Ahsan Writes

Ahsan Writes Novels , Poetry and Islamic Posts

03/05/2024

ٹرسٹ پلازہ میں واش روم کے سامنے کاونٹر لگانے کے ایشو پر کل دو دوکانداروں کے درمیان شدید لڑائی ہوئی اطلاعات کے مطابق اس بات پر دونوں میں روازنہ تلخ کلامی ہوتی تھی ایک نام مبشر اور دوسرے کا نام گامو بتایا گیا تمام دوکاندار اور صدر روز کی اس لڑائی سے بہت تنگ تھے جس کے نتیجے میں پلازہ کا امن قائم رکھنے کے لئے دوکانداروں کی شکایات پر صدر ٹرسٹ پلازہ ساجد کالرو نے دونوں کے کاؤنٹرز پلازہ سے ہٹوا دئیے اب وہ پلازہ میں کہی بھی کاؤنٹر نہیں لگا سکتے

بھلوال میں بند بوسیدہ مکان سے پھندا لگی پرانی لاش برآمد تفصیلات کے مطابق  بھلوال کے علاقے ظہور حیات کالونی میں ایک مکان ...
29/04/2024

بھلوال میں بند بوسیدہ مکان سے پھندا لگی پرانی لاش برآمد

تفصیلات کے مطابق بھلوال کے علاقے ظہور حیات کالونی میں ایک مکان کئی برس سے بند ہونے کے باعث اس کی چھتیں گر گئیں تھیں

آج کاغذ چننے والے شخص نے مکان کے اندر سے کوڑا کرکٹ اٹھانے کے لیے اندر جھانکا تو ایک لاش مکان کے شہتیر کے ساتھ لٹک رہی تھی

لاش کے جسم پر برقعہ پہنا ہوا ہے لیکن کافی پرانی لاش ہونے کی وجہ سے جسم سے گوشت جھڑ چکا ہے

پولیس تھانہ سٹی نے موقع پر پہنچ کر شواہد اکھٹے کرنا شروع کر دیئے ہیں

28/04/2024

یونیورسٹی آف سرگودھا میں فٹبال کا میدان جنگ کے میدان میں تبدیل۔
مردان اور سرگودھا کی ٹیموں میں لڑائی کئی زخمی۔

05/12/2019

سنیں بھائی نے کتنی پیاری بات کہی ہے ۔۔ لائک اور شیئر کرنا مت بھولیئے گا ۔۔۔ 😍😍😍

تخیل سارے جھوٹے ہیںمحبت صرف ماں کا بوسہ ہے❤
24/10/2019

تخیل سارے جھوٹے ہیں
محبت صرف ماں کا بوسہ ہے❤

مختصرحقیقت۔پیر صاحب جیسے ہی  ہسپتال پہنچے سامنے ایک مرید مل گیا۔ قدموں پر ہاتھ رکھا، ہاتھ پر بوسا لیا اور ہسپتال آنے کی ...
25/09/2019

مختصرحقیقت۔

پیر صاحب جیسے ہی ہسپتال پہنچے سامنے ایک مرید مل گیا۔ قدموں پر ہاتھ رکھا، ہاتھ پر بوسا لیا اور ہسپتال آنے کی وجہ دریافت کی۔
"بس شبیر ذرا گردوں میں درد تھا سوچا چیک اپ کراتا چلوں۔"
پیر صاحب بولے۔
"آپ ادھر آئیں۔۔۔یہاں پنکھے تلے بیٹھیں۔۔۔ میں ابھی کہ ابھی آپ کا نمبر لگواتا ہوں۔"
مرید کی شاید ہسپتال میں اچھی خاصی جان پہچان تھی۔ چند منٹوں میں ہی پیر صاحب کا نمبر لگ گیا۔
چیک اپ کرا کر واپس آئے تو مرید نے فوراً ادویات کی پرچی لی اور میڈیکل سٹور سے مہنگی دوائیں خرید لایا۔ جیسے ہی پیر صاحب رخصت ہونے لگے مرید نے ایک بار پھر قدم بوسی کی اور بولا:
"پیر صاحب ابا کے گردوں میں درد رہتا ہے۔ کل تعویز کے لیئے آپ کے پاس حاضری لگوانی ہے۔"

حج میں پہلا انعام پانے والی تصویر کی کہانیحج سکیورٹی فورس کے اہلکار ماجد علی الحکمی کے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا کہ دنی...
17/08/2019

حج میں پہلا انعام پانے والی تصویر کی کہانی

حج سکیورٹی فورس کے اہلکار ماجد علی الحکمی کے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا کہ دنیا بھر میں وہ اتنے مشہور ہو جائیں گے، ان کی تصویر دنیا کے اخبارات کی زینت بنے گی اور وہ خود سوشل میڈیا پر موضوع گفتگو بن جائیں گے۔
یہ ان کی اس تصویر کا ذکر ہے جسے مکہ گورنریٹ نے حج کے دنوں میں لی جانے والی تصاویر میں بہترین قرار دے کر اول انعام سے نوازا ہے۔
دنیا بھر میں شہرت پانے والی یہ تصویر نہ صرف انسانی ہمدری کی عکاسی کرتی ہے بلکہ حج سکیورٹی فورس کی والہانہ اور مخلصانہ خدمات کی بھی کہانی سناتی ہے۔
تصویر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ حج سکیورٹی فورس کے اہلکار ماجد علی الحکمی نے ایک معمر حاجی کو گود میں اٹھا رکھا ہے۔
تصویر کی کہانی خود ماجد کی زبانی ہی سنیے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’حج کی ڈیوٹی پر مامور سکیورٹی فورس کے مختلف اداروں کے تمام اہلکار یہ عہد کرتے ہیں کہ وہ حجاج کی امن و سلامتی کے علاوہ ان کے آرام اور راحت کے لیے سر دھڑ کی بازی لگا دیں گے۔ یہی ہم سب کا اولین مقصد اور مشن ہے۔‘

ان کے بقول ’عرفات کے دن مجھے دور سے ایک معمر حاجی نظر آیا جسے چلنے میں دشواری ہو رہی تھی۔ وہ تھوڑی مسافت چلتے اور پھر رک جاتے، پھر اپنے پیروں کو سہلاتے۔ میں ان کا حال معلوم کرنے کے لیے ان کے قریب گیا اور پوچھا کہ کیا آپ کو کوئی مسئلہ ہے، کیا پیر زخمی ہو گیا ہے؟‘
ماجد الحکمی کہتے ہیں کہ ’معمر حاجی کو میری بات سمجھ نہیں آئی۔ وہ اردو زبان میں جواب دیے جا رہے تھے۔ میں بھی ان کی بات سمجھ نہیں پا رہا تھا مگر ان کا درد محسوس کر سکتا تھا۔ میں نے انہیں پانی پلایا اور ٹھنڈا پانی ان کے سر پر بھی ڈالا۔ مجھے خدشہ تھا کہ کہیں انہوں نے کسی تیز دھار چیز پر پیر رکھ دیا ہے۔ میں ان کا پیر دیکھنے کے لیے جھکا تو مجھے محسوس ہوا کہ ان کے قدم ان کا بوجھ نہیں اٹھا پا رہے۔‘
’مجھے ڈر تھا کہ وہ چند قدم چلنے سے کہیں گر نہ جائیں۔ میں نے انہیں اشارے کی زبان میں سمجھایا کہ آپ میرے والد جیسے ہیں، فکر مت کریں، میں آپ کے ساتھ چلتا ہوں۔‘
سکیورٹی اہلکار کے مطابق ’ہم چند قدم ہی چلے تھے کہ ان کے مزید چلنے کی سکت نہیں تھی۔ میں نے انہیں اشارے کی زبان میں کہا کہ میں آپ کو گود میں اٹھا لیتا ہوں۔ پھر میں نے انہیں اٹھا لیا۔ میں انہیں مزدلفہ تک لے گیا اور پھر وہاں سے منی میں ان کے ٹھکانے تک پہنچایا۔ پورے راستے وہ مجھ سے اردو میں مخاطب ہوتے رہے، وہ مسلسل مجھے دعائیں دیتے رہے۔ بس ان کی دعائیں میرا حوصلہ بڑھا رہی تھیں اور مجھے کہیں بھی تھکن محسوس نہیں ہوئی۔‘

وہ مزید کہتے ہیں ’مجھے یوں محسوس ہوا کہ حج میں میری ڈیوٹی شاید اسی بوڑھے کی خدمت کرنے کے لئے ہی لگی ہے۔ ایک غیبی آواز آ رہی تھی کہ اس معمر کی خدمت کرکے جتنا ثواب کما سکتے ہو کمالو۔ میری جگہ کوئی بھی ہوتا تو شاید یہی کرتا۔ میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ مجھے معلوم نہیں تھا کہ کوئی فوٹو گرافر میرا تعاقب کر رہا ہے۔ اگلے دن اخبارات میں اپنی تصویر دیکھ کر مجھے حیرت ہوئی۔‘
فوٹو گرافر کون ہے؟
دنیا بھر میں شہرت پانے والی اس تصویر کے فوٹو گرافر سعود المسیہیج العنزی ہیں جنہیں مکہ گورنریٹ نے بہترین تصویر پر اول انعام سے نوازا ہے۔ مکہ کے گورنر شہزادہ خالد الفیصل سے انعام پانے کے بعد ٹویٹر پر شہرت پانے والے سعودی فوٹو گرافر نےچھ سال قبل فوٹوگرافری کا آغاز کیا۔

وہ اپنی تصویر کے بارے میں کہتے ہیں ’میدان عرفات میں دیگر فوٹو گرافروں کی طرح میں بھی موجود تھا۔ حج سکیورٹی فورس کے اہلکار سے پہلے میری نگاہ معمر حاجی پر گئی تھی۔ میں انہیں مسلسل تاک رہا تھا۔ اچانک اہلکار وہاں پہنچے اور حاجی کی مدد کی۔ یہ تمام چیزیں میں نے اپنے کیمرے میں محفوظ کر لیں۔ میرے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا کہ یہ تصویر اس قدر مشہور ہو جائے گی اور مجھے اس کے عوض انعام ملے گا۔“

یہ تصویر ساہیوال سے ملحقہ تھانے یوسف والا کی ہے جہاں ایک حیا دار اور باپرد خاتون بیچاری سر تا پاؤں پردے میں ڈھکی ہوئی قا...
28/07/2019

یہ تصویر ساہیوال سے ملحقہ تھانے یوسف والا کی ہے جہاں ایک حیا دار اور باپرد خاتون بیچاری سر تا پاؤں پردے میں ڈھکی ہوئی قانون کا دروازہ کھٹکھٹانے ایک پولیس سٹیشن آتی ہے اور آگے سے اسکے سامنے ادھ ننگا ایس ایچ او گھٹنوں تک دھوتی چڑھاۓ بے شرمی اور ڈھٹائ سے اپنے پیٹ کی نمائش کرا رہا ہے ۔۔۔ کیا ڈیوٹی کے اوقات میں اس بے شرمی کو روکنے کا کوئ قانون یا ضابطہ ہے ؟؟؟ایسے واقعات زمہ دار افسران بالا کے نوٹس میں لانے کی کیا صورت ہو سکتی ہے ؟؟؟؟

اگر میں یہ کہوں کہ  عروس البلاد کراچی فشری میں موجود اس مچھلی کا ٹوٹل وزن 80 کلو اور قیمت بارہ لاکھ ہے تو آپ اسے مذاق سم...
27/07/2019

اگر میں یہ کہوں کہ عروس البلاد کراچی فشری میں موجود اس مچھلی کا ٹوٹل وزن 80 کلو اور قیمت بارہ لاکھ ہے تو آپ اسے مذاق سمجھیں گے یا میری ذہنی کیفیت پر شک کریں گے ؟؟؟ اور اگر یہ بھی کہوں کہ اس ثابت مچھلی کی قیمت بارہ لاکھ ہے لیکن اگر پیٹ صاف کرلیں تو گوشت صرف چالیس ہزار کا رہ جائے گا تو آپ غصے سے تپ کر یہ تو نہیں کہیں گے کہ جا بھائی کسی اور کو بنا کیا ہم ہی رہ گئے ہیں ایسے فضول مذاق کیلیے ؟؟؟؟
ارے جناب رکیں تو سہی یہ بلکل بھی مذاق نہیں اور بلکل ہوش و حواس میں ہوں ، یہ مچھلی نما خزانہ عروس البلاد کراچی کے ساحل میں وافر مقدار میں پائی جانے والی " سُوا " ہے جس کا معدہ انٹرنیشنل مارکیٹ میں انتہائی مہنگا فروخت ہوتا ہے اور پتا ہے کیوں ؟؟؟ اس لیے کہ اس معدے سے سرجیکل دھاگہ بنایا جاتا ہے اندرونی ٹانکوں کیلیے ، اللہ رب العزت نے اس میں یہ خاصیت رکھی ہے کہ اس معدے سے بنایا جانے والا دھاگہ جسم کا حصہ بن جاتا ہے کچھ عرصے بعد اور ٹانکے کھولنے کی ضرورت نہیں پڑتی ۔۔۔۔۔اور تم اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاوُ گے❤✋

20/07/2019

‏پاکستان میں لڑکی کو تعلیم اچھے رشتے کےلیے اور لڑکے کو اچھی نوکری کےلیے دی جاتی ہے

اور شعور کہاں گیا؟

فخر پاکستانفخرِ بلوچستان ہماری ملالہ ' پاکستان کی ملالہ' حقیقی ملالہ گمنام ملالہ : ماہین بلوچ ۔ عمر صرف سترہ برس اندازہ ...
17/07/2019

فخر پاکستان
فخرِ بلوچستان
ہماری ملالہ ' پاکستان کی ملالہ' حقیقی ملالہ گمنام ملالہ :
ماہین بلوچ ۔ عمر صرف سترہ برس اندازہ کریں یہ لڑکی کراچی کے جنگ زدہ علاقہ لیاری کے گلیوں میں آوارہ گومنے والے بچوں کوقبل اسکے کہ منشیات کے عادی ہوجائیں پکڑ پکڑ کر لاتی ہیں اور بلا معاوضہ ان بچوں کو پڑھاتی ہیں ۔ یہ سترہ سالہ بلوچ بچی آپ کے این جی اوز اور تعلیم عام کرنے والے اداروں اور پروجیکٹس سے زائد کام کررہی ہیں اور بچوں کے کاپی پنسل بکز وغیرہ کے خرچے انکے والد بغیر کسی کے تعاون کے اٹھارہے ہیں ۔انکو نوبل انعام کیوں ملے ؟ انہوں نے گولی نہیں کھائی ۔ انکو BBC. CNN نے کورج نہیں دی ۔ مگر پاکستانی عوام ماہین بلوچ کو تعلیم کی نشان سمجھتی ہے ۔ مغرب کو انکی ملالہ مبارک۔

اِسکا یہی مطلب ھُوا نہ کہ وہ صِرف عورت کے جسم سے شادی کرنا چاہتے ہیں کردار سے نہیں...میرے ایک جاننے والے کے ہمسایہ میں ا...
11/07/2019

اِسکا یہی مطلب ھُوا نہ کہ وہ صِرف عورت کے جسم سے شادی کرنا چاہتے ہیں کردار سے نہیں...
میرے ایک جاننے والے کے ہمسایہ میں ایک فیملی تھی جس میں دو بیٹیاں اور ایک اُنکے والد تھے والدہ پہلے ھی وفات پا گئی تھیں بڑی بیٹی کی شادی کے بعد والد جلد از جلد چھوٹی بیٹی فاطمہ کا فرض بھی پورا کر دینا چاہتے...

تھے لہذا اپنی بہن کے بیٹے سے جو کہ پاکستان سے باہر کمانے گیا ھُوا تھا نکاح کر دیا اور رخصتی کچھ سال پر مؤخر کر دی کیونکہ فاطمہ تب صرف سترہ سال کی معصوم بچی تھی...

اللّٰہ کی حکمتیں اللّٰہ ھی جانے، ابھی بچی کا نکاح کِیا ھی تھا کہ کچھ دن بعد والد بھی ایک ایکسیڈینٹ میں چل بسے.. والدہ کا پیار بھی نہ پا سکی اور اب والد بھی گئے... لڑکی ھونے کے ساتھ بھولی اور معصوم بھی اتنی تھی کہ صِرف ایک دوست تھی اُسکی وہ بھی اُسکی کزن... لہذا کچھ ماہ اپنے گھر رکھنے کے بعد اُسکی بہن اور بہنوئی نے پھوپھو سے رخصتی کی بات کی... لڑکے کو بلوایا گیا اور رخصتی کر دی گئی...

بہت خوش تھی کہ پھوپھو کے گھر جا رھی ھُوں کیونکہ بچپن سے پھوپھو نے بہت پیار دیا تھا لیکین بچی کیا جانتی تھی کہ رشتہ داروں کا پیار تب تک ھی زندہ رہتا ھے جب تک آپکے والدین سلامت ھوں.. والدین کی وفات کے ساتھ رشتہ داروں کی ہمدردیوں کا بھی جنازہ اُٹھ جاتا ھے.. لڑکا ایک ہفتے بعد واپس چلا گیا اور وہاں سے جا کر طلاق کے کاغذات بھیج دیئے اور ماں کو بتا دیا کہ میں نے آپکو بناء بتائے یہاں شادی کر لی تھی اور میں خوش ھُوں اپنی بیوی کے ساتھ.. اب ماں نے اپنی تربیت چُھپائی بیٹے کی اِس خباثت پر پردہ ڈال کر اور فاطمہ کو خط کا نہ بتایا بس ظلم کے پہاڑ توڑ ڈالے اُس معصوم پر یہ سوچ کر کہ شائد تنگ آ کر یہ خود ھی طلاق کا مطالبہ کر ڈالے اور ہم خاندان میں بدنامی سے بچ جائیں آخر جب ہر طرح سے ظلم و ستم کر کے دیکھ لِیا تو ایک دن تنگ آ کر خود ھی وہ خط دِکھا کر اُسے گھر سے نکال دیا.. بچی اپنی بہن کے گھر رہنے آ گئی اور جاتی بھی کہاں.. وہ تروتازہ چہرہ مُرجھا گیا تھا صِرف ایک لفظ طلاق سے... کچھ عرصہ گزرا نہیں کہ بہن کے سسرالیوں نے بھی تنگ کرنا شروع کر دیا، بڑی بہن کا جینا حرام کر دیا کہ بھیجو اِسے اپنے گھر یا کہیں اور شادی کرو اِسکی.. ہم پر بوجھ بنی بیٹھی ھے... فاطمہ کو بھی مختلف طریقوں سے ذہنی اذیت دینے لگے...

اپنے دوسرے بیٹے سے اُسکی شادی بھی نہیں کر سکتے تھے کیونکہ اُس معصوم پر طلاق کا دھبہ جو لگ گیا تھا اور ہمارا معاشرہ عُمریں اور کردار کب دیکھتا ھے بس یہ دیکھتا ھے کہ لڑکی کنواری ھے یا نہیں... آخر تنگ آ کر ایک رات وہ معصوم بچی گھر سے بھاگ گئی... کہاں گئی کسی کو کچھ پتا نہ چلا...

دو سال بعد بہنوئی کا کسی کام سے ایدھی سینٹر جانا ھُوا تو فاطمہ نظر آئی وہاں.. ذہنی توازن بگڑا ھُوا... اور اپنی عُمر سے بیس سال بڑی لگ رھی تھی... خدا جانے دو سال میں کہاں کہاں دھکے کھا کے ایدھی پہنچی یہ تو اللّٰہ جانے.. لیکین ایک معصوم شریف نیک کردار بچی کی ساری زندگی صِرف اِس وجہ سے اُجڑ گئی کہ ایک تو اُسکے ماں باپ حیات نہ تھے دوسرا اُس کو طلاق ھو چُکی تھی... یہ جو لوگ طلاق یافتہ کو اپنانے سے بھاگتے ہیں اِسکا یہی مطلب ھُوا نہ کہ وہ صِرف عورت کے جسم سے شادی کرنا چاہتے ہیں کردار سے نہیں۔“

Address

Sargodha
40100

Telephone

+923321690009

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Ahsan Writes posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Ahsan Writes:

Share

Category