01/07/2024
قرآن کا علمی و عملی تواتر ۔
قطعی الثبوت
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انسانوں کے پاس صرف تین ہی علوم ہیں۔ پہلا علم ماضی سے متعلق جسے تاریخ کہا جاتا ہے۔ دوسرا اور تیسرا علم نفس اور مادہ سے متعلق جسے نفسیات اور فزکس کہا جاتا ہے۔ باقی جو کچھ ہے وہ ان تینوں کی ہی شاخیں ہیں۔ ان تینوں علوم میں علم کی غلطی سے متعلق انکے اپنے اپنے فطری خطرات (inherent risks ) ہیں۔ مثلاً تاریخ کے علم کے مخاطر فطری میں سے سب سے بڑا خطرہ جھوٹ اور رطب و یابس کی منتقلی کا ہوتا ہے۔ اسی طرح بقیہ دونوں علوم کے مخاطر فطری بھی اپنی اپنی نوعیت اور نیچر کے لحاظ سے ہیں۔ محققین کو چونکہ ان تینوں مزکورہ علوم سے استفادہ کرتے علم کا کوئی مزید نیا پہلو یا شاخ پیدا کرنا ہوتی ہے اس لئے وہ غلط رائے بنانے کے خطرے ( Opinion risks) میں گھرے ہوتے ہیں۔ مزکورہ دونوں خطرات ( علم کی نوعیت کے لحاظ سے اس علم کی اپنی زات میں غلطی سے متعلق خطرات ۔۔۔ اور ۔۔۔۔ ان خطرات کی وجہ سے غلط رائے کے قائم ہوجانے کے خطرے ) کو سامنے رکھتے وہ ایسے اصول و ضوابط ( Controls) ڈیزائن کرتے ہیں جو ان خطرات کو کم سے کم کرتے چلے جاتے ہیں۔
ماضی سے حال میں منتقل ہوتے علم ( تاریخ ) کے اصول و ضوابط بنانے کے لئے اس علم کی فطرت یہ ہے کہ یہ دو طرح سے آگے منتقل ہوتا ہے۔ ایک اخبار احاد ( Statements of few individuals ) سے اور دوسرا اجماع و تواتر ( Unanimous transmission ) سے ۔ پاکستان 14 اگست 1947 کو وجود میں آیا۔ آج سے 77 سال پہلے کی یہ خبر اجماع و تواتر سے آگے منتقل ہورہی ہے۔ آج اس خبر کا کوئی راوی نہیں ہے ۔ بلکہ جس روز یہ واقعہ ظہور پزیر ہوا اس روز بھی اس خبر کا کوئی ایک متعین شخص راوی نہیں تھا۔ ایک پوری تہذیب کے سامنے یہ واقعہ رونما ہو اور اس پوری تہذیب نے اجماع کے ساتھ اسے اس تہذیب کی اگلی نسل کو منتقل کردیا۔ ہمارے بچے اسی تہذیب کی اب چوتھی نسل ہیں۔ تواتر سے مراد یہ ہے کہ ان چاروں نسلوں میں سے کوئی ایک نسل بھی ایسی نہیں کہ جس کے دور میں اس واقعہ کی تاریخ نظروں سے اوجھل ہوگئ ہو اور پھر چند نسلوں کے بعد اسے پھر سے کسی نے کسی کھنڈرات کی کھدائی سے نکلنے والے دستاویزات پر اندازے لگاتے اور قیاس آرائیاں کرتے دریافت کیا ہو۔ اور اجماع کا مطلب یہ ہے کہ اس تہذیب کی اغلب اکثریت نے اس واقعہ کے وقوع کو حقیقی تسلیم کیا ہو۔ اگر چند ایک افراد ( Individuals) اس پوری تہذیب کی خبر کے کسی جزو ( مثلا 14 اگست کی بجائے 14 جولائی یا 14 ستمبر ) کی خبر بھی دیں تو انکی خبر کو اجماع یعنی Unanimous History کے مقابل خبر احاد ( statement of individuals ) کہتے رد کر دیا جائے گا۔ اجماع و تواتر ( دو چیزوں ) سے منتقل ہونے والی خبر علم کی اس شاخ (تاریخ )کے لحاظ سے قطعی الثبوت ہوتی ہے، جبکہ چند افراد کی خبر اس کے مقابلے پر ظنی الثبوت۔ ظنی الثبوت کو قطعی الثبوت کے مقابلے پر رد ہونا ہوتا ہے۔ یہ ایک علمی و عقلی اصول ہے ورنہ تاریخ کبھی علم ہی نہیں بن سکتی۔
یہاں یاد رہے کہ اگر کسی ایک شخص یا گروہ نے کسی اجماعی خبر کو رد کرنا ہو تو بطور مدعی علم کے مسلمہ اصولوں کے زریعے رد کرنے کا بار ثبوت اس کے سر پر ہوتا ہے اور وہ ایسا کرنے کا حق بھی رکھتا ہے۔ مثلا “ الطور” کہاں واقع ہے ؟ انسانوں کا اجماع مصر کے شرم الشیخ پر ہے۔ علم تاریخ کے مطابق نسل در نسل اس اجماع والوں سے اس کے ثبوت کا مطالبہ نہیں کیا جاسکتا۔ جسے یہ بتانا ہو کہ یہ اجماع غلط قائم ہوا ہے اسے اس کے “ تواتر “ کو چیلنج کرتے بتانا ہوگا کہ صدیوں تک اس پہاڑ کی شناخت انسانوں کے لئے معمہ بنی رہی۔ پھر صدیوں بعد ایک بادشاہ نے اپنی ماں کے خواب کو بہانہ بناتے مصر پر مذہبی بنیادوں پر حملہ کرنے کا سوچا۔ صدیوں کے منقطع تواتر کے بعد اس نے مصر کو فتح کرکے اس پہاڑ کو الطور ڈیکلیر کیا اور اس کے بعد سے ابتک اس پر اجماع و تواتر قائم ہوگیا۔ سوال کرنے والا سوال کرے گا کہ جب اس پر اجماع ہوا تو شواہد کی بنا پر ہوا ہوگا اور اگر اس وقت غلط ہوا تو آج تمھارے پاس ایسے کیا مسلمہ شواہد ہیں جو اس اجماع کو غلط ثابت کررہے ہیں ؟ اس پر اس فرد واحد کو ان سارے مسلمہ سورسسز میں سے ایک ایک کو سامنے رکھتے بتانا پڑے گا کہ دلائل کیسے اس اجماع کے خلاف ہیں۔
قرآن مقدس خدا کی طرف سے نازل ہوا۔ یہ بات تو ایک مذہب کا دعویٰ ہے ۔ لیکن یہ محمد رسول اللہ ص کے زریعے ملا اور جس طرح ملا اسی طرح آج تک موجود ہے ، اس بات کو تاریخ کا تواتر و اجماع حاصل ہے۔ تواتر یعنی محمد رسول اللہ ص کے ہاتھوں جزیرہ ء عرب پر جس بہت بڑی تہذیب نے جنم لیا اس تہذیب کی پہلی نسل سے لیکر آج کی تاریخ تک ہر پیدا ہونے والی نسل نے “ بلا انقطاع “ اس حقیقت کو تسلیم کیا۔ جیسے اس تہذیب میں مادری زبان ایک نسل سے دوسری نسل کو ہوش سنبھالتے وراثت میں ملتی گئ ویسے ہی یہ خبر بھی اسے ہوش سنبھالتے ساتھ وراثت میں ملتی گئ۔ ہر نسل کے بچوں نے اسے گھروں اور مساجد اور مکتبوں میں ناظرہ پڑھنا بھی سیکھا ، روزانہ کی پانچ نمازوں کے لئے یاد بھی کیا ، جمعہ کے خطبوں میں تقاریر میں بھی سنا ، تروایح میں بھی اس کے حافظے کے آڈٹ لوگوں کے ہجوم کے سامنے ہوئے ، تفاسیر لکھیں گئیں ، فقہی استنباط ہوئے ، اہل لغت نے اس کی لغت پر کام کیا ، گرائمر والوں نے اس کی گرائمر پر کام کیا ، زندگی کے دیگر شعبے والوں نے اس سے اپنے اپنے شعبوں کے استنباط کئے ، لوگ لکھنا سیکھ کر اس کی کتابت کے پیشے سے منسلک ہوئے ، خطاط اس کی خطاطی کے پیشے سے جڑے ، روایتوں کے آڈٹ کرنے والوں نے انھیں اس کے الفاظ اور جملوں پر پیش کرتے روایتوں کا آڈٹ کرتے اپنے نتائج لکھے ، بہت شروع میں ہی فرقے بن گئے اور ہر فرقہ اس سے استدلال کرتے خود کو دوسرے فرقے کے مقابلے پر حق پر ثابت کرنے لگا اور اس عمل نے اس کے متن کی حفاظت پر سے کسی ایک گروہ کی اجارہ داری ختم کرتے باہمی متصادم گروہوں کو ایک دوسرے پر نگہبان اور محاسب بنا دیا، اس کے الفاظ کی ادائیگی کے لئے قراء کے گروہ پیدا ہوئے اور وہ بھی اسی طرح ایک دوسرے پر محاسب ثابت ہوئے ، پچھلی نسلوں سے تعلیم پاتے طلباء بڑے ہوتے اپنے اساتذہ کے گرائمر ، لغت ، فقہ ، عقیدہ ، تفسیر وغیرہ سے متعلق استباط سے اس کے متن سے دلائل پیدا کرکے اختلاف کیا۔ اس طرح یہ کام اس تہذیب کی پہلی نسل سے لیکر آجتک بلا انقطاع ( تواتر) اور متن پر اغلب درجے کے اتفاق ( اجماع ) سے چلتا آیا ہے۔ گزشتہ صدی ڈیڑھ صدی میں بہت سارے نئے علوم اور سائنسسز پیدا ہو گئیں ، اس لئے پڑھنے لکھنے والوں کا شغف بہت سے شعبوں میں بٹ گیا ۔ مگر 7 ویں صدی سے 17 ویں صدی تک مسلسل ایک ہزار سال تک اس تہذیب کے ہر خاص و عام کے پاس علم کا بڑا سورس قرآن مقدس کے متن سے ہی متعلق ہی رہا۔ مادری زبانیں ایک نسل سے دوسری نسل میں منتقل ہوتی ارتقاء سے گزرتی چلی جاتی ہیں ۔ زبانوں میں ارتقاء شاعر و ادیب و دانشور جب لاتے ہیں تو اس کی داد وصول کرتے ہیں۔ اس کے برعکس قرآن مقدس بھی اسی طرح نسل در نسل اجماع سے منتقل ہوا لیکن اس میں ارتقاء و تبدیلی یعنی “ بدعت” کو ایمان و عقیدے کی حفاظت میسر رہی۔ لوگوں نے ارتقاء کے شوق کو قرآت ، خطاطی ، تفسیر ، لغت و گرائمر کے اعجازات اور زندگی کے دیگر ہر شعبوں کے لئے اس سے استباط اور پچھلوں کی علمی غلطی پر گرفت سے پورا کیا۔ یہ کتاب کبھی کسی ایک دن کے لئے بھی تواتر کے انقطاع کا شکار نہ ہوئی کہ ہمیں اس کے نسخوں کی حفاظت کرنا پڑتی۔ اگر آج ہم کسی ہڑپہ یا مائنجوداڑو کی تہذیب کی کسی مقدس کتاب کی بات کریں تو سوال کرنے والا اس پر انقطاع کے سبب اس انقطاع کو پُر کرنے کے لیے ثبوت مانگ سکتا ہے اور وہ ثبوت کسی کاربن ڈیٹنگ کے ثبوت کے ساتھ انقطاع کے عرصے کو گزارنے والا دریافت شدہ قلمی نسخہ بھی ہوسکتا ہے۔ لیکن جہاں انقطاع ہی واقع نہ ہوا ہو وہاں انقطاع کو پُر کرنے والے دلائل مانگنا ایسا ہی ہے جیسے کوئی مجھ سے ثبوت مانگے کہ اگر تمھارے بچپن میں بھی سورج نکلتا تھا تو اس کے نکلنے کا ثبوت مہیا کرو۔ میں نے قرآن مقدس کے جس نسخے سے ناظرہ قرآن سیکھا تھا آج وہ نسخہ ہی اس دنیا میں موجود نہیں ہے ۔ کیا اس کا دنیا میں موجود نہ ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ میں نے کبھی ناظرہ قرآن پاک پڑھنا ہی نہیں سیکھا ؟
مبین قریشی حفظہ اللہ ۔