Awam E Dera Bugti

Awam E Dera Bugti ڈیرہ بگٹی سوئی سمیت پاکستان اور دنیا بھر کےحالات سے باخبر رہنے کے لئے ہمارے پیج کو لائک اور فالو کریں

بلوچستان میں سیاسی تبدیلی کی بازگشت۔۔۔۔۔ وزیراعلیٰ کی تبدیلی پر غورباخبر ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگ...
22/07/2026

بلوچستان میں سیاسی تبدیلی کی بازگشت۔۔۔۔۔ وزیراعلیٰ کی تبدیلی پر غور

باخبر ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی کارکردگی پر تحفظات اور اڈھائی سالہ فارمولے کے تحت انہیں تبدیل کرنے پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ نئے وزیراعلیٰ کے انتخاب کے لیے مشاورت جاری ہے۔ اس حوالے سے ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ، اور سابق چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کا نام زیر غور ہیں

ڈاڈا سائیں وڈیرہ جلال خان کلپر صاحب کی جانب سے علاقے کی ترقی، نوجوانوں کے روزگار، سوئی میں پانی، گیس، بجلی اور پی پی ایل...
12/07/2026

ڈاڈا سائیں وڈیرہ جلال خان کلپر صاحب کی جانب سے علاقے کی ترقی، نوجوانوں کے روزگار، سوئی میں پانی، گیس، بجلی اور پی پی ایل کمپنی کے CSR فنڈز کے حوالے سے جاری کردہ تفصیلی بیان پڑھنے کا موقع ملا۔

یہ دیکھ کر خوشی بھی ہوئی کہ تقریباً 2006 کے بعد پہلی مرتبہ ڈاڈا سائیں نے کھل کر کلپر قوم کی پسماندگی، محرومیوں اور بنیادی مسائل کا اعتراف کیا۔ قوم کے مسائل پر آواز اٹھانا ہر ذمہ دار قیادت کا فرض ہے، اور اس حوالے سے ان کے احساس کا اظہار قابلِ توجہ ہے۔

تاہم ایک حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ گزشتہ دو دہائیوں میں کلپر قوم کی سیاسی، سماجی اور معاشی پسماندگی صرف کسی ایک فرد یا ایک حکومت کی پیداوار نہیں۔ اس میں ہماری اپنی اجتماعی کوتاہیاں، غیر ذمہ دارانہ فیصلے، عدم اتفاق، باہمی مشاورت کا فقدان، منظم سیاسی جدوجہد سے دوری اور قیادت کی بعض غلط حکمتِ عملیوں کا بھی بڑا کردار رہا ہے۔ اگر ہم صرف دوسروں کو موردِ الزام ٹھہرائیں اور اپنی غلطیوں کا احتساب نہ کریں تو یہ قوم کے ساتھ انصاف نہیں ہوگا۔

آج اگر وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی مخلصانہ انداز میں سوئی اور گرد و نواح کی ترقی، نوجوانوں کے روزگار، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور پی پی ایل کے CSR فنڈز کو شفاف طریقے سے عوامی مفاد میں استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، تو ایسے وقت میں محض الزام تراشی اور سیاسی بیان بازی کے بجائے تعمیری تعاون کی ضرورت ہے۔

میر سرفراز بگٹی نے متعدد مواقع پر ثابت کیا ہے کہ ان کی ترجیح ذاتی یا قبائلی مفادات نہیں بلکہ پورے علاقے کی ترقی، امن، خوشحالی اور نوجوانوں کا بہتر مستقبل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج مختلف ترقیاتی منصوبوں، روزگار کے مواقع اور عوامی فلاح کے اقدامات پر عملی پیش رفت نظر آ رہی ہے۔

ڈاڈا سائیں اگر واقعی قوم کی محرومیوں پر فکر مند ہیں تو یہ وقت محاذ آرائی کا نہیں بلکہ اتحاد، مشاورت اور مشترکہ جدوجہد کا ہے۔ قومیں الزام تراشی سے نہیں بلکہ بصیرت، اتفاق اور عملی اقدامات سے ترقی کرتی ہیں۔

میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ کلپر قوم سمیت پورے علاقے کو اتفاق، شعور اور ایسی قیادت عطا فرمائے جو ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر صرف عوام کے حقوق، نوجوانوں کے مستقبل اور علاقے کی ترقی کے لیے کام کرے ۔۔ آمین

ڈسٹرکٹ ڈیرہ بگٹی سے تعلق رکھنے والے اساتزہ کرام کے مطابق محکمہ تعلیم ضلع ڈیرہ بگٹی میں اس وقت سب سے بڑا مسئلہ 220 آسامیو...
12/07/2026

ڈسٹرکٹ ڈیرہ بگٹی سے تعلق رکھنے والے اساتزہ کرام کے مطابق محکمہ تعلیم ضلع ڈیرہ بگٹی میں اس وقت سب سے بڑا مسئلہ 220 آسامیوں کا ہے۔ یہ نئی آسامیاں نہیں بلکہ وہ پرانی، منظور شدہ پوسٹیں ہیں جو مالی سال 2026–2027 کے بجٹ میں ریفلیکٹ نہیں ہوئیں۔ اس کے نتیجے میں 220 خاندانوں کا روزگار شدید متاثر ہونے کا خدشہ ہے اور ضلع ڈیرہ بگٹی کی ترقی کو نقصان پہنچا ہے۔

محترم اساتذہ کرام کے مطابق محض تبادلوں سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ ایک ملازم کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنا اس مسئلے کا مستقل حل نہیں ہے۔

انہوں نے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر ڈیرہ بگٹی، جناب عبدالرزاق صاحب سمیت ڈیرہ بگٹی کے سیاسی قبائلی عمائد ین اور چیف منسٹر بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور ان کے ٹیم ممبرز سے مؤدبانہ اپیل کی کہ وہ براہ کرم اس اہم مسئلے کو سنجیدگی سے لیں جبکہ محکمہ سے منسلک دیگر آفیسرز بھی متعلقہ اعلیٰ حکام کے سامنے بھرپور انداز میں اٹھائیں اور ان پرانی، منظور شدہ 220 آسامیوں کو مالی سال 2026–2027 کے بجٹ میں دوبارہ ریفلیکٹ کروانے کے لیے مؤثر کردار ادا کریں، تاکہ متاثرہ خاندانوں کا روزگار بحال ہو سکے

بلوچستان میں لیویز فورس دوبارہ بحال کرنے کی تجویز زیر غور ،زرائع
12/07/2026

بلوچستان میں لیویز فورس دوبارہ بحال کرنے کی تجویز زیر غور ،زرائع

اِنّا لِلّٰهِ وَاِنّا اِلَيْهِ رَاجِعُوْن
10/07/2026

اِنّا لِلّٰهِ وَاِنّا اِلَيْهِ رَاجِعُوْن

وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کا بیکڑ میں شبعہ صحت میں بہترین کاکردگی پر خوشی کا اظہار لیکن سوئی بھی تو اپکا دل ہے...
02/07/2026

وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کا بیکڑ میں شبعہ صحت میں بہترین کاکردگی پر خوشی کا اظہار لیکن سوئی بھی تو اپکا دل ہے اس پر توجہ کیو نہیں!؟؟

26/06/2026

ہمارے پاس کم تھا، لیکن ہمارے پاس ایک دوسرے تھے"

انگریزی ترجمہ:

میرا ماننا ہے کہ ان دنوں لوگوں کے پاس مادی دولت بہت کم تھی لیکن ان میں خلوص، محبت اور ہمدردی تھی، وہ ایک دوسرے کا خیال رکھتے تھے، اگر کوئی بیمار ہو جاتا تو لوگ دور دور سے ان کی عیادت کے لیے آتے اور ان کی خیریت پوچھتے، ڈاکٹروں کی تعداد بہت کم تھی، اور لوگوں کے پاس علم اور وسائل محدود تھے، اس لیے یہ ایک مشکل اور نازک وقت تھا۔

تاہم، آج ہم ایک مختلف دور میں جی رہے ہیں۔ بھائی بھائیوں سے الگ ہوتے ہیں، کزن کزنز سے الگ ہوتے ہیں، اور یہاں تک کہ پوری برادریاں ایک دوسرے سے منقسم ہیں۔ وقار، عزت، حسن سلوک اور باہمی احترام جو کبھی موجود تھا ختم ہو گیا ہے۔ وہ جذبات اور اقدار بھی ناپید ہو گئے ہیں جو لوگوں کو متحد کرتے تھے۔

ایک وقت تھا جب کسی قبیلے یا برادری کو درپیش معمولی سی دھمکی یا مشکل بھی سب کو اکٹھا کر لیتی تھی۔ آج، اگر کسی شخص کے کزن کو کچھ ہوتا ہے، تو یہ رشتہ داروں کے درمیان تقسیم اور تنازعات کو جنم دے سکتا ہے۔ لوگ اب اپنے مفادات کے لیے امن اور سمجھوتہ کرتے ہیں۔ ہم نے ایسے واقعات بھی دیکھے ہیں جہاں ایک بھائی اپنے لیے صلح کر لیتا ہے اور اپنے ہی بھائی کو چھوڑ دیتا ہے، جہاں ایک باپ معاہدہ کرتا ہے اور اپنے بیٹے کو پیچھے چھوڑ دیتا ہے، یا جہاں ایک بیٹا اپنے مفادات کی حفاظت کرتا ہے اور اپنے باپ کو چھوڑ دیتا ہے۔

ماضی میں، یہ صرف بھائی، باپ یا کزنز ہی نہیں تھے جو ایک ساتھ کھڑے ہوتے تھے بلکہ پوری کمیونٹی متحد ہوتی تھی۔ مجھے یقین ہے کہ اگرچہ ان دنوں ہم غریب اور بھوکے تھے لیکن جب میں اس وقت کا موجودہ سے موازنہ کرتا ہوں تو ہمارا دور بہتر تھا۔ یہی بلوچی زندگی کا حقیقی طریقہ تھا۔

سپیکر:محترم تنگو خان ​​بگٹی

​​








یونیسکو





@ہسٹری
@دستاویزی فلم
life

پی پی ایل کمپنی کی طرف سے لیبر کو 2027 حج فارم جمع کرنے آخر تاریخ 26 جون 2026 دیا گیا ہے ۔۔لیبر سے گزارش ہے جلد از جلد ا...
22/06/2026

پی پی ایل کمپنی کی طرف سے لیبر کو 2027 حج فارم جمع کرنے آخر تاریخ 26 جون 2026 دیا گیا ہے ۔۔
لیبر سے گزارش ہے جلد از جلد اپنے حج فارم جمع کریں ۔۔۔

ڈیرہ بگٹی: وڈیرہ شاہی نظام، پامال ہوتا میرٹ اور نوجوانوں کا مستقبلوڈیرہ شاہی اور بلا مقابلہ سلیکشن: فنڈز کہاں گئے؟آج ڈیر...
22/06/2026

ڈیرہ بگٹی: وڈیرہ شاہی نظام، پامال ہوتا میرٹ اور نوجوانوں کا مستقبل
وڈیرہ شاہی اور بلا مقابلہ سلیکشن: فنڈز کہاں گئے؟
آج ڈیرہ بگٹی کا ہر باشعور شہری یہ سوال پوچھنے پر مجبور ہے کہ آخر کب تک ہمارے حقوق پر اس طرح شب خون مارا جاتا رہے گا؟ یہاں بغیر کسی عوامی ووٹ اور حقیقی انتخابی عمل کے، صرف اثر و رسوخ کی بنیاد پر سلیکشن کر دی جاتی ہے۔ عوام پوچھتے ہیں کہ ڈیرہ بگٹی کے نام پر آنے والے کروڑوں اربوں کے فنڈز اور بجٹ کہاں غائب ہو جاتے ہیں؟ زمین پر کوئی ترقیاتی کام کیوں نظر نہیں آتا؟ آخر اس بجٹ سے کس کے گھر سنور رہے ہیں اور کس کے مفادات پورے کیے جا رہے ہیں؟
پی پی ایل (PPL) سن کوٹا اور ڈپلومہ ہولڈرز کا مسئلہ
پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ (PPL) میں مقامی نوجوانوں کا جو 'سن کوٹا' (Son Quota) کا حق ہے، وہ آج تک ایک معمہ کیوں بنا ہوا ہے؟ ہمارے قابلِ فخر انجینئرز اور ڈپلومہ ہولڈرز ڈگریاں ہاتھ میں لیے در در کی خاک چھان رہے ہیں، لیکن ان کا مسئلہ حل ہونے کا نام نہیں لے رہا۔ ایسا لگتا ہے کہ پی پی ایل جیسے قومی ادارے کو بھی چند مخصوص لوگوں کے ذاتی مفادات اور وڈیرہ شاہی کی بھینٹ چڑھا دیا گیا ہے سرکاری ملازمتوں کی خرید و فروخت اور حق تلفی
سب سے بڑا ظلم تو سرکاری نوکریوں کی بندر بانٹ ہے۔ میرٹ کی دھجیاں اڑاتے ہوئے سرکاری ملازمیں چن چن کر وڈیروں کے بیٹوں، رشتے داروں اور خاص بندوں میں بانٹ دی جاتی ہیں، اور جو چند سیٹیں بچ جاتی ہیں، انہیں مبینہ طور پر بھاری پیسوں کے عوض بیچ دیا جاتا ہے! نہ کوئی ٹیسٹ ہوتا ہے، نہ کوئی انٹرویو۔ بس سفارش اور پیسہ ہی اصل قابلیت بن چکے ہیں ایک مجبور باپ اور ناامید نوجوان کا المیہ
جب یہ سب ہوتا ہے، تو قصوروار نوجوانوں کو ٹھہرایا جاتا ہے۔ کوئی اس باپ کے دل سے پوچھے جو تپتی دھوپ میں مزدوری کر کے، اپنی خواہشات کا گلا گھونٹ کر، پیٹ کاٹ کر اپنے بچوں کو پڑھاتا ہے اور انہیں ڈگری دلوانا ہے۔ لیکن جب وہ ڈگری کسی کام نہیں آتی اور نوکری کوئی وڈیرے کا چمچہ بغیر کسی محنت کے لے جاتا ہے، تو اس بوڑھے باپ اور ڈگری ہولڈر نوجوان کے دل پر کیا گزرتی ہوگی؟ پھر معاشرہ گلہ کرتا ہے کہ نوجوان سفید ریش (بزرگوں) کا احترام نہیں کرتے! جب بزرگ ہی نوجوانوں کے مستقبل کا سودا کریں گے، تو احترام کی دیواریں خود بخود گر جاتی ہیں۔
آخر کب تک؟
آخر کب تک ہمارے ملک اور خصوصاً ڈیرہ بگٹی میں یہ ظالمانہ نظام چلتا رہے گا؟
کب تک قابل اور ڈگری ہولڈر نوجوانوں کے حقوق پر اس طرح ڈاکا ڈالا جاتا رہے گا؟
کب ہمارے ہاں سفارش اور وڈیرہ شاہی کا خاتمہ ہوگا اور خالص میرٹ پر بھرتیاں ہوں گی؟
یہ صرف چند سوالات نہیں ہیں، بلکہ یہ ڈیرہ بگٹی کے ہر اس نوجوان کی چیخ ہے جو اس فرسودہ نظام کے ہاتھوں مایوس ہو چکا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ اس ناانصافی کے خلاف آواز اٹھائی جائے اور میرٹ کی بحالی کے لیے جدوجہد کی جائے

انسداد دہشتگردی عدالت نے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کو عمر قید کی سزا سنادی
22/06/2026

انسداد دہشتگردی عدالت نے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کو عمر قید کی سزا سنادی

Address

Sui Dera Bugti
Sui
80000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Awam E Dera Bugti posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share