Lala Shafqat Pathan

Lala Shafqat Pathan PPP(Shaheed Bhutto)Central Leader||Politician||Writer||Candidate NA-193 & PS-07 Shikarpur Sindh||

18/12/2025

(انقلاب کے تین اصول)
بندوق کے ساتھ صبر،
دشمن سے با خبر،
اپنوں پر نظر۔
(ارنسٹو چی گویرا)✊

“داستانِ مرتضیٰ کیا لکھوں”تحریر:لالا شفقت پٹھانمرکزی رہنما  پ،پ،پ(شھید بھٹو)سندھ5 ڊسمبر سندھ کی تاریخ میں کالا دن لکھوں ...
05/12/2025

“داستانِ مرتضیٰ کیا لکھوں”

تحریر:لالا شفقت پٹھان
مرکزی رہنما
پ،پ،پ(شھید بھٹو)سندھ

5 ڊسمبر سندھ کی تاریخ میں کالا دن لکھوں یا ایکتا کا دن لکھوں یوں تو سال میں تین سو پینسٹھ 365 دن ہیں مگر 5 ڊسمبر کا دن یا ڊسمبر کا ہی ماہ میں ایکتا کا دن کیوں رکھا گیا اور اس دن کی تاریخی پس منظر پر ایک مختصر نظر ڈالتے ہیں ویس تو صدیوں سے سندھ قائم ہے ماضی میں کبھی بھی سندھ اسے حالاتوں سے دو چار نہیں ہو لیکن موجودہ صورتحال میں سندھ کو تباھ کرنے کی قصر کس نے نہیں چھوڑی سندھ نے اپنی ترجمانی کے لیے کوئی دن مقرر نہیں کیا کیوں کے سندھ کو کسی ترجمان کی ضرورت نہیں پڑی مگر آج یہ جو لوگ ہیں وہ کون ہیں ؟ جو سندھ کے شھزادے شھید میر مرتضی بھٹو کے قاتلوں کی آزادی کا جشن منا رہے ہیں یہ سندھی ہے یا سندھ کے غدار ہیں تاریخ میں جو عظیم اسم سے شاد اور آباد خوشحال ایک پور امن پناھ گاھ کا رتبہ سے سر شار ہے جیس کی آکاسی اجرک اور ٹوپی کرتے آرہے ہیں وہ جیس میں ساری سندھ سما جاتی ہے مگر صدیوں کی تاریخی حثیت رکھنے کے باوجود کبھی بھی کہیں بھی اُس کو اپنی ترجمانی کے لیے کوئی دن مقرر کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی ہے سندھ نے تو ہمیشہ اپنی قوم سے وفا کی ہے مگر افسوس کے ساتھ سندی قوم نے اپنی سندھ سے کبھی وفا نہیں کی ہے وسے تو تاریخ میں انیک واقعیات موجود ہیں مگر میں فلحل اس وقت ایک واقعی کا ذکر کروں گا میں عظیم انقلابی رہنما شھید میر مرتضیٰ بھٹو کا واقعی تحریر کر رہا ہوں جس کے خون سے سندھ کی سر زمین کو دھویا گیا اور سندی قوم نے اپنے رہبر کے رہزن کے خلاف نکلنے کی جگا رقص اور جشن کو ترجح دیتے ہوے میر مرتضیٰ بھٹو کے قاتلوں کی رہنمائی کی اور 5 ڊسمبر 2009 کا دن گذارا اس طرح سے یہ دن وجود میں آیا شھید میر مرتضیٰ بھٹو قتل کیس کا مرکزی ملزم آصف زرداری اور اُس کے ساتھیوں کو اس دن بری کیا گیا اور اس دن کو رقص کا دن کر کے ہر سال جشن منانے کا انتظام میسر ہوا شھید میر مرتضیٰ کے قاتلوں کو بری ہونے پر سراپا احتجاج اور قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کی جگہ جشن کو ترجیح دی. ای کاش کے یہ لا شعور قوم اس دن کی حقیقت سے واقف ہوتی تو سندھ کی دہرتی میں دفن یہ گلاب کا پھول اپنے قتل کے انصاف کے لیے یوں آج تک منتظر نہیں ہوتا اور تاریخ میں یہ دن مرتضیٰ بھٹو کے قتل کے انصاف کی حثیت رکھتا کامریڈ چی گویرا نے کیا خوب کھا ہے انقلابی جدوجھد میں مشکل کام یہ ہے کے ایک غلام قوم کو سمجھانا تم غلام ہو. زرا سوچو تو سہی قاتل بری اعلی عھدوں پر فیض مقتول کا وکیل جج ھاء کورٹ فریادی خاموش گواھ غیر جانبدار اپنا خون وطن سے بہر خاموش ھزاروں ساتھی انقلاب کی راہ میں پھر بھی تنہا قبر میں انصاف کا طلبگار.مرتضیٰ بھٹو قتل کیس حالا کے اتنا اوپن اینڈ شٹ کیس تھا جیس کی کوئی نظیر نہیں ملتی پولیس کا جھوٹا مقابلہ بیداردی سے قتل وقت کا (ایم پی ای) کراچی کے پوش علاقے کی شاہراہ ایرانیا 20 ستمبر جمع کا دن 1996 سب کے سب قاتل پولیس والے وردی میں اور قتل کا اعتراف پھر بھی قاتل بری جج صاحب؟ اگر میر مرتضیٰ بھٹو کو پولیس نے نہیں مارا تو گولیاں آسمان سے آئی یا درختوں نے چلائی؟ قوم کی مجرمانا خاموشی 5 ڊسمبر 2009 کو ایکتا دن کا نام دینا اور قاتلوں کو بری کرنا کیا یہ ایکتا ہے اپنے قوم کے ہیرو کے قتل پر خاموش رہنا کیا یہ ایکتا ہے اُس کے قاتلوں کی آزادی پر جشن کرنا کیا یہ ایکتا ہے کیا رھزنوں کی رھنمائی کرنا ظالموں کا ساتھ دینا کیا یہ سندی قوم کی ایکتا ہے اگر یہ ایکتا ہے تو اس اچھا تو وہ قید زندان میں بند قیدی ہے جو تنہا قید تو گزارتا ہے آزادی کے ساتھ تسلیم کر کے جو قوم اپنے لیڈر کے خون پر خاموش رہی وہ سندھ کے حقوقوں کے لیے کیا لڑے گئی کیا یہ نام نھاد صحافی قلم نگار جھوٹے قوم پرست خود کو اعلی مفکر بولنے والے بت پرست کبھی نہیں ہرگز نہیں انونے تو سندھ کی ستون پر وار کیا ہے اور بار بار کیا ہے جو سندھ کی مٹی ان کو کبھی معاف نہیں کرے گی شھید میر مرتضیٰ بھٹو آج بھی گڑھی خدا بخش کے قبرستان سے اس بے حس قوم کی بے بسی دیکھ رہا ہے

قتل پر جو داستان لکھوں تو ایک زمانا لگے گا
تیرے خون کے داغ ڈھونڈو تو ایک زمانا لگے گا
تیرے خون پر جو آج رقصاں ہیں لوگ
لکھوں جو تیرے قاتلوں کے نام تو ایک زمانا لگے گا
Zulfikar Ali Bhutto Jr

27/10/2025

دل کربلا میں رہ گیا میں آگیا یہاں
یہ دل بنا حــسـیـؑـن کے پائے سکوں کہاں
💔😔
حرم میں موجود ھوتے ہوئے جو احساسات اور سکون ہوتا ہے وہ کبھی بھی لفظوں میں بیان نہیں ہو سکتا،
جس طرح بچہ تھکا ہوا گھر آکے ماں کی آغوش میں سکون کی سانس لیتا ہے ویسے ہی کریمِ کربلاؑ امام مولا یاحُسینؑ کے حرم میں سکون محسوس ہوتا ہے،
🙏❤️💐

مت سمجھو ہم نے بھلا دیا،یہ مٹی تم کو پیاری تھی،سمجھو مٹی میں سلا دیا،20 ستمبر تاریخ کا سیاہ ترین دن شھید قائد میر مرتضیٰ...
18/09/2025

مت سمجھو ہم نے بھلا دیا،
یہ مٹی تم کو پیاری تھی،
سمجھو مٹی میں سلا دیا،
20 ستمبر تاریخ کا سیاہ ترین دن
شھید قائد میر مرتضیٰ بھٹو کی 29ویں برسی کے موقع پر شھید میر بابا کی یاد میں سندھ کے مختلف اضلاع کے لیے پینا فلیکس تیار تمام پارٹی کارکنوں سے گذارش ہے ہر سال کی طرح اس سال بھی شھید قائد میر مرتضیٰ بھٹو کی برسی پر شرکت کر کے شھید قائد کی آخری آرام گاہ گڑھی خدا بخش بھٹو پہنچ کر عہدِ وفا پر مہر ثبت کریں
منجانب:-پ،پ،پ،(شھیدبھٹو)
Zulfikar Ali Bhutto Jr Ghinwa Bhutto

18 ستمبر 1954شھيد محبوب قائد مير مرتضیٰ بھٹو کے جنم دن کے موقع پر قائدِ انقلاب کی انقلابی جدوجھد کو سُرخ سلام پیش کرتے ہ...
18/09/2025

18 ستمبر 1954
شھيد محبوب قائد مير مرتضیٰ بھٹو کے جنم دن کے موقع پر قائدِ انقلاب کی انقلابی جدوجھد کو سُرخ سلام پیش کرتے ہیں ❤️🎂💐
پ،پ،پ(شھید بھٹو)

1st August Black Day About 19th Death Anniversary The Most Respectable Personality Student's Leader My Elder Brother Bra...
01/08/2025

1st August Black Day About 19th Death Anniversary The Most Respectable Personality Student's Leader
My Elder Brother Brave Comrade
Shaheed Lala Yasir Pathan Central Leader SPSF(Shaheed Bhutto)Sindh And Colleague of Shaheed Mir Murtaza Bhutto.
Follower of Bhuttoism Till Death
We Are Always Miss You & Your Struggle.
Regards:PPP(Shaheed Bhutto)
Zulfikar Ali Bhutto Jr Ghinwa Bhutto

To:Mr. Zulfikar Ali Bhutto Jr.Leader & RepresentativePPP (Shaheed Bhutto)Subject: Invitation to the 19th Death Anniversa...
26/07/2025

To:
Mr. Zulfikar Ali Bhutto Jr.
Leader & Representative
PPP (Shaheed Bhutto)

Subject: Invitation to the 19th Death Anniversary of Shaheed Lala Yasir Pathan, Ex-Central Leader SPSF (Shaheed Bhutto)

Respected Sir,

We hope this message finds you in good health and high spirits.

It is with great respect and honour that we invite you to attend and grace the 19th Death Anniversary of Shaheed Lala Yasir Pathan. He was my cousin, and I hope you know him very well. Every year, I organize this program to honour his sacrifices, and this year it will be held on August 1st, 2025, at either Sukkur or Hyderabad, as per your choice.

Shaheed Lala Yasir Pathan, the former Central Leader of SPSF (Shaheed Bhutto) under PPP (Shaheed Bhutto), gave his life for the cause of democracy, justice, truth, and Bhuttoism. His sacrifice continues to inspire countless young workers in Sindh and beyond.

On this occasion, we would like to humbly acknowledge that the picture of this martyr is already displayed at the Fateh Point Gallery, ensuring that future generations recognize and remember his bravery and loyalty.

We would be deeply honoured by your presence as Chief Guest at the event, to pay tribute to his memory and address the community of workers and supporters who continue his legacy.
Event Details:
Date: August 1st, 2025
Time: (To be confirmed as per your convenience)
Venue: Sukkur or Hyderabad (as per your choice)
We kindly request your confirmation of attendance.
With profound respect and regards,

Lala Shafqat Pathan
Ex-Central Organizer
PPP (Shaheed Bhutto)
Zulfikar Ali Bhutto Jr

شہید علی گوہر چانڈیو کی 17 ویں برسی کے موقع پر اس کی یاد میں ایک مختصر آرٹیکل"مٹی کا بہادر سپوت"تحریر: لالا شفقت پٹھان ج...
21/07/2025

شہید علی گوہر چانڈیو کی 17 ویں برسی کے موقع پر اس کی یاد میں ایک مختصر آرٹیکل
"مٹی کا بہادر سپوت"
تحریر: لالا شفقت پٹھان

جولائی 10/7/2008 کو کراچی کی ایک پوش علاقے میں گولیوں کی گونج کے ساتھ صرف ایک نوجوان کو نہیں، ایک ہر دل عزیز حریت پسند طلباء رہنما کو نشانہ بنایا گیا۔ شہید علی گوہر چانڈیو سندھ کی مٹی سے جنم لینے والا، شھید قائد میر مرتضیٰ بھٹو اور بھٹوازم کا سچا کارکن تھا، اور عوامی سیاست کا محنتی کردار تھا، آمریت سے وابستہ جبر حکمرانوں کے اشعارے پر اس کو ہمیشہ کے لیے خاموش کر دیا گیا۔ مگر اس کی زندگی کا ہر لمحہ، ہر عمل، اور ہر پہلو آج بھی سینکڑوں نوجوانوں کے لیے حوصلے اور رہنمائی کا ذریعہ ہے۔ابتدائی پس منظر سندھ کی مٹی سے جنم لینے والا انقلابی چراغ
شہید علی گوہر چانڈیو ضلع قمبر، سندھ کے ایک متوسط گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کے مزاج میں عاجزی، گفتار میں نرمی، اور سوچ میں انقلابی ولولہ تھا۔ انہوں نے سیاست کو صرف نعروں یا جذبات کا کھیل نہیں بنایا، بلکہ اسے خدمت، سچائی، اور قربانی کا ذریعہ سمجھا۔
شھید علی گوہر چانڈیو نے سپاف (شھید بھٹو)
میں بطور مرکزی صدر جو ہم کردار ادا کیا، وہ قابلِ رشک ہے۔ انہوں نے نوجوان کارکنوں کو متحرک کیا، پارٹی کو مضبوط کیا، اور اس وقت کی پارٹی چیئرپرسن محترمہ غنویٰ بھٹو کو ایک مضبوط پلیٹ فارم فراہم کیا اور اس کے ہمراہ ہر مشکل وقت میں پہاڑ کی مانند کھڑا رہا یہ اور بات ہے کہ آج اس کے خون کی قربانی کی قیمت ان کے نزدیک کوئی اہمیت نہیں رکہتی،پر کارکنوں کو آج بھی اس کی پارٹی کے ساتھ وفاداری یاد ہے دورانِ سیاسی اسیری ہو یا کارکن پر کوئی مشکل وقت آئے وہ اس وقت اپنی موجودگی کو یقینی بنا کر صف اول کا کردار ادا کرتا تھا،اور پارٹی چیئرپرسن تک کارکنوں کی آواز براہِ راست پہنچتا تھا،اس کا فل فور تدارک بھی ہوتا تھاـ
وہ پارٹی اور عوام کے درمیان ایک نظریاتی پُل تھا نہ وہ قیادت سے کٹا، نہ کارکنوں سے دور ہوا،کارکنوں کا ہمدرد قیادت کا اعتماد
شہید علی گوہر کی شخصیت کا سب سے اہم پہلو تھا اس کی انسان دوستی اور عاجزی تھی۔ وہ دن رات کارکنوں کے ساتھ کھڑا رہتا، ان کے مسائل سنتا، خود سے زیادہ دوسروں کو اہمیت دیتا۔وہ کبھی کسی پر حکم نہیں چلاتا تھا،صرف مثبت مشورہ دیتا۔
وہ عہدے کے غرور سے چور نہیں تھا، ذمہ داری کا احساس رکھتا تھا۔
وہ لیڈر نہیں، عوام کا خادم بن کر دل جیت تا تھا۔ شہادت وفاداری اور انقلاب کا قتل 10
جولائی کو پولیس کی گولیوں سے علی گوہر کو شہید کر دیا گیا۔ آج بھی اس کے قاتل قانون سے آزاد ہیں، اور سوال وہیں کا وہیں ہے؟

علی گوہر چانڈیو کا جرم کیا تھا؟ صرف یہ کہ وہ ایک سچا انقلابی بھٹوازم کا کارکن تھا؟
کیا نظریاتی کارکنوں کا یہی انجام ہے؟
کب ملے گا اس کا انصاف؟ کب مکمل ہو گا اس کی قربانی کا قرض؟

سبق جو شھید علی گوہر ہمیں دے گیا
قربانی صرف بڑے ناموں کا حق نہیں ایک کارکن بھی تاریخ کا رخ بدل سکتا ہے۔

لیڈر وہ نہیں جو اوپر بیٹھے، بلکہ جو نیچے سے ہاتھ تھام کر لوگوں کو اوپر لائے۔

نظریہ وہی زندہ رہتا ہے جس پر جان دی جائے، اور شھید علی گوہر چانڈیو نے یہ ثابت کر دیا۔
شہادت کبھی ضائع نہیں جاتی جولائی کے سیاہ ماہ میں عظیم رہنماؤں کی قربانی یقیناً قابلِ تحسین ہے اور کارکنوں کے لیے مشعلِ راہ ہے
چاہے شھید شاھنواز بھٹو ہوں یا شھید علی گوہر چانڈیو یہ دونوں شہداء ہم سے جدا ہو چکے، مگر ان کا نظریہ، ان کی قربانی، اور ان کا کردار آج بھی زندہ ہے۔ ان کی زندگیاں ہمیں سکھاتی ہیں کہ اصل طاقت بندوق یا کرسی میں نہیں، بلکہ سچ، قربانی، اور وفا میں ہے۔

سلام ہو ان شہداء کو جنہوں نے ہمیں یہ سبق دیا کہ جھکنے سے بہتر ہے مر جانا۔
Zulfikar Ali Bhutto Jr

سورۃ البقرہ، آیت 232فَلَا تَعْضُلُوهُنَّ أَن يَنكِحْنَ أَزْوَاجَهُنَّ إِذَا تَرَاضَوْا بَيْنَهُم بِالْمَعْرُوفِپس تم انہ...
21/07/2025

سورۃ البقرہ، آیت 232
فَلَا تَعْضُلُوهُنَّ أَن يَنكِحْنَ أَزْوَاجَهُنَّ إِذَا تَرَاضَوْا بَيْنَهُم بِالْمَعْرُوفِ
پس تم انہیں نہ روکو کہ وہ اپنے شوہروں سے نکاح کر لیں، جب کہ وہ آپس میں معروف طریقے سے راضی ہو جائیں۔
یہاں عورت کی اپنی رضا کو بنیاد بنایا گیا ہے۔ولی (سرپرست) کو روکنے سے منع کیا جا رہا ہے۔
سلام ہے اس خاتون پر جس نے موت کو مات دے دی اس کی بھادری اور جرت نے ایک تاریخ رقم کردی،اسلامی شریعت اور پاکستان کے آئین کے مطابق،لڑکا اور لڑکی کو آزادانہ اختیار ہے وہ اپنی مرضی سے نکاح کر سکتے ہیں،مگر یہ جو تصویر میں قاتل مرد نظر آرہے ہیں یہ دراصل میں داڑھی والی عورتیں ہیں، جن کو اپنی جھوٹی انا پرستی عزیز ہے،مگر اسلامی شریعت اور آئین کا تقدس سرعام پامال کر رہے ہیں، ان کے خلاف کوئی بھی قانونی کارروائی نہیں ہو رہی اور شریعتی فتویٰ بھی نہیں لگ رہا،یہ تصویر سرداری نظام پر بدنما سیاہ داغ ہے یہ غیرت نہیں ہے اس کو بغیرتی کہوـ
Zulfikar Ali Bhutto Jr

شہید شاھنواز بھٹو"جلاوطنی میں جینے والا انقلابی سورج" تحریر: لالا شفقت پٹھان(جولائی 18 سیاہ دن 40 ویں برسی) پاکستان کی ت...
19/07/2025

شہید شاھنواز بھٹو
"جلاوطنی میں جینے والا انقلابی سورج"
تحریر: لالا شفقت پٹھان
(جولائی 18 سیاہ دن 40 ویں برسی)
پاکستان کی تاریخ کا وہ دن ہے جب نہ صرف ایک نوجوان شہزادہ خاموش کر دیا گیا، بلکہ ایک پوری انقلابی تحریک کے دل پر وار کیا گیا۔ شہید شاھنواز بھٹو، بھٹو خاندان کا تیسرا چراغ، شہید ذوالفقار علی بھٹو کا سب سے چھوٹا بیٹا، اور جمہوری مزاحمت کی آخری امید دنیا سے رخصت کر دیا گیا۔ مگر وقت گواہ ہے کہ وہ مرا نہیں؛ وہ آج بھی نظریات کی شمع بن کر دلوں میں زندہ ہے۔
خاندانی پس منظر جس گھر میں قربانی روایت ہے

بھٹو خاندان وہ خاندان ہے جس کی سیاسی شناخت صرف اقتدار یا حکمرانی سے نہیں، بلکہ قربانی، مزاحمت، اور عوامی خدمت سے بنی ہے۔ شاھنواز بھٹو کو سیاست وراثت میں ملی تھی، مگر اس نے اسے عوامی امانت میں بدل دیا۔ اس کی پرورش ایک ایسی فضا میں ہوئی جہاں شعور، استقامت، اور عوامی محبت کو ترجیح دی جاتی تھی۔
شاھنواز: نظریہ، شعور اور مزاحمت
شاھنواز بھٹو وہ نوجوان تھا جو صرف ایک شہزادہ نہیں، بلکہ عوامی جدوجہد کا سپاہی تھا۔ اس نے تعلیم کے بعد دنیا کو سمجھنے کی کوشش کی اور جلد ہی آمریت، سامراجی سازشوں، اور سرمایہ دارانہ ظلم کے خلاف صف آرا ہو گیا۔
انہوں نے افغانستان، جرمنی، جنیوا، اور فرانس میں اپنی زندگی کا بیشتر حصہ جلاوطنی میں گزارا۔ مگر وہ جلاوطنی ہار کی علامت نہیں تھی، بلکہ ظلم سے ٹکرا جانے کا اعلان تھی۔
پراسرار موت یا عالمی سازش؟
جولائی 18/7/1985 کو فرانس کے شہر کین میں شاھنواز بھٹو کو زہر دے کر قتل کیا گیا۔ یہ واقعہ صرف ایک نوجوان کی موت نہیں تھا، بلکہ اس جدو جہد کو خاموش کرنے کی کوشش تھی جو شاھنواز عالمی سطح پر بھٹو ازم اور پاکستان کی مظلوم عوام کے لیے لڑ رہے تھے۔
بدقسمتی یہ ہے کہ آج تک نہ اس قتل کی مکمل تحقیقات ہوئیں، نہ قاتلوں کو بے نقاب کیا گیا۔ یہ سوال آج بھی زندہ ہے: کیا بھٹو کے نظریے سے محبت کرنے والے ہمیشہ بے آواز مارے جائیں گے؟
شاھنواز کی تعلیمات نئی نسل کے لیے مشعلِ راہ
شہید شاھنواز بھٹو کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے جمہوریت قربانی مانگتی ہے اصولوں پر ڈٹ جانا آسان نہیں، مگر ضروری ہے
اقتدار کی قیمت پر نظریہ نہ بیچو۔
ان کی زندگی کا ہر لمحہ ایک پیغام ہے کہ ظلم سے ٹکرانا فرض ہے، چاہے اس کی قیمت جان ہی کیوں نہ ہو۔
آج کا تقاضا
شاھنواز بھٹو کی برسی پر ہمیں خود سے یہ سوال کرنا ہے؟
کیا ہم نے ان کی قربانی کو زندہ رکھا؟

کیا ہم اس نظریے کی حفاظت کر رہے ہیں جس کے لیے وہ جیتے اور مرے؟

کیا آج کی سیاست میں کہیں شاھنواز جیسا اخلاص، دیانت اور قربانی کا جذبہ موجود ہے؟
اگر نہیں، تو ہمیں خود کو بدلنے کی ضرورت ہے کیونکہ بھٹو ازم صرف نعرہ نہیں، ایک طرزِ زندگی ہے۔

A very important meeting took place at 70 Clifton with the beloved son of Shaheed Quaid Mir Murtaza Bhutto, Junior Zulfi...
15/04/2025

A very important meeting took place at 70 Clifton with the beloved son of Shaheed Quaid Mir Murtaza Bhutto, Junior Zulfiqar Ali Bhutto. During this meeting, we had a detailed discussion on the current political situation.

The most proud and honorable moment for me was when Junior Zulfiqar Ali Bhutto addressed me and said: “Welcome Lala, you are a true lover of Mir Baba.”

This sentence was not only an honor for me, but also a recognition of all my struggles, sacrifices, and unwavering loyalty.

I sincerely salute Junior Zulfiqar Ali Bhutto for his revolutionary vision, his strong commitment to Bhuttoism, and his determination to carry forward the mission of our martyrs.

This meeting is a historic moment in my political journey — one I will always remember.
Zulfikar Ali Bhutto Jr

Address

Shikarpur

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Lala Shafqat Pathan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share