Do you know?

Do you know? Explore the world with faheem

ایک رپورٹ کے مطابق سوئٹزرلینڈ کےایک نایاب  جوتے  نے تاریخ کا سب سے بڑا راز فاش کر دیا - بتایا جاتا ہے کہ سوئٹزرلینڈ کی ا...
09/03/2026

ایک رپورٹ کے مطابق سوئٹزرلینڈ کےایک نایاب جوتے نے تاریخ کا سب سے بڑا راز فاش کر دیا - بتایا جاتا ہے کہ سوئٹزرلینڈ کی ایک ایسی کمپنی جو دنیا کے عام لوگوں کے لیے نہیں، بلکہ صرف مخصوص 1,000 امیر ترین اور بااثر خاندانوں کے لیے جوتے تیار کرتی تھی۔ ان جوتوں کی تیاری میں استعمال ہونے والا مواد دنیا کے الگ الگ حصوں سے اکٹھا کیا جاتا تھا:
تلوے: نیوزی لینڈ کی ان نایاب گایوں کے چمڑے سے بنتے تھے جن کے سینگ نیلے اور کھال سنہری ہوتی ہے۔
اگلا حصہ (Toe): برازیل کے مگرمچھوں کی جلد سے تیار ہوتا تھا۔
اوپری حصہ (Back): افریقہ کے سیاہ ہاتھیوں کے کانوں کا چمڑا استعمال ہوتا تھا۔
اندرونی استر: ہرن کے نرم چمڑے سے بنتا تھا تاکہ پہننے والے کو مخملی احساس ہو۔
سلائی: اس میں وہ دھاگہ استعمال ہوتا تھا جس سے بلٹ پروف جیکٹس بنتی ہیں۔
کمپنی کا دعویٰ تھا کہ ان جوتوں کی پالش 50 سال تک نہیں اترے گی اور اگر انہیں مٹی میں دفن کر دیا جائے، تو سو سال تک ان کی چمک دمک برقرار رہے گی۔
افغانستان کے آخری بادشاہ ظاہر شاہ اس کمپنی کے ممبر تھے۔ جب ان کے کزن سردار داؤد خان نے ظاہر شاہ کا تخت الٹا اور اقتدار پر قبضہ کیا، تو انہوں نے بادشاہ کی دیگر چیزوں کے ساتھ اس کمپنی کی ممبر شپ بھی اپنے نام کروا لی۔ سردار داؤد اپنی پوری زندگی اسی کمپنی کے جوتے پہنتے رہے۔
اپریل 1978ء میں افغانستان میں "ثور انقلاب" آیا۔ کمیونسٹ نواز فوج نے صدارتی محل پر حملہ کر دیا۔ سردار داؤد خان کو ان کے خاندان کے 30 افراد سمیت بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔ انتقام کی آگ اتنی شدید تھی کہ ان کی لاش کو جیپ کے پیچھے باندھ کر کابل کی سڑکوں پر گھسیٹا گیا اور پھر بغیر غسل، کفن یا جنازے کے دو گمنام اجتماعی قبروں میں دبوا دیا گیا۔
وقت گزرتا گیا اور کسی کو معلوم نہ تھا کہ سردار داؤد خان کی باقیات کہاں ہیں۔ پھر 26 جون 2008ء کو کابل کے قریب ایک فوجی اڈے کی تعمیر کے دوران اتفاقاً دو اجتماعی قبریں دریافت ہوئیں۔
وہاں موجود لاشیں مٹی بن چکی تھیں اور لباس بوسیدہ ہو چکے تھے، لیکن ایک ڈھانچے کے پاؤں میں موجود سیاہ بوٹ بالکل نئے لگ رہے تھے۔ ان کی چمک برقرار تھی، بکل سنہری تھی اور تلوے پر مگرمچھ کا نشان واضح تھا۔ انہی جوتوں کی بدولت سردار داؤد خان کی شناخت ممکن ہو سکی۔ یہ تاریخ کا پہلا واقعہ تھا جہاں ایک حکمران کی لاش اس کے چہرے یا ڈی این اے سے نہیں، بلکہ اس کے نایاب جوتوں سے پہچانی گئ

"لَنْ أَخُونَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ﷺ" (میں آپ سے کبھی بےوفائی نہیں کروں گا، اے رسولِ اللہ ﷺ)یہ الفاظ تاریخ کے ایک سچے م...
02/01/2026

"لَنْ أَخُونَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ﷺ"
(میں آپ سے کبھی بےوفائی نہیں کروں گا، اے رسولِ اللہ ﷺ)

یہ الفاظ تاریخ کے ایک سچے مجاہد، فخرالدین پاشا کے ہیں، جو انہوں نے روضۂ رسول ﷺ کے سامنے اس وقت کہے جب مدینہ منورہ پہلی جنگِ عظیم کے دوران سخت محاصرے میں تھا۔
جب انگریزوں اور جزیرۂ عرب اور اس کے اطراف کے بعض عربوں نے مدینہ منورہ اور نبی ﷺ کے روضۂ اقدس کا محاصرہ کیا، تو وہاں ایک عظیم ہیرو موجود تھا: فخرالدین پاشا، جس کی عظیم شخصیت کو عیسائیوں نے جان بوجھ کر مسخ کرنے کی کوشش کی۔

یہاں عثمانی پاشا فخر الدین پاشا اور ان کے جنگجو سپاہی بیماری، بھوک، اور شدید تکلیف کا شکار تھے، یہاں تک کہ ٹڈی دل یعنی (ٹڈیاں) کھانے پر مجبور ہو گئے، لیکن پھر بھی انہوں نے گوارا نہ کیا کہ رسول اللہﷺ کا مبارک شہر انگریزوں کے حوالے کیا جائے۔

اللہ تعالیٰ اس مردِ مجاہد پر رحم فرمائے اور ہمیں اپنی تاریخ کو پڑھنےکی توفیق عطا فرمائے، آمین۔

اس جیسا نشانہ باز نہ پہلے کوئی پیدا ہوا نہ کوئی آئندہ پیدا ہو گا فقیر کالا خان مری بلوچ صوفی تھے.انگریزوں نے 1870 میں جب...
05/07/2025

اس جیسا نشانہ باز نہ پہلے کوئی پیدا ہوا نہ کوئی آئندہ پیدا ہو گا
فقیر کالا خان مری بلوچ صوفی تھے.
انگریزوں نے 1870 میں جب بلوچستان پر حملہ کیا تو فقیر کالا خان نے تسبیح چھوڑ کر بندوق اُٹھائی۔ پھر مزاحمت کی تاریخ رقم کر ڈالی۔ موجودہ بلوچستان کے ضلع کوہلو کی تحصیل کاہان کی ایک پہاڑی پر انگریز آرمی کو چار سال تک روکے رکھا، برٹش آرمی توپوں بندوقوں سے مسلح گھیرا تنگ کرتی رہی مہینوں کے محاصرے سینکڑوں فوجیوں کی ہلاکت کے بعد پہاڑی پر قبضہ کیا گیا تو بھوک سے نڈھال کالا خان مری بلوچ اپنے دو ساتھیوں جلامی بلوچ اور رحیم علی بلوچ سمیت پکڑا گیا مقدمہ چلا
پھانسی کی سزا دی گی یہ تصویر 1891 میں پھانسی سے پہلے لی گئی جس میں کالا خان مری بلوچ اپنے ساتھیوں سمیت پکڑا گیا۔
سوال یہ یے کہ ہم اپنے ہیروز سے لاعلم کیوں ہیں جان بوجھ کر انکی تاریخ قوم سے کیوں چھپائی گئی ؟ ان پر فلمیں ڈرامے کیوں نہیں بنے ؟
کالا خان بلوچ کو پھانسی کے بعد کلکتہ جو تار بھیجا گیا اس میں لکھا تھا" اس جیسا نشانہ باز نہ پہلے کوئی پیدا ہوا نہ کوئی آئندہ پیدا ہو گا"

برف کی آغوش میں سوئے لوگ — کیلاکیتسوق کی حیران کن دریافت 1972 کا سال تھا۔ گرین لینڈ کی برفیلے اور سنسان خطے میں دو بھائی...
29/06/2025

برف کی آغوش میں سوئے لوگ — کیلاکیتسوق کی حیران کن دریافت



1972 کا سال تھا۔ گرین لینڈ کی برفیلے اور سنسان خطے میں دو بھائی شکار کے ارادے سے نکلے تھے۔ وہ شاید ہر چیز کی توقع کر رہے ہوں گے، مگر جو کچھ ان کے سامنے آیا، وہ عقل کو حیرت میں ڈال دینے والا تھا۔ ایک چھپی ہوئی غار… اور اس غار میں آٹھ لاشیں… نہیں، یہ صرف لاشیں نہیں تھیں — یہ ممی تھیں، صدیوں پرانی، مگر حیرت انگیز طور پر محفوظ۔

یہ مقام بعد میں کیلاکیتسوق کے نام سے جانا گیا۔ ان ممیوں میں عورتیں تھیں اور ایک بچہ بھی… سب کے سب روایتی لباس میں ملبوس، جن کے دھاگے اور سلائی آج بھی گویا بولتے ہیں۔ ان کے چہروں پر نقش و نگار، ہاتھوں پر ٹیٹو، اور بالوں کی خوبصورتی سے گوندھی ہوئی چوٹیاں، گویا وقت کے آئینے میں 15ویں صدی کے انوٹ قبائل کی جھلک دکھا رہی تھیں۔

غار کی ٹھنڈک، خشک ہوا، اور پتھریلی پناہ گاہ نے ان جسموں کو صدیوں تک محفوظ رکھا۔ سائنسدانوں کو ایسا خزانہ ہاتھ آیا، جو صرف آثارِ قدیمہ ہی نہیں، بلکہ طب، بشریات اور جینیات میں تحقیق کے لیے بھی ایک قیمتی ورثہ بن گیا۔

تحقیقات سے معلوم ہوا کہ یہ لوگ صرف سردی سے لڑنے والے شکاری نہیں تھے، بلکہ ان کی زندگی میں تہذیب، آرٹ، اور روحانی تشخص بھی گہرا تھا۔ ان کی جلد پر ٹیٹو روایتی کہانیوں اور شناخت کے نشان تھے۔ جسموں پر بیماریوں کے آثار بھی ملے — جیسے گٹھیا یا غذائیت کی کمی، جو یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ان کی زندگی آسان نہ تھی۔

اور سب سے اہم بات… ڈی این اے کے تجزیے سے ان قدیم لوگوں کی نسلوں کی نقل مکانی کے راز کھلے، جو ہمیں یہ بتاتے ہیں کہ آرکٹک کے لوگ کس طرح دنیا کے مختلف حصوں سے جڑے ہوئے تھے۔

کیلاکیتسوق کی یہ ممی نہ صرف سائنس کے لیے ایک حیرت انگیز تحفہ ہیں، بلکہ یہ ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ انسانی کہانیاں کہیں بھی چھپی ہو سکتی ہیں۔ کبھی ایک سنسان غار میں، کبھی برف کے نیچے… بس ضرورت ہوتی ہے ایک نظرِ جستجو کی۔

برف کی چادر میں لپٹے یہ لوگ آج بھی خاموشی سے ہمیں پکار رہے ہیں — کہ آؤ، ہماری کہانی سنو.

Address

Sialkot

Telephone

+923004478181

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Do you know? posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Do you know?:

Shortcuts

Share

Category