Dr Muhammad Ali Irfan

Dr Muhammad Ali Irfan MBBS,RMP,CMO at RHQ Hospital Skardu,FCPS (Resident Surgeon)Plastic and Cosmetic Surgery.

سکردو۔ ایس ایچ او تھانہ بغارد کچورا  #احسان  #ذاکر و عملے نے سنگین چوری/نقب زنی کی واردات میں ملوث ملزم کو تعقب کر کے گر...
24/12/2024

سکردو۔ ایس ایچ او تھانہ بغارد کچورا #احسان #ذاکر و عملے نے سنگین چوری/نقب زنی کی واردات میں ملوث ملزم کو تعقب کر کے گرفتار کیا۔ ملزم سے مزید تفتیش جاری ہے۔
Mashallah Stay Blessed Bro Ehsan Zakir❤️

The Greater Israil’s dream became true now !Congratulations to soo Called Muslims .
08/12/2024

The Greater Israil’s dream became true now !
Congratulations to soo Called Muslims .

Ali Irfan Baltistani
11/10/2024

Ali Irfan Baltistani

DR ABIDA BATOOLBDS.RDSFCPS-1 DENTISTRY(DENTAL SURGEON/ORAL PHYSICIAN)EX HOUSE OFFICER (NID)NISHTAR MEDICAL UNIVERSITY MU...
01/08/2024

DR ABIDA BATOOL
BDS.RDS
FCPS-1 DENTISTRY
(DENTAL SURGEON/ORAL PHYSICIAN)
EX HOUSE OFFICER (NID)
NISHTAR MEDICAL UNIVERSITY MULTAN

For Consultation and Treatment of all Dental Procedures reach Abbas Hospital Link Road Sukkamaidan Skardu.
📞 05815-455518

Asset vs LiabilitySon:  Dad, may I speak with you?Dad: Go ahead.Son: Among all my classmates, I am the only one without ...
11/06/2024

Asset vs Liability

Son: Dad, may I speak with you?
Dad: Go ahead.
Son: Among all my classmates, I am the only one without a car. It is embarrassing.
Dad: What do you want me to do?
Son: I need a car. I don't want to feel odd.
Dad: Do you have a particular car in mind?
Son: Yes dad (smiling)
Dad: How much?
Son: 200,000 pesos
Dad: I will give you the money on one condition.
Son: What is the condition?
Dad: You will not use the money to buy a car but invest it. If you make enough profit from the investment, you can go ahead and buy the car.
Son: Deal.

Then, the father gave him a cheque of 200,000 pesos. The son cashed the cheque and invested it in obedience to the verbal agreement that he had with his father.

Some months later, the father asked the son how he was faring. The son responded that his business was improving. The father left him.

After some months again, the father asked him about his business
again and the son told him that he is making a lot of profit from the business.

When it was exactly a year after he gave him the money, the father asked him to show him how far the business has gone. The son readily agreed and the following discussion took place:

Dad: From this I can see that you have made a lot of money.
Son: Yes dad.
Dad: Do you still remember our agreement?
Son: Yes
Dad: What is it?
Son: We agreed that I should invest the money and buy the car from the profit.
Dad: Why have you not bought the car?
Son: I don't need the car again. I want to invest more.
Dad: Good. You have learnt the lessons that I wanted to teach you.
- You didn't really need the car, you just wanted to feel among. That would have placed extra financial obligations on you. It wasn't an asset then; but a liability.
- Two, it is very important for you to invest in your future before living like a king.
Son: Thanks dad.

Then the father gave him the keys of the latest model of that car.

MORALS:
1. Always invest first before you start living the way you want.

2. What you see as a need now may become a want if you can take a little time to get over your feelings.

3. Try to be able to distinguish between an asset and a liability so that what you see as an asset today will not become a liability to you tomorrow.
©️💙

13/05/2024

یوم مادر ❤️

Credit Skardu TV

سی ایس ایس کا جوا حالیہ دنوں میں سی ایس ایس 2023 کا فائنل رزلٹ نکلا جس میں گلگت بلتستان کے دو کنڈیڈیٹ کامیاب ہوئے۔ جن می...
10/05/2024

سی ایس ایس کا جوا

حالیہ دنوں میں سی ایس ایس 2023 کا فائنل رزلٹ نکلا جس میں گلگت بلتستان کے دو کنڈیڈیٹ کامیاب ہوئے۔ جن میں ایک لڑکی بھی شامل ہے اور اُن کے انٹرویوز بڑے وائرل ہو رہے ہیں۔ دونوں کو نوکری حاصل کرنے اور افسر شاہی cadre میں شامل ہونے پر مبارکباد لیکن اُن کو کامیاب ترین لوگ گردان کر اُن کے انٹرویوز وائرل کرنا میرے نزدیک ایک خطرناک عمل ہے۔

اِس بابت میں اپنا ذاتی تجربے کے بنیاد پر کچھ عرض کرنا چاہوں گا، میں نے بھی اپنے تین چانس پورے کیے ہیں بلکہ یہ کہنا بیجا نہ ہو گا کہ میں نے اپنی زندگی کے چار پانچ قیمتی سال ضائع کیے ہیں۔ پہلا امتحان میں نے 2016 میں دیا جس میں میں نے خاطر خواہ 625 نمبر لیے اور انگلش گرائمر (Précis writing and Comprehension) میں رہ گیا تھا، بہت پذیرائی حاصل ہوئی اور میں اس دلدل میں دھنستا گیا جب تک اپنے تینوں چانس پورے نہیں کیے۔ ایک سال گیپ کرنے کے بعد 2018 میں دوسرا امتحان دیا اس بار بھی تقریباً 600 نمبر لیے لیکن اس بار English Essay میں رہ گیا۔ اس درمیان GBCCE-2017 میں کامیاب تو ہوا پر seat نہیں ملی۔ اِن امتحانات نے مجھے چھوٹا سا سلیبرٹی بھی بنوا دیا اور جوق در جوق “css aspirants” مجھ سے “رہنمائی” لینے لاہور میں ملنے لگے۔

پہلی بات بتانے کی یہ ہے کہ یہ امتحان آپ کے انٹیلکٹ کا امتحان نہیں جس طرح سے اس کے متعلق مغالطے پھیلائے جاتے ہیں بلکہ کسی کے منجمنٹ سکلز کا امتحان ہے۔ 12 میں سے ایک مضمون بھی ٹھیک تیار نہیں ہوا، آپ کی ساری “محنت” رائیگاں۔ اور اسے مقبول عام الفاظ میں bad luck کہہ دیا جاتا ہے۔ تو پہلی بات یہ کہ یہ کوئی فکری صلاحیتوں کو جانچنے کا معیار نہیں طلبا اس امتحان کو سبھی کچھ نہ سمجھ بیٹھیں۔

دوسرا اور اہم نقطہ: ہم کیوں اس امتحان کو اتنا اہم سمجھتے ہیں اور اپنا وقت ضائع کرتے ہیں؟ میری ناقص رائے کے مطابق سی ایس ایس کی معاشرے میں پبلسٹی بہت زیادہ ہے۔ میں خود اس کے لیے اتنا جذبہ کیوں لے کر بیٹھا تھا؟ میرے اندر آئن سٹائن، نائل بوہر، بو علی سینا بننے کا جذبہ کیوں نہیں تھا؟ یا اُن کے کاموں کی قدر کیوں نہیں تھی؟ اس کے پیچھے دو پہلو ہیں: ایک تو افسر شاہی کلچر کے اثرات اور دوسرا یہ کہ سی ایس ایس کی تیاری کرنے والی اکیڈمیز بزنس امپائرز بن گئیں ہیں۔ میں نے css کے بارے میں سنا تو تھا سکول لیول پر لیکن اس کے پیچھے ہاتھ دھو کر تب پڑ گیا جب میں نے پہلی مرتبہ جہانگیر ورلڈ ٹائمز کی ماہنامہ میگزین میں کچھ “کامیاب” کنڈیڈیٹس کا انٹرویو پڑھا۔

آج جہانگیر ورلڈ ٹائمز نمبر ایک اکیڈمی ہونے کے ساتھ ساتھ “پبلشر” ہونے کا بھی “اعزاز” رکھتا ہے اور دھڑا دھڑ کاپی پیسٹ “کتابیں” چھاپ دیتا ہے۔ چونکہ اب کتاب کو تھوڑا بہت جاننے لگا ہوں اس لیے اُن کے مٹیرئیل کو کتاب لکھتے ہوئے ہاتھ کانپ سا جاتا ہے۔ یہاں پر میں یہ اقرار بھی کروں گا کہ اِن کی کتابیں css exam کے لیے کافی حد تک کارآمد بھی ہیں۔ ملک کے چھوٹے بڑے شہروں کے تمام بُک شاپز میں ان کی “کتابوں” کا انبار لگا ہوا۔ اس طرح اور کئی ساری اکیڈمیز اور “کتب خانے” مزے سے کاروبار کر رہی ہیں مثلاً Dogar Publishers, Caravan, KIPS, NOA وغیرہ۔ تو یہ بات طے ہو گئی کہ css mania کے پیچھے فرسودہ کالونیل سوچ، بے جا تشہیر اور لوگوں کے کاروباری انٹریسٹ کار فرما ہیں۔

تیسرا نقطہ: جب کوئی افسر بنتا ہے تو ہم کیوں ناچ ناچ کر گُھنگرو توڑتے ہیں؟ کیا یہ وہ افسر نہیں جو ہمیں دفتروں کے باہر بلا وجہ گھنٹوں خوار کرواتے ہیں؟ کیا یہ وہ نہیں (ماسوائے چند کے) جو عوامی اساسوں کو ذاتی ملکیت بناتے ہیں؟ کیا یہ وہ css qualified لوگ نہیں جن کے بارے میں خبریں پڑھنے کو ملتی ہیں کہ فلاں اتنا لاکھ، کروڑ کی کرپشن میں پکڑا گیا؟ کیا کسی مفکر، سائنسدان، فلاحی ورکر کے بارے میں ایسا سنا ہے کبھی؟ نہیں تو یہ سب بننے کی تجسس میرے اندر کیوں نہیں پیدا ہوا؟ اس لیے ضروری ہے کہ بلاوجہ اس چیز کی اتنی تشہر ہم نہ کریں۔ چونکہ یہ امتحان سسٹم کا ایک حصہ ہے اس لئے نتائج کی خبر تک بات ٹھیک ہے۔

اس کی تشہیر سے گریز کرنا کیوں ضروری ہے میں reasons پیش کرتا ہوں:

1- نوجوانوں کو ٹرک کی بتی کے پیچھے نہیں لگانا چاہیے، وقت ضائع کرنے کے بعد اُن کو حوش آتا۔ میرے استاد محترم نامور دانشور و ترقی پسند رہنما عاصم سجاد اختر کہتے ہیں css کے ذریعے محض 200-300 لوگ نوکری لے سکتے ہیں ساری قوم نے تو نہیں لگنا ہوتا لہٰذا نوجوانوں کے لیے روزگار پیدا کیا جائے، اس کے پیچھے نہ لگا دیا جائے۔

2- نوجوانوں کا سی ایس ایس کے پیچھے لگ جانا اور فکری و سائنسی گروتھ کی کوشش نہ کرنا المیے سے کم نہیں۔ کیونکہ civil servants ہمیں ہماری موجودہ جمود سے نہیں نکال سکتے بلکہ حقائق بتاتے ہیں وہ ہمیں اس میں دھکیلتے ہیں۔

3۔ اس چیز کو چمکتے سونے کی طرح پیش کر کے نوجوانوں کو اندھا کر دیا گیا ہے، جس سے پوچھو سی ایس ایس دینا اس نے۔ بعد میں جب نہیں ہو پاتا ذہنی مریض بن جاتے ہیں اور ایسے مجنونوں کی تعداد سینکڑوں، ہزاروں میں ہے۔ ایک ایسے ہی مجنوں نے یہ داستان لکھی ہے۔

لوگ پہلے سی ایس ایس پاس کرنے والوں کی خبریں سوشل میڈیا پر لگا لگا کر پاگل ہو جاتے ہیں۔ پھر ماتم بھی کرتے ہیں کہ یہی افسر لاکھوں، کروڑوں مالیت کی گاڑیوں پر اپنے گھر کے لیے بجری سپلائی کرتے ہیں۔

تحریر: شجاعت شمالی

At the bank of Indus River Skardu.
21/04/2024

At the bank of Indus River Skardu.

Address

Skardu

Telephone

+923346948985

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr Muhammad Ali Irfan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Dr Muhammad Ali Irfan:

Share