MSF Renala Khurd

MSF Renala Khurd Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from MSF Renala Khurd, Political organisation, Renala.

29/07/2014
23/01/2013

نواز شریف کے بعد آج چوہدری نثار بھی کھل کر بھارت کے خلاف بولے بلکہ نہ صرف بولے الٹا آرمی کو یہ بھی بول دیا کہ آپ جواب دیں ساری اپوزیشن آپ کے ساتھ ہے اس کے ساتھ ساتھ چوہدری نثار نے ڈیفینس ڈاکٹرائن کو بھی نا منظور کر دیا جس کے مطابق پاکستان کا سب سے برا دشمن اب بھارت نہیں ...

کیا آپ نے عمران خان کے منہ سے اس سرے معاملے پر ایک بھی بات سنی ؟

جو مسلہ کشمیر کو پس پشت ڈال دے اور کشمیری مجاہدین کو دہشت گرد گردانے اور شہیدوں کے لئے گیاری جانے کی بجانے یہ بول دے کہ مرے پاس پیسے نہیں مگر وہ اگلے ہی دن میچ دیکھنے دبئی ہو وہ بھی ذاتی جہاز پر وہ کیسے اس معملے پر بول سکتا ہے !

جشن آزادی مبارک
13/08/2012

جشن آزادی مبارک

وزیراعظم نا اہل ہوگئے،حکومت نوٹی فکیشن جاری کرے، سپریم کورٹاسلام آباد…سپریم کورٹ نے اسپیکر رولنگ کیس میں فیصلہ دیا ہے کہ...
19/06/2012

وزیراعظم نا اہل ہوگئے،حکومت نوٹی فکیشن جاری کرے، سپریم کورٹ

اسلام آباد…سپریم کورٹ نے اسپیکر رولنگ کیس میں فیصلہ دیا ہے کہ گیلانی نا اہل ہو گئے ہیں اور وزیراعظم کا عہدہ 26اپریل سے خالی ہو گیا۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں سات رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ یوسف رضا گیلانی نااہل ہو گئے ، فیصلے کے خلاف کوئی اپیل داخل نہیں کی گئی، وزیراعظم کاعہدہ 26 اپریل سے خالی ہے۔ عدالت نے صدر پاکستان کو ہدایت کی کہ وہ پاکستان میں جمہوریت کاتسلسل جاری رکھنے کیلئے اقدامات کریں۔ عدالت نے الیکشن کمیشن کو ہدایت کی کہ وہ فوری طور پر یوسف رضا گیلانی کی نا اہلی کا نوٹی فکیشن جاری کرے۔ اس سے قبل سماعت کے دوران چیف جسٹس افتخارمحمدچودھری نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سزا معطل ہو سکتی تھی مگر اپیل نہیں کی گئی، اپیلیٹ کورٹ کے علاوہ کوئی عدالتی فیصلہ ختم نہیں کرسکتا۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے ریمارکس دیئے کہ آئین سب سے مقدم ہے ، کوئی نہیں جانتاکہ وہ آج ہے، کل نہ ہو، وزیراعظم بھی آج ہیں ، شایدکل نہ ہوں۔ دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کیا اسپیکر سات رکنی بنچ کے فیصلے کی اسکروٹنی کریں گی ،اس بات کی اجازت دے دی گئی تو عدلیہ کی آزادی کہاں ہو گی۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے ریمارکس دیئے کہ سات ججز نے طے کر دیا کہ وزیراعظم سزا یافتہ ہے، اپیل بھی نہیں کی گئی ،نوٹیفیکیشن تو عدالت نے نہیں کرنا۔ اٹارنی جنرل عرفان قادرنے دلائل میں کہاکہ عدالت اسپیکر کے خلاف کوئی فیصلہ سنا دے تو پارلیمنٹ اسے ختم کرسکتی ہے۔ اٹارنی جنرل نے یہ بھی کہاکہ سات ججوں کو وزیراعظم کو شک کا فائدہ دینا چاہیے لیکن انہیں سزا دے دی گئی۔ اٹارنی جنرل نے دلائل مکمل کئے تو چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے درخواست گزار کے وکیل اے کے ڈوگر کو دلائل دینے کا کہا اور استفسار کیا کہ اعتراز احسن کا اعتراض ہے کہ درخواست گزاروں کا بنیادی حق متاثر نہیں ہوا ،اس پر ان کا کیا موقف ہے۔ جسٹس خلجی عارف نے پوچھا کہ کوئی فرد غلط یا صحیح طور پر رکن اسمبلی رہتا ہے تو آپ کا کونسا حق متاثر ہوتا ہے، اس پر اے کے ڈوگر نے کہا کہ انصاف کی فراہمی کے لئے آزاد عدلیہ ہر شہری کا حق ہے اور ان کا یہ حق متاثر ہوا ہے۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے ریمارکس دئے کہ ہر بنیادی حق کا نفاذ انتظامیہ کی ذمہ داری ہے۔ آئین کہتا ہے کہ ججز یہاں بیٹھیں اور وزیراعظم وہاں، ہم سب عوام کے تنخواہ دار ہیں۔ اس پر اے کے ڈوگر نے کہا کہ عوام اس وقت بھوکے مر رہے ہیں۔ عمران خان کے وکیل حامدخان نے دلائل میں کہاکہ وہ چاہتے ہیں کہ الیکشن کمیشن یوسف رضا گیلانی کی بطور رکن قومی اسمبلی معطلی کا نوٹی فی کیشن کرے۔چیف جسٹس نے ان سے استفسارکیاکہ کیا آئین میں 63 ون جی کے تحت ہونے والی نااہلی پر اپیل کا حق دیا گیا ہے۔اس پرحامدخان کاکہناتھاکہ جی نہیں۔ حامدخان نے دلائل میں کہاکہ وزیراعظم کو آرٹیکل 248 کے تحت جائز اقدام پر استثناء ہو گا،عدالتی حکم کی خلاف ورزی پر کوئی استثناء نہیں ہوتا۔ اسپیکررولنگ کیس کی سماعت مکمل کرلی۔
YW>OK>RK

Like And Share If You Love MSF PML(N)
31/05/2012

Like And Share If You Love MSF PML(N)

اللہ اکبر... اللہ اکبر... اللہ اکبر... اللہ اکبر... اللہ اکبر... اللہ اکبر.... اللہ اکبر... اللہ اکبر... اللہ اکبر******...
28/05/2012

اللہ اکبر... اللہ اکبر... اللہ اکبر... اللہ اکبر... اللہ اکبر... اللہ اکبر.... اللہ اکبر... اللہ اکبر... اللہ اکبر
*************28 مئی .......... یوم تکبیر***************
ایٹمی دھماکےکرکے پاکستان کادفاع ناقابل تسخیربنادیا:
چوہدری عثمان

سعودی عرب(چوہدری عثمان عبدالله): نعرہ تکبیر ہرمسلمان کی قوت ایمانی کاآئینہ دار ہے ۔اللہ اکبر کی صدا سے دشمن پر ہیبت طاری ہوجاتی ہے اوراس کے پاﺅں اکھڑ جاتے ہیں۔پاکستان نے28مئی 1998ءکو ہندوستان کے ایٹمی دھماکوں کے جواب میں ایٹمی دھماکے کرکے پاکستان کادفاع ناقابل تسخیر بنادیا ۔ 14اگست 1947ءقیام پاکستان اور28مئی 1998ءاستحکام پاکستان کا دن ہے ۔ آزادی اورعزت خیرات میں نہیں ملتی اسے پانے اوربچانے کیلئے سردھڑ کی بازی لگانا پڑتی ہے۔ہندوستان شروع دن سے پاکستان کی سا لمیت کادشمن ہے۔ سقوط ڈھاکہ کی سازش میں جہاں ہمارے کچھ اپنوں کا بڑامنفی کردارتھا وہاں اندرا گاندھی حکومت بھی پیش پیش تھی۔تنازعہ کشمیر کے باعث اب تک پاکستان اورہندوستان کے درمیان براہ راست دوتین بارتصادم ہوچکا ہے،تاہم سردجنگ آج بھی جاری ہے اورابھی دوردور تک اس کااختتام ہوتا دکھائی نہیں دیتا ۔کارگل کی آگ اگر نہیں پھیلی تواس کاکریڈٹ بھی دونوں ملکوں کی جمہوری قیادت اور ایٹمی طاقت کوجاتا ہے۔ بھارت نے ایٹمی دھماکے کئے تواس سے پاکستان میں بے چینی اور بے یقینی کا پیداہونا فطری تھا۔ہندوستان کی ایٹمی طاقت پاکستان کی آزادی اورعزت دونوں کیلئے ایک بڑاچیلنج تھی ۔ایٹمی قوت نے بھارت کے جنگی جنونی حکمرانوں کا دماغ مزید خراب کردیااور انہوں نے پاکستان کیخلاف جارحانہ بیانات اوراقدامات کاآغازکردیا ۔بھارت کے حکمرانوں اورمتعصب سیاستدانوں کالب ولہجہ توہین آمیز اورتکبر کاآئینہ دار تھا۔تحریک آزادی کشمیر سے دستبردار نہ ہونے کی صورت میںپاکستان سے آزاد کشمیرچھین لینے کی دھمکیاں دی جارہی تھیں۔پاکستان اور ہندوستان کے بار ے مغرب کاڈبل اسٹینڈرڈ بھی ایکسپوز ہوچکا تھا۔پاکستان کومسلسل دباﺅ اورخطرات کاسامنا تھا ۔ ایسے میں قوم کوایک نڈرقیادت اور پاکستان کوقومی یکجہتی کی اشد ضرورت تھی ۔ہندوستان کی طرف سے ایٹمی دھماکوں کے بعدخطے میں طاقت کا توازن بری طرح بگڑ گیاتھا ۔برصغیر پر جنگ کاخطرات منڈلارہے تھے۔کشمیر کی آزادی کا خواب بکھرتا ہوانظر آرہاتھا۔یہ صورتحال میاں نوازشریف اوران کی کابینہ کیلئے ایک بڑاامتحان تھی، انہوں نے پورے تحمل اور بھرپورطاقت سے اس کا جواب دیا۔ اس آزمائش میں میاں نوازشریف بجاطور پر قوم کی امیدوں پر پوراترے ۔ پاکستان کے غیورعوام گھاس کھانے اوراپنے اپنے پیٹ پرپتھر باندھنے کیلئے بھی تیار تھے لیکن انہیں کسی قیمت پر بھارت کی بالادستی قبول نہیں تھی۔ ہندوستان کے تکبر کاجواب پاکستان نے نعرہ تکبیر سے دیا۔

ایٹمی دھماکوں سے قبل میاں نوازشریف نے اپنے جہاندیدہ والد میاں محمدشریف جو فہم وفراست اوراستقامت کاپیکر تھے،ان سے مشاورت کرنے اورکابینہ سمیت پارلیمنٹ کواعتماد میں لینے کے بعدایٹمی دھماکوں کاآبرومندانہ اور جرات مندانہ فیصلہ کیا۔امریکہ ،برطانیہ ،جاپان اورفرانس سمیت متعدد ملک پاکستان پر ایٹمی دھماکے نہ کرنے کیلئے دباﺅڈال رہے تھے۔قومی ہیرو اور پاکستان کے محسن ڈاکٹر عبدالقدیرخان راوی ہیں کہ صدر بل کلنٹن نے پاکستان کوایٹمی دھماکوں سے باز رکھنے کیلئے دباﺅ کے ساتھ میاں نوازشریف کومراعات کالالچ بھی دیا حتیٰ کہ ان کے پرائیویٹ اکاﺅنٹ میں 100ملین ڈالرزکی خطیررقم جمع کروانے کی آفر کی لیکن صدآفرین ہے میاں نوازشریف پر جودباﺅ کے سامنے ڈٹ گئے اورپاکستان نے ہندوستان کی بالادستی کا خواب چکناچورکرکے برصغیرمیںطاقت کاتوازن قائم کردیا۔برصغیر میںایٹمی طاقت کی دوڑ کاآغاز انڈیا نے کیا اگر وہ ایسا نہ کرتا تو شاید پاکستان بھی اس ریس میں شامل نہ ہوتا۔تاہم پاکستان کی جوہری صلاحیت خالصتاًپرامن اوردفاعی مقاصد کیلئے ہے۔پاکستان آج بھی جیو اورجینے دوکے اصول پرکاربند ہے۔

یوم تکبیر اپنے نام کی طرح ایک بڑا دن ہے۔یہ دن قومی توقیر او رہمارے خوابوں کی تعبیر کادن ہے ۔یوم تکبیر ایک قومی دن ہے اوراسے قومیدن کی طرح منایا جانا چاہئے ۔زندہ دل قومیں اپنے قومی دن تجدید عہداورجوش وخروش کے ساتھ منایا کرتی ہیں۔ یوم تکبیرکے حوالے سے پرویز مشرف کے دور میںسرکاری سطح پرتقاریب کاا نعقادنہ کیا جاناقابل افسوس ہے ،تاہم اس حوالے سے ہرسال پاکستان کے محب وطن عوام نے گھر گھر قومی پرچم لہرائے اور چراغاں کرکے زندہ دل قوم ہونے کاثبوت دیا۔یوم تکبیر صرف پاکستان مسلم لیگ (ن)کانہیں ہرسچے پاکستانی کادن ہے۔ امسال بھی مسلم لیگ (ن) سمیت محب وطن جمہوری قوتوں نے پاکستان سمیت دنیا بھر میں یوم تکبیر منانے کااہتمام کیا ہے۔ جاپان،برطانیہ ،امریکہ ،فرانس اورکینیڈامیںبھی مسلم لیگ (ن) کے پرچم تلے یوم تکبیرکی تقریب سعید شایان شان انداز سے منائی جائے گی۔

بہر کیف ذوالفقارعلی بھٹو سے میاں نوازشریف اورڈاکٹرعبدالقدیرخان تک ہروہ شخصیت قابل تحسین ہے جس نے پاکستان کے نیوکلیئر پروگرام کی بنیاد رکھی ،اسے پروان چڑھایا اوراسے پایہ تکمیل تک پہنچایا۔ جن حالات میں میاں نوازشریف نے ایٹمی دھماکوں کافیصلہ کیا وہ ان کی وطن دوستی کا زندہ ثبوت ہیں ۔ میاں نوازشریف بیرونی دباﺅ کامقابلہ کرنے میں اسلئے کامیاب رہے کیونکہ ان کے ساتھ عوام کی طاقت اور پارلیمنٹ کی سپورٹ تھی ۔اگر انہیں بھی جنرل پرویزمشرف کی طرح تنہا فیصلے کرنے کی عادت ہوتی تووہ صدربل کلنٹن کے ایک بار کہنے پرہی ان کے تمام مطالبات مان کر پاکستان کی داخلی خودمختاری اورآزادی کو قربان کر دیتے جس طرح پرویز مشرف نے9/11کے بعد کالن پاﺅل کی ایک فون کال پر ان کی تمام شرائط تسلیم کرلی تھیں۔مگر ایسا نہیں ہوا کیونکہ اس وقت پاکستان میں جمہوریت بحال اورسیاسی قیادت برسراقتدار تھی۔حالات وواقعات اس بات کے گواہ ہیں کہ فوجی نہیں صرف قومی قیادت ہی مقبول فیصلے کرسکتی ہے۔پاکستان کے میزائل پروگرام نے بھی سیاسی اورجمہوری دورحکومت میں کامیاب تجربات کے مراحل طے کئے۔آج اگر پاکستان اپنے دشمن ہندوستان کے ساتھ آنکھ میں آنکھ ڈال کربات کرسکتا ہے تواس کا کریڈٹ بھی ہماری نڈرسیاسی قیادت کوجاتا ہے۔ الحمدللہ آج کوئی ملک پاکستان کی سا لمیت کومیلی آنکھ سے دیکھنے کاتصور بھی نہیں کرسکتا ۔پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کے حوالے سے خطرات کاپروپیگنڈا بے بنیاداوردیوانے کا خواب ہے۔جو ملک ایٹمی بم بناسکتا ہے وہ اس کی حفاظت بھی کرسکتا ہے،امریکہ کو خوامخواہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔پاکستان کے نیوکلیئر اثاثوں کوکس سے خطرہ ہے اورانہیںکس طرح بچانا ہے یہ ہم بخوبی جانتے ہیں۔

19/05/2012

زرداری برانڈجمہوریت پرویزی آمریت سے بدتر ہے: چوہدری عثمان

سعودی عرب: پاکستان مسلم لیگ(ن) کے رہنما چوہدری عثمان عبدالله نے کہا ہے کہ زرداری برانڈجمہوریت پرویزی آمریت سے بدتر ہے ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے سعودی عرب کے دورہ کے موقع پر
کنگ فہد انٹرنیشنل ائیرپورٹ الدمام میں پریس کانفرنس کر تے ہوئے کیا۔
انہوں نے کہا کہ اگر ملک بچاناہے توسروں اورصوبوں کوجوڑناہوگا۔ صوبائیت کے نام پرنفاق کابیج بونے والے سیا سی بونے قابل رحم نہیں ہیں۔آپس میںدل جوڑے بغیر ہم ملک دشمن قوتوں کامقابلہ نہیں کرسکتے۔ہمارے درمیان نااتفاقی اورناچاکی سے دشمن ملک بھرپورفائدہ اٹھاتا ہے ۔مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے قومی بحرانوں پرقابوپانے کیلئے ایک متفقہ قومی ایجنڈابنانے کی تجویز دی ہے مگربدقسمتی سے اس باربھی حکمران سنجیدہ نہیں ہیں ۔قومی یکجہتی کے فروغ اورعدالتی فیصلوں کے احترا م کویقینی بناکرہم بڑے سے بڑے خطرے کامقابلہ کرسکتے ہیں۔اپنے ایک بیان میں چوہدری عثمان نے مزید کہا کہ سندھ اوربلوچستان کی محرومیوں کامداوا میاں نوازشریف کے سواکوئی نہیں کرسکتا۔میاں نوازشریف کے سندھ کے حالیہ دوروں سے سیاسی طورپروہاں کی کایا پلٹ گئی ہے ،اب انتخابات سمیت کسی بھی ایشوپرسندھ کارڈ کیش نہیں ہوگا ۔انہوں نے کہا کہ میاں نوازشریف صوبوں اورجمہوری قوتوں کے درمیان ایک مضبوط پل کاکرداراداکررہے ہیں ۔میاں نوازشریف فیڈریشن کی مضبوطی کیلئے پل تعمیر کرتے ہیں جبکہ پیپلزپارٹی کی قیادت توڑنے کے درپے ہے۔انہوں نے کہا کہ شریف برادران کیخلاف نام نہاد منی لانڈرنگ ریفرنس جھوٹ کاپلندہ اورجمہوریت کے گلے کاپھنداہے۔بدعنوان اورنادان حکمران ہرطرف سے نامراداورمایوس ہونے کے بعدسیاسی انتقام اورذاتیات پراترآئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ چیئرمین نیب ایڈمرل (ر)فصیح بخاری کی صدرزرداری کے ساتھ وفاداری اورجانبدار ی کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔اس قسم کے ہتھکنڈوں سے مرعوب ہوکرمیاں نوازشریف کااٹھاہواقدم اب پیچھے نہیں ہٹ سکتا۔

21/04/2012

پہلے سیاچن
اور اب بھوجا ہوائی حادثہ.

اےپروردگار!

اگرکہیں ہم سےبھول چوک میں یا جان بوجھ کر جو بھی گناہ ہوئے ہیں ان پر ہماری بخشش کر. اور ہم پر اپنی رحمت تمام کر اور ہمارا شمار ان لوگوں میں کر جو تیرے محبوب بندےہیں. پاکستان کی اور تمام مسلم ممالک کی حفاظت فرما.

آمین ثم آمین

Address

Renala

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when MSF Renala Khurd posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share