے تحت برقرار رکھا گیا۔ 1971ء میں بنگلہ دیش کی ہم سے علیحدگی بھی اسی امریکی سامراجی کھیل کا حصہ تھی کہ جس کے تحت مغربی پاکستان پر مسلط کھوٹے سکوں کے ذریعہ بنگال کے عوام کے حقوق کو غصب کر کے علیحدگی کے کھیل کو منظم انداز میں مکمل کیا گیا تاکہ مشرقی پاکستان کے سامراج دشمن باشعور عوام مغربی پاکستان کو سویت یونین کے خلاف امریکی سامراجی اڈہ بننے سے روکنے کے لیے کوئی کردار ادا کرنے کے قابل نہ رہ سکیں۔ چنانچہ آج 79 سال گزرنے کے موقع پر ہم اپنے وجود قومی کا جائزہ لیں تو ہمارے سماج کا ہر پہلو تیزی سے زوال کی اتھاہ گہرائیوں میں ڈوبتا چلا جا رہا ہے۔ سیاست میں آمریت اور جمہوریت کی آنکھ مچولی جاری ہے۔ معیشت پر امریکی سامراج کے آلہ کار، ورلڈ بینک، آئی ایم ایف، ایشین ڈیویلپمنٹ بینک، ملٹی نیشنل کمپنیوں اور این جی اوز کا قبضہ ہے۔ سماج پر باطل مذہبی گروہوں کا غلبہ ہے، جو نفرت، تشدد، انتشار اور انسان دشمنی پر مبنی سوچ کو نوجوان نسل میں زہر کی طرح پھیلا رہے ہیں۔ سیاست دان کٹھ پتلی، آمریت زدہ، اقتدار پرست، مفاد پرست اور ذہنی طور سے دولے شاہ کے چوہے ہیں۔ ہمارا نام نہاد دانشور طبقہ معاشرے میں عقل و دانش، علم و شعور اور سائنسی انداز فکر کو فروغ دینے کے بجائے جھوٹ، مکروفریب، خوشامدی، جذباتیت اور سطحیت کو پروان چڑھا رہا ہے۔ ہمارے نام نہاد سول طبقات مغرب کی مرعوبیت کا شکار اپنی تاریخ، اپنی دھرتی کی روایات اور ارضی حقائق اور تقاضوں سے مکمل طور پر نابلد ہیں۔ ہماری درس گاہیں علم و شعور، سائنس اور فلسفہ پڑھانے کے بجائے ان کے نام پر جہالت، توہم پرستی اور دقیانوسیت کو فروغ دے رہی ہیں۔ پاکستان میں بڑھتی ہوئی بے ہنگم آبادی وہ ٹائم بم ہے کہ جس کی ٹک ٹک کی آواز کوئی سننے کے لیے تیار نہیں کہ جو (بے قابو ہو کر) پھٹ پڑا تو ہمارے وجود قومی کو برقرار رکھنا بھی مشکل ہو جائے گا۔ گلوبل وارمنگ اور ماحولیاتی تبدیلیاں ہمارے مستقبل کے لئے کتنا بڑا خطرہ ہیں اس کا کسی کو ادراک نہیں۔ جب ادراک ہی نہیں تو اقدامات پھر خاک ہوں گے۔ 79 سال کے بعد بھی ہم ایک حقیقی فیڈریشن کو تشکیل دینے میں ناکام ہیں کہ جو پاکستان کی تمام قومی اکائیوں کو قومی جمہوریت کی بنیاد پر مضبوط و مستحکم رشتوں میں پرو سکے۔

کھوٹے سکوں کے توسط سے پاکستان پر امریکی سامراجی غلبہ اور گماشتہ سرمایہ داری نظام کا ہی یہ شاخسانہ ہے کہ پاکستان کے پچیس کروڑ سے زائد عوام 79 سال گزر جانے کے باوجود غربت، جہالت، پسماندگی، بےروزگاری اور مہنگائی کے جہنم میں جل رہے ہیں، جبکہ مٹھی بھر اشرافیہ کا طبقہ پاکستان کے تمام تر وسائل اور خزائن پر قابض ہے۔ اس لئے یاد رکھیں ہم ابھی آزادی کے حقیقی ثمرات سے ہمکنار ہی نہیں ہوئے۔ اگر ہم حقیقی معنوں میں آزاد ہوتے تو ہماری معیشت پر جاگیردار، سرمایہ دار، آئی ایم ایف اور امریکی سامراج مسلط نہ ہوتا۔ اگر ہم حقیقی معنوں میں آزاد ہوتے تو ہمارا سیاسی بندوبست تبدیلی اقتدار کی آماجگاہ نہ ہوتا۔ اگر ہم حقیقی معنوں میں آزاد ہوتے تو ہمارا سماج آج بھی قبائلیت، برادری ازم، مذہبی منافرت، جذباتیت، تشدد اور منشیات سے آلودہ نہ ہوتا۔ اگر ہم حقیقی معنوں میں آزاد ہوتے تو ہماری خارجہ پالیسی امریکی سامراجی اثرات سے پاک، آزاد اور ریجن دوست ہوتی۔ اگر ہم حقیقی معنوں میں آزاد ہوتے تو ہمارا گرین پاسپورٹ دنیا میں عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا۔ اگر ہم حقیقی معنوں میں آزاد ہوتے تو ہماری قوم کا نوجوان سر فخر سے بلند کرکے اقوام عالم میں اپنی تخلیقیت کے جوہر دکھاتا۔

اگر ہم حقیقی معنوں میں آزاد ہوتے تو پاکستان قائداعظم کے وژن کے عین مطابق سیکولر، سوشلسٹ اور ڈیموکریٹک ملک ہوتا۔ ہماری معیشت ترقی یافتہ، سیاست جمہوری تسلسل کے ساتھ انتہائی مستحکم، فیڈریشن قومی جمہوریت کی بنیاد پر مضبوط رشتوں میں پروئی ہوئی ہوتی۔ تہذیبی، ثقافتی، لسانی اور قومی تشخصات کو برقرار رکھتے ہوئے اقوام عالم میں ہماری شناخت صرف اور صرف پاکستان/پاکستانیت ہوتی۔ ہم آزاد خارجہ پالیسی کے ساتھ ریجن اور دنیا کی اقوام سے تعلقات استوار کرتے۔

اگر ہم حقیقی معنوں میں آج تک آزادی سے ہمکنار ہی نہیں ہوئے تو اب ہمیں کیا کرنا چاہیے؟؟؟

اس یوم آزادی کے موقع پر آئیے ہم اس بات کا عہد کریں کہ ہم اپنے اسلاف بالخصوص بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح، علامہ اقبال اور سر سید احمد خان کے وژن کے عین مطابق پاکستان کی تشکیل جدید کے لیے یہاں پر جدوجہد انقلاب میں اپنا اپنا کلیدی کردار ادا کریں گے۔

پیش نظر رہے کہ 2011ء میں پاکستان کے باشعور نوجوانوں پر مشتمل یونائیٹڈ پاکستان کا قیام اسی مقصد کے تحت عمل میں لایا گیا کہ وطن عزیز پاکستان پر مسلط اس گلے سڑے فرسودہ جاگیرداری نظام، گماشتہ سرمایہ داری نظام اور امریکی سامراج کے خلاف برعظیم پاک وہند کے عظیم فلسفی امام شاہ ولی اللّٰه کے سماجی افکار پر عظیم الشان سیکولر، سوشلسٹ، نیشنلسٹ، ڈیموکریٹک، اور نیشنل ڈیموکریٹک انقلاب برپا کیا جائے۔ شاہ ولی اللّٰه وہ فلسفی ہیں جو دین اسلام کے ہزار سالہ دور کے عروج و زوال کے سنگم اور ہزاروں سال سے جاری زرعی عہد کے صنعتی عہد میں تبدیل ہونے کے دور میں پیدا ہوئے اور مشین ایج کے تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے دین اسلام کی جدید ترین عقلی تعبیر پیش کی جسے آج کی پولیٹیکل سائنس کی اصطلاحات میں شاہ ولی اللّٰه کے سب سے مستند شارح اور ان کی کل ولی اللہی تحریک کے ترجمان امام انقلاب عبیداللّٰه سندھی نے جدید ذہن کے سامنے پیش کیا۔

پاکستان کی آزادی کے دن کے اس موقع پر ہم پاکستان کے تمام عوام، مزدوروں، کسانوں، محنت کش طبقات اور بالخصوص نوجوانوں کو دعوت دیتے ہیں کہ آئیں اور یونائیٹڈ پاکستان کا دست و بازو بنیں تاکہ ہم بہت جلد وطن عزیز پاکستان کو فرسودہ جاگیرداری، گماشتہ سرمایہ داری نظام اور امریکی سامراجی غلبہ کے چنگل سے نجات دلا سکیں ۔

یاد رکھیں! یونائیٹڈ پاکستان کے اولوالعزم نوجوان یہ عہد کر چکے ہیں اور شب و روز اپنی تمام تر صلاحیتوں کے ساتھ اسی جدوجہد میں سرگرم عمل ہیں کہ ہم بہت جلد سر زمین پاکستان پر شاہ ولی اللّٰه کے فلسفہ و فکر اور اس کی عبیداللّٰه سندھی کی کی گئی تشریحات کی بنیاد پر اپنے اسلاف سرسید احمد خان، شیخ الہند محمود حسن، علامہ اقبال، قائداعظم محمد علی جناح اور شاہ سعید احمد رائے پوری کے وژن کے عین مطابق فرسودہ جاگیرداریت، گماشتہ سرمایت اور امریکی سامراجیت کے خلاف سیکولر، سوشلسٹ، نیشنلسٹ، ڈیموکریٹک اور نیشنل ڈیموکریٹک انقلاب برپا کر کے رہیں گے۔ جس کے نتیجے میں پاکستان حقیقی آزادی، امن، خوشحالی، عدل، وحدت اور ترقی سے ہمکنار ہو گا۔ پاکستان دنیا کی اقوام میں سربلند ہوگا۔ پاکستان کا شہری باوقار ہوگا اور پاکستان کی نوجوان نسل اقوام عالم اور اس لامتناہی کائنات میں اپنی تخلیقیت کے بے پناہ جوہر دکھائے گی۔ نیز اقوام عالم کی لیڈرشپ میں پاکستان کا کلیدی کردار ہو گا۔ تب پھر جو جشن آزادی ہو گا وہ پاکستان کے پچیس کروڑ سے زائد عوام کی بے پناہ امنگوں اور مسرتوں کے شدید ترین جذبات سے لبریز حقیقی جشن آزادی ہوگا۔

منجانب: شعبہ پریس اینڈ پبلیکیشنز یونائیٹڈ پاکستان

Address

Rawalpindi
46000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when United Pakistan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to United Pakistan:

Shortcuts

Share