04/06/2026
موضوع: جائیداد کی رجسٹریشن اور غیر رسمی لین دین کا مسئلہ
محترم اربابِ اختیار!
حکومت کی یہ کامیابی قابلِ داد ہے کہ پانچ مرلہ، دس مرلہ اور ایک کنال کے پلاٹ کی خرید و فروخت میں بعض اوقات ٹیکس اور فیسوں کا بوجھ اتنا بڑھ جاتا ہے کہ شہری باقاعدہ رجسٹری کے بجائے سادہ کاغذ اور اسٹامپ پیپر کا راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ جب ایک عام شہری کو قانونی طریقہ اختیار کرنے کی قیمت غیر معمولی محسوس ہو، تو کیا مسئلہ شہری میں ہے یا نظام میں؟
اگر ایک جائیداد کی منتقلی پر وفاقی، صوبائی، بلدیاتی اور دیگر فیسیں ملا کر اتنا بوجھ ڈال دیا جائے کہ خریدار اور فروخت کنندہ دونوں پریشان ہو جائیں، تو نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ حکومت کو مطلوبہ ریونیو بھی نہیں ملتا اور لین دین بھی غیر دستاویزی ہو جاتا ہے۔
لہٰذا تجویز ہے کہ:
• چھوٹے رہائشی پلاٹس اور گھروں پر ٹیکس اور فیسوں میں نمایاں کمی کی جائے۔
• پہلی مرتبہ گھر خریدنے والوں کے لیے خصوصی رعایت دی جائے۔
• رجسٹریشن اور انتقال کے عمل کو سادہ، تیز اور کم لاگت بنایا جائے۔
• ٹیکس کی شرحیں ایسی رکھی جائیں کہ لوگ خوشی سے قانونی راستہ اختیار کریں، مجبوری میں متبادل راستے نہ ڈھونڈیں۔
معاشیات کا ایک سادہ اصول ہے کہ جب قانونی راستہ بہت مہنگا ہو جائے تو غیر رسمی راستے بڑھ جاتے ہیں۔ دانشمندی زیادہ شرحِ ٹیکس میں نہیں بلکہ زیادہ دستاویزی معیشت میں ہے۔
ریئل اسٹیٹ سیکٹر کو سزا دینے کے بجائے اسے معیشت کی ترقی اور روزگار کے ایک اہم ذریعہ کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔