Mery AlfaaZ

Mery AlfaaZ Poetry Me Khush To Hu Lakin .. Mery AlfaaZ Roty hyn..

21/01/2021

راہ میں ہم ملیں کہاں
بزم میں وہ بلائیں کیوں

13/01/2021

تو کیا طے ہے کہ تم کو عمر بھر نہ دیکھ پاؤں گا؟؟

13/01/2021

ھاتھ پاوں میرے ،غالؔب کی طرح پھول گئے
مَیں نے سوچا تھا نہ مانے گا، مگر مان گیا

رفیع رضا

01/01/2021

بیتے ھوئے ماہ و سال تن پر پہنے ھُوئے کپڑوں کی طرح نہیں ھوتے۔ یہ جسم پر تِل بن جاتے ھیں زبان سے کچھ نہیں کہتے بس جسم پر چپ چاپ پڑے رھتے ھیں۔

”اَمرتا پریتم“

”رسیدی ٹکٹ“ سے اقتباس

22/12/2020

خود کو پوشیدہ نہ رکھو ، بند کلیوں کی طرح
پھول کہتے ھیں تمہیں سب لوگ ، تو مہکا کرو

”منظر بھوپالی“

22/12/2020

بس اک اسی پہ تو پوری طرح عیاں ہوں میں
وہ کہہ رہا ہے مجھے رائگاں، تو ہاں! ہوں میں!
جسے دکھائی دوں، میری طرف اشارہ کرے
مجھے دکھائی نہیں دے رہا کہاں ہوں میں
میں خود کو تجھ سے مٹاؤں گا احتیاط کے ساتھ
تو بس نشان لگا دے جہاں جہاں ہوں میں
کسی نے پوچھا کہ تم کون ہو؟ تو بھول گیا
مجھے کسی نے بتایا تو تھا، فلاں ہوں میں
ہر ایک شخص کو اپنی پڑی ہوئی ہے یہاں
مرا خیال ہے اپنوں کے درمیاں ہوں میں
کسی زبان کی چپ کے معانی جاننے ہیں؟
مجھے بتاؤ، خموشی کا ترجماں ہوں میں
میں کس سے پوچھوں یہ رستہ درست ہے کہ غلط؟
جہاں سے کوئی گزرتا نہیں، وہاں ہوں میں
ادھر ادھر سے نمی کا رساؤ رہتا ہے
سڑک سے نیچے بنایا گیا مکاں ہوں میں
جبیں پہ ہجر کی تحریر درج کرنے میں
کسی پرانے قلم کی طرح رواں ہوں میں

21/12/2020

روز اک شخص کہانی سے نکل جاتا ہے
کتنے کردار اکیلے کو نبھانے ہوں گے

۔۔اتباف ابرک

16/12/2020
15/12/2020

آساں تو تھا مگر جواز نہ تھا
میداں چھوڑ دیں یہ رواج نہ تھا
طوفاں کے ظلم و شور کم نہ تھے
سمندر کسی طوفاں کا محتاج نہ تھا
تنقید، ترکیب، تذلیل، تحقیر سب تھیں
ہماری سرکشی کا بس یہ علاج نہ تھا
خواب تو تھے، مگر تنہائی بھی تھی
اس کل کا بس ایک آج نہ تھا
دل پر دستک شک بی تھی اضطراب کی
یقین سے اس کا بس امتزاج نہ تھا
ایماں کب نہ بکے سفر آشنائی میں
خودی بک جائے یہ معراج نہ تھا
تاریک دن بھی تھے رات کا کیا کہنا
ہوائیں بجھا دیں جسے میں وہ سراج نہ تھا
درد و کرب نئے وطن میں مقدر تھے
درویشی میں بس شہرت کا راج نہ تھا
ماضی بھی تڑپتا تھا من میں کبھی
اس خودی میں اس خودی کا بس تاج نہ تھا
مرنے کا غم نہ تھا ان کی بےوفائیوں سے
کم ظرفوں کو بس ہمارے برہم کا لاج نہ تھا
جرم بن گیا سر اٹھا کے جینا ہمارا
خوابوں کی تکمیل کا یہ سماج نہ تھا
ڈوبا کون نہیں ہے تلاش میں عاطف
نہ ابھریں ڈوب کے بس یہ مزاج نہ تھا

12/12/2020
07/12/2020

میلیاں اَکھاں دھو نہ لئیے ؟
کسے بہانے رو نہ لئیے ؟
ایتھے اوھنُوں تکیا سی میں
ایتھے جَھٹ کھلو نہ لئیے ؟

"ولی محمّد عظمی"

29/11/2020

اِک عجب سی جَنگ ہے مُجھ میں
کوٸ مُجھ سے ہی تَنگ ہے، مُجھ میں...!!!

Address

Sargodha

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Mery AlfaaZ posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category