21/01/2026
حضرت عباسؑ وفا کا وہ روشن مینار ہیں جس پر تاریخِ کربلا کو ہمیشہ ناز رہے گا۔ آپؑ امامِ وقت کے ایسے مطیع و فداکار علمبردار تھے کہ اپنی جان، بازو اور سانسیں سب دینِ محمدیؐ پر قربان کر دیں، مگر عہدِ ولایت پر آنچ نہ آنے دی۔
شجاعت ایسی کہ فرات کا کنارۂ دشمن لرز اٹھا، اور صبر ایسا کہ پیاس کے عالم میں بھی بچوں کے لبوں کی خشکی اپنی ذات پر ترجیح دی۔ آنکھوں کے سامنے پانی تھا، مگر لبوں تک نہ لے گئے—یہی عباسؑ کی معرفت، یہی وفا کی معراج ہے۔
اسی لیے آپؑ کو بابُ الحوائج کہا جاتا ہے؛ کیونکہ جو دل خلوص سے پکارے، عباسؑ اس کی جھولی خالی نہیں رہنے دیتے۔
عباسؑ فقط ایک شخص نہیں، وفا، غیرت، قربانی اور ولایت کا زندہ عنوان ہیں۔
سلام ہو اس بازو کٹے علمبردارؑ پر،
جس نے وفا کو ہمیشہ کے لیے امر کر دیا۔