28/09/2025
*جب میں چار سال کی تھی *
تو میرا یقین تھا کہ میرے ابو سب سے اچھے ہیں
*جب میں چھ سال کی تھی *
لگتا تھا میرے ابو سب کچھ جانتے ہیں
*جب میں دس سال کی تھی *
میرے ابوبہت اچھے ہیں لیکن بس ذرا غصے کے تیز ہیں
*جب میں بارہ سال کی تھی *
میرے ابو تب بہت اچھے تھے جب میں چھوٹی تھی
*جب میں چودہ سال کی تھی *
لگتا تھا میرے ابو بہت حساس ہوگئے ہیں
*جب میں سولہ سال کی تھی *
میرے ابوجدید دور کے تقاضوں سے آشنا نہیں ہیں
*جب میں اٹھارہ سال کی تھی *
میرے ابو میں برداشت کی کمی بڑھتی جارہی ہے
*جب میں بیس سال کی تھی *
میرے ابو کے ساتھ تو وقت گزارنا بہت ہی مشکل کام ہے، پتہ نہیں امی بیچاری کیسےان کے ساتھ اتنی مدت سے گزارہ کررہی ہیں
*جب میں پچیس سال کی تھی *
لگتا کہ میرے ابو کو ہر اس چیز پر اعتراض ہے جو میں کرتی ہوں
*جب میں تیس سال کی تھی *
میرے ابو کے ساتھ باہمی رضامندی بہت ہی مشکل کام ہے۔شاید دادا جان کو بھی ابو سے یہی شکایت ہوتی ہوگی جو مجھے ہے۔
*جب میں چالیس سال کی تھی *
ابو نے میری پرورش بہت ہی اچھے اصولوں کے ذریعے کی، مجھے بھی اپنے بچوں کی پرورش ایسی ہی کرنی چاہیے۔
*جب میں پینتالیس سال کی تھی *
مجھے حیرت ہے کہ ابو نے ہم سب کو کیسے اتنے اچھے طریقے سے پالا پوسا۔
*جب میں پچاس سال کی تھی *
میرے لیے تو بچوں کی تربیت بہت ہی مشکل کام ہے، پتہ نہیں ابو ہماری تعلیم و تربیت اور پرورش میں کتنی اذیت سے گزرے ہوں گے۔
*جب میں پچپن سال کی تھی *
میرے ابو بہت دانا اور دور اندیش تھے اور انہوں نے ہماری پرورش اور تعلیم و تربیت کے لیے بہت ہی زبردست منصوبہ بندی کی تھی۔
*جب میں ساٹھ سال کی ہوئی *
مجھے احساس ہوا کہ میرے ابو سب سے اچھے ہیں۔
غور کیجیے کہ اس دائرے کو مکمل ہونے میں چھپن سال لگے اور بات آخر میں پھر پہلے والے قدم پرآگئی کہ میرے ابو سب سے اچھے ہیں۔
آئیے ہم اپنے والدین سے بہترین سلوک کریں، ان کے سامنے اف تک نہ کریں، ان کی خوب خدمت کریں اور ان سے بہت سا پیار کریں قبل اس کے کہ بہت دیر ہوجائے ۔
منتخب