Mohsin Ur Rehman Khosa

Mohsin Ur Rehman Khosa Blogger & Social Activist

لاہور کی ایک بیٹی کی میت اس وقت اسکردو کے اسپانٹک پہاڑ پر 6,400 میٹر کی بلندی پر موجود ہے۔ مقامی ریسکیو اہلکار مبینہ طور...
22/08/2026

لاہور کی ایک بیٹی کی میت اس وقت اسکردو کے اسپانٹک پہاڑ پر 6,400 میٹر کی بلندی پر موجود ہے۔ مقامی ریسکیو اہلکار مبینہ طور پر میت کو نیچے لانے کے لیے 30 لاکھ روپے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔یہ تیسری رات ہے کہ ڈاکٹر اسما مشاق کی بے جان لاش پہاڑ پر پڑی ہے اور ایک باعزت اور محفوظ طریقے سے میت کی واپسی کی منتظر ہے۔

21/08/2026

‏جیل میں کیمرے بھی ہیں اور مائکس بھی۔ کہیں عمران خان نے ڈیل مانگی ہے یا سہولیات مانگی ہیں یا اس پر رضامندی ظاہر کی ہے تو اٹھا کر ہمارے منہ پر مار دو۔ اگر نہیں تو اپنا منہ صاف کرلو۔ رات کو نیازی تھوک کر چلا گیا ہے۔

20/08/2026

میرے وزیرآعظم میرے قائد عمران احمد خان نیازی کا قافلہ عدالتی حُکم کے مُطابق شفا انٹرنیشنل ہسپتال کی طرف روانہ ہے۔

20/08/2026

‏انٹرنیشنل میڈیا جب ان سے عمران خان کے مقدمات پر سوال کرتا ہے تو کہتے ہیں ، کہ جی ہماری عدالتیں آزاد ہیں ، عمران کا فیصلہ عدالتیں کریں گی ہمارا کیا لینا دینا۔؟ اور جب عدالت فیصلہ دے دیتی ہے تو ٹاوٹس اعلانیہ اس فیصلے کی توہین کرتے ہوئے کہتے ہیں اس پر عمل نہیں ہو گا کر لو جو کرنا ہے۔صرف عمران خان کی اسپتال منتقلی نہیں بے شمار ایسے فیصلے ہیں جنہیں سرکار نے جوتے کی نوک پر رکھا ہے۔
‏خیبر پختونخوا اور پنجاب اسمبلی الیکشن کا فیصلہ ہو
‏پی ٹی آئی کی مخصوص نشستوں کا فیصلہ ہو
‏یا عمران خان سے ملاقاتوں کا فیصلہ
‏ان تمام عدالتی فیصلوں کے سامنے پتھر کی دیوار بن کر لھڑی ہوئی ہے حکومت۔ اس سب کے بعد انٹرنیشنل میڈیا پر آپ کا دعوی عدالتی نظام کا تمسخر اڑانے کے سوا کچھ نہیں ۔دنیا کیوں سرمایہ کاری کرے گی ایسے ملک میں جہاں عدالتوں کی رٹ نہ ہو؟ جہاں ایک قیدی کو تو ملک کے اندر علاج نہ کرانے دیا جائے اور دوسرا قیدی ملک سے فرار ہو جائے ، ایسے نظام کو کون پسند کر کے وہاں اپنا پیسہ لگائے گا؟ انویسٹر بے آئین و قانون زمین پر اپنا پیسہ کیوں ڈبویے گا؟ دنیا آپ کے اس عدالتی نظام کی کیوں عزت کرے گی جس کئ عزت آپ خود نہیں کرتے ؟

‏زبردستی کی شادی تسلیم نہ کرنے پر والدین نے لاہور سے بیٹی کو اسلام آباد بلا کر قتل کردیا۔قتل کا واقعہ اسلام آباد کے تھان...
18/08/2026

‏زبردستی کی شادی تسلیم نہ کرنے پر والدین نے لاہور سے بیٹی کو اسلام آباد بلا کر قتل کردیا۔قتل کا واقعہ اسلام آباد کے تھانہ نیلور کی حدود میں پیش آیا

‏حنا کی شادی نوید حسن نامی نوجوان سے اسکی مرضی کے خلاف کی گئی تھی۔حنا ظرہف کو 13 اگست کو والد لاہور سے لیکر اسلام آباد ائے۔حنا شادی سے ناخوش تھی اور عدالت سے خلع لیا تھا

‏حنا کے والد اپنی بیٹی سے معاہدہ کرکے اسے گھر لائے کہ اسے نقصان نہیں پہنچایا جائے گا۔گھر پہنچتے ہی اہلخانہ نے لڑکی کو قتل کردیا

15/08/2026

‏کیا یہ اس ملک کے مناظر ہیں جسکی غربت کی ماری عوام پر ہر روز ایک نیا بوجھ یہ کہہ کر ڈال دیا جاتا ہے کہ ملک مشکل میں ہے ؟؟؟؟؟

amazing
12/08/2026

amazing

🗳️ *Nothing About Youth, Without Youth*

Participants of the Dustoor Civic Lab at Bahria University Islamabad Campus are tackling real issues through the DUSTOOR Civic Hero Challenge.

Hania Khalid, Muhammad Ayaan, Muhammad Bilal, and Abdul Manan are addressing the gap between young people and the institutions that make policy, pointing out how much of Pakistan's population feels unheard in these spaces.

Their proposal: a structured platform called “One Hour with Youth” to open direct dialogue and channeled representation between youth and policymaking stakeholders.

Share your thoughts on their civic action. Voting closes August 13 at 11:59 PM. Like and comment to cast your vote, strong engagement moves this team closer to the Civic Hero Award.

27/07/2026

‏ڈی چوک، مرید کے، بلوچستان، پختونخواہ، اور آج راولاکوٹ۔ آنے والے دور کا مؤرخ جب بھی اس عہد کی تاریخ قلم بند کرے گا، تو وہ یہ لکھے بغیر آگے نہیں بڑھ سکے گا کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں زیرِ عتاب رہنے کا بدلہ اس ملک کے عوام سے لیا۔ آئین، جمہوریت، انسانی حقوق اور شخصی آزادیوں کو جتنا نقصان ان دو سیاسی جماعتوں کے ہاتھوں پہنچا، اتنا تو ملکی تاریخ کا کوئی آمر بھی نہ کرسکا۔

‏منڈی بہاؤالدین سے تعلق رکھنے والا شبر عباس پانچ سال سے اٹلی میں اپنی فیملی سمیت رہ رہا تھا۔ یہ لوگ اٹلی کے دیہی قصبے نو...
17/07/2026

‏منڈی بہاؤالدین سے تعلق رکھنے والا شبر عباس پانچ سال سے اٹلی میں اپنی فیملی سمیت رہ رہا تھا۔ یہ لوگ اٹلی کے دیہی قصبے نوویلارا میں کھیتوں میں مزدوری کرتے تھے۔ شبر کی ایک 18 سالہ بیٹی ثمن عباس تھی۔ ٹک ٹاک کے ذریعے ثمن کی دوستی اٹلی ہی میں ایک اور پاکستانی لڑکے ثاقب ایوب کے ساتھ ہوگئی۔

‏ایک روز ثمن کے والدین کے پاس ثمن اور ثاقب کی ایک تصویر پہنچی، جس میں وہ دونوں ایک سڑک پر سرِعام بوس و کنار کر رہے تھے۔ اس تصویر سے ثمن کے والدین شدید طیش میں آگئے۔ مزید یہ کہ ثاقب کا تعلق ایک نچلی ذات سے تھا۔ والدین نے ثمن کا رشتہ پاکستان میں اس کے ایک اور کزن اکمل سے طے کر دیا، لیکن ثمن نے اس زبردستی کی شادی سے مکمل انکار کر دیا۔

‏ثمن پر جب مزید دباؤ بڑھا تو اس نے پولیس سے مدد مانگی کہ اسکے والدین اس کی زبردستی شادی کرنا چاہتے ہیں۔ نومبر 2020ء میں ثمن کو ایک شیلٹر ہوم میں منتقل کر دیا گیا تاکہ والدین اسے کوئی نقصان نہ پہنچا سکیں۔ والدین اسے پیار محبت کے مختلف حیلے بہانوں سے بلاتے رہے، حتیٰ کہ اپریل 2021ء میں ثمن گھر آگئی۔

‏لیکن کچھ روز بعد جب ثمن سے ثاقب کا رابطہ نہ ہوسکا تو اس نے پولیس کو اطلاع دی۔ پولیس 5 مئی کو ثمن کے گھر پہنچی تو وہاں ثمن کا چچا دانش اور چھوٹا بھائی علی حیدر ملے، جنہوں نے متضاد بیانات دیے۔ اگلے دن گھر میں صرف کمسن علی ملا، جسے پولیس نے حفاظتی تحویل میں لے لیا۔ تفتیش کے دوران پولیس کو گھر کے قریب لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی 29 اپریل کی فوٹیج ملی، جس میں ثمن کے چچا، دو کزن اور والدین بیلچے، لوہے کے راڈ اور بالٹی لے کر جاتے اور تقریباً ڈھائی گھنٹے بعد واپس آتے دکھائی دیے۔ اگلی رات (30 اپریل) ثمن کو اس کے والدین کے ساتھ باہر جاتے دیکھا گیا، جس کے بعد وہ کبھی زندہ نہیں دیکھی گئی۔

‏وقوعے کے بعد یہ تمام افراد اٹلی سے فرار ہوگئے، جن کی گرفتاری کے لیے اٹلی پولیس نے انٹرپول و دیگر ذرائع سے مدد لی۔ چنانچہ مئی 2021ء کے آخر میں کزن اکرام فرانس سے، چچا دانش ستمبر 2021ء میں فرانس ہی سے، کزن نعمان فروری 2022ء میں اسپین سے، والد شبر عباس نومبر 2022ء میں پاکستان سے گرفتار ہو کر اگست 2023ء میں اٹلی کے حوالے کیا گیا، جبکہ والدہ نازیہ تین سال تک مفرور رہی اور بالآخر 31 مئی 2024ء کو آزاد کشمیر کی سرحد کے قریب ایک گاؤں سے انٹرپول اور پاکستانی پولیس کے مشترکہ آپریشن میں گرفتار ہوئی اور اگست 2024ء میں اٹلی لائی گئی۔ تفتیشی رپورٹ میں شبر عباس کو "جھگڑالو، جلد غصہ کرنے والا اور شراب کا عادی" شخص قرار دیا گیا۔

‏دورانِ تفتیش چچا دانش حسنین نے ایک امام مسجد کے سمجھانے پر ثمن کے قتل کا اعتراف کر لیا اور بتایا کہ اسے 30 اپریل اور یکم مئی 2021ء کی درمیانی شب قتل کیا گیا۔ دانش کی نشاندہی پر ثمن کی لاش گھر کے قریب ایک ویران فارم ہاؤس سے ملی۔ پوسٹ مارٹم اور دانتوں کے تجزیے سے تصدیق ہوئی کہ اس کا گلا گھونٹ کر قتل کیا گیا تھا، جس سے گردن کی ہڈی ٹوٹ چکی تھی۔

‏ملزمان کے خلاف 10 فروری 2023ء کو ٹرائل کا آغاز ہوا۔ استغاثہ نے سی سی ٹی وی فوٹیج، مقتولہ کا ڈی این اے، پوسٹ مارٹم رپورٹ اور ثمن کے 16 سالہ چھوٹے بھائی علی حیدر کا بیان پیش کیا۔ بھائی نے گواہی دی کہ فیملی پر غیرت کا بہت دباؤ تھا، چچا اور کزن نے ہی ثمن کی قبر کھودی تھی۔ عدالت میں کسی ملزم نے اعترافِ جرم نہیں کیا، الٹا ایک دوسرے پر ملبہ ڈالتے رہے۔ والد شبر نے عدالت میں روتے ہوئے بیان دیا کہ وہ بے گناہ ہے۔ وہ بیٹی کے پیچھے صرف یہ دیکھنے کیلئے گئے تھے کہ وہ کہاں گئی ہے، کیونکہ رات کا وقت تھا، دیر ہو چکی تھی۔ چچا اور کزن کے وکلاء نے سزا میں رعایت کی استدعا کی۔

‏ٹرائل کورٹ نے 19 دسمبر 2023ء کو فیصلہ سنایا، جس میں والدین کو قتل اور خاندانی رشتے کے تقدس کو پامال کرنے پر عمر قید، جبکہ چچا دانش کو قتل اور لاش چھپانے کے الزام میں 14 سال قید کی سزا سنائی۔ عدالت نے چھوٹے بھائی علی حیدر کی گواہی کو ناقابلِ اعتبار قرار دیتے ہوئے دونوں کزنوں کو بری کر دیا۔ ٹرائل کورٹ فیصلے کے مطابق ثاقب نے ثمن کی گمشدگی کے اگلے ہی روز واٹس ایپ پر ایک اور لڑکی سے دوستی شروع کر دی تھی۔ (ثاقب ہرجانے کیلئے ثمن کیس میں بطور گواہ شریک ہوا، لیکن اس کے رویے اور غلط بیانی سامنے آنے پر اس کی ہرجانے کی استدعا مسترد کر دی گئی)

‏اس فیصلے کیخلاف دونوں فریق اپیل میں گئے۔ ایپلٹ کورٹ نے علی حیدر کے بیان کو قابلِ اعتبار قرار دیتے ہوئے والدین کی عمر قید برقرار رکھی، چچا دانش کی سزا 14 سال سے بڑھا کر 22 سال کر دی (لاش کی نشان دہی پر کچھ رعایت دی گئی)، جبکہ بری ہونے والے دونوں کزنوں کو مجرم قرار دے کر عمر قید کی سزا سنائی۔

‏اس فیصلے کے خلاف ملزمان نے سپریم کورٹ آف اٹلی میں اپیل دائر کی، جس کا فیصلہ کل 15 اپریل کو سنایا گیا۔ ‏عدالت نے قرار دیا کہ یہ قتل کوئی اچانک یا وقتی اشتعال کا نتیجہ نہیں تھا، بلکہ انتہائی بے دردی سے باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا تھا۔ والدین اس جرم سے بری الذمہ نہیں ہو سکتے، کیونکہ انہوں نے خود اپنی بیٹی کو قاتلوں کے حوالے کیا تھا، اور ان کا فوری طور پر پاکستان فرار ہونا ان کے گناہ گار ہونے کی واضح دلیل ہے۔ اٹلی کی سرزمین پر کسی بھی ثقافتی یا مبینہ مذہبی روایت کی آڑ میں کسی بھی خاتون کی آزادی، وقار اور جینے کے حق کو سلب کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دی جا سکتی۔ یہ اصول ناقابلِ سمجھوتہ ہیں۔

‏سپریم کورٹ نے اپیل خارج کرتے ہوئے ایپلٹ کورٹ کی دی گئی تمام سزائیں برقرار رکھیں۔
‏۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
‏☆ اٹلی میں سزائے موت پر 1948ء سے پابندی ہے، وہاں سب سے بڑی سزا عمرقید ہے، جسکی مدت عام طور پر 26 سال تک ہوتی ہے۔

16/07/2026

جنازوں کو پہاڑوں سے اتارنے کے لیے پیسے نہیں تھے،
‏مگر بندروں کو لاہور سے، اسلام آباد سے اور بیرون ملک سے بلوا کر اکٹھے کر کے کویٹہ میں وہاں پر تیرے نال میں نچنا وے پر بھنگڑے ڈلوائے جائے رہے تھے،

Address

Sahiwala

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Mohsin Ur Rehman Khosa posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Mohsin Ur Rehman Khosa:

Shortcuts

Share