Agriculture Extension Department Swabi

Agriculture Extension Department Swabi کسانوں کو مناسب راہنمائی فراہم کرنے میں مصروف عمل ہے کسان برادری کو جدید زرعی ٹیکنالوجی سے آگاہ کرنا ہمارا مشن ہے

*صوابی سرکل کرنل شیر کلے* یوریا کھاد کی پابندی کی خلاف ورزی پر کارروائیصوابی: ضلعی ڈائریکٹر زراعت توسیع صوابی محمد ادریس...
18/08/2026

*صوابی سرکل کرنل شیر کلے*
یوریا کھاد کی پابندی کی خلاف ورزی پر کارروائی

صوابی: ضلعی ڈائریکٹر زراعت توسیع صوابی محمد ادریس کی ہدایت پر ایگریکلچر آفیسر احتشام الحق نے فیلڈ اسسٹنٹ طاہر علی، فیلڈ اسسٹنٹ عنایت علی شاہ، فیلڈ اسسٹنٹ محمد ہلال اور مقامی پولیس کے ہمراہ یارحسین بازار میں کھاد ڈیلرز کے خلاف کارروائی کی۔

کارروائی کے دوران حکومت کی جانب سے یوریا کھاد کی خرید و فروخت پر عائد پابندی کی خلاف ورزی سامنے آنے پر یوریا کھاد سیل کر دی گئی۔

مزید قانونی کارروائی کے لیے کیس ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن کو بھجوا دیا گیا ہے۔

محکمہ زراعت توسیع صوابی کی جانب سے تمام کھاد ڈیلرز کو ہدایت کی گئی ہے کہ حکومتی احکامات کی مکمل پابندی کو یقینی بنائیں، بصورتِ دیگر خلاف ورزی کی صورت میں قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

#زراعت #یارحسین #صوابی

31/07/2026

محکمہ زراعت توسیع صوابی

تمام کھاد ڈیلرز، کاشتکاروں اور عوام الناس کے لیے اہم اطلاع

حکومتِ خیبر پختونخوا کی ہدایات کے مطابق یوریا کھاد کی خرید و فروخت پر تاحکمِ ثانی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

تمام کھاد ڈیلرز کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ اس حکم پر من و عن عمل درآمد یقینی بنائیں۔ کسی بھی فرد یا ڈیلر کی جانب سے یوریا کھاد کی خرید و فروخت، ذخیرہ اندوزی یا حکومتی احکامات کی خلاف ورزی کی صورت میں متعلقہ قوانین کے تحت سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

تمام کاشتکاروں سے بھی گزارش ہے کہ وہ حکومتی احکامات کا احترام کریں، غیر قانونی خرید و فروخت سے گریز کریں اور کسی بھی خلاف ورزی کی اطلاع فوری طور پر محکمہ زراعت یا ضلعی انتظامیہ کو دیں۔

حکومتی احکامات پر عمل کریں، قومی مفاد میں اپنا کردار ادا کریں۔

محکمہ زراعت توسیع صوابی

28/07/2026

نوٹس برائے تمام سیڈ ڈیلرز

تمام سیڈ ڈیلرز کو ہدایت کی جاتی ہے کہ سیڈ لائسنس کے بغیر کسی بھی قسم کے بیج کی خرید و فروخت سختی سے ممنوع ہے۔

جن سیڈ ڈیلرز کے پاس باقاعدہ سیڈ لائسنس موجود ہے، وہ سیڈ ایکٹ 1976، ترمیمی ایکٹ 2015 اور ترمیمی ایکٹ 2024 کے تحت مقررہ قواعد و ضوابط کی مکمل پابندی کریں۔

اگر کوئی ڈیلر:

- بغیر لائسنس بیج کی خرید و فروخت کرتا پایا گیا،
- غیر رجسٹرڈ بیج فروخت کرتا پایا گیا، یا
- غیر رجسٹرڈ سیڈ کمپنیوں کے بیج کی خرید و فروخت میں ملوث پایا گیا،

تو اس کے خلاف سیڈ ایکٹ 1976، ترمیمی ایکٹ 2015 اور ترمیمی ایکٹ 2024 کے مطابق قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی، جس میں تین ماہ تک قید اور کم از کم 5 لاکھ روپے سے لے کر زیادہ سے زیادہ 20 لاکھ روپے تک جرمانہ شامل ہو سکتا ہے۔

منجانب:
محکمہ زراعت توسیع، ضلع صوابی

08/07/2026
ہمیں گرمی سورج نہیں دیتا... ہمارے اپنے فیصلے دیتے ہیں.آج دوپہر ایک آدمی شدید گرمی میں سڑک کنارے کھڑا تھا۔ ماتھے سے پسینہ...
28/06/2026

ہمیں گرمی سورج نہیں دیتا... ہمارے اپنے فیصلے دیتے ہیں.
آج دوپہر ایک آدمی شدید گرمی میں سڑک کنارے کھڑا تھا۔ ماتھے سے پسینہ ٹپک رہا تھا، ہاتھ میں ٹھنڈے پانی کی بوتل تھی، اور زبان پر صرف ایک جملہ تھا:

"اس سال تو گرمی نے تمام ریکارڈ توڑ دیے!"

وہ چند گھونٹ پانی پیتا، پھر آسمان کی طرف دیکھتا اور گرمی کو کوستا۔

مگر اسے شاید یہ احساس نہیں تھا کہ اس کے بالکل پیچھے جو خالی جگہ تھی، وہاں چند سال پہلے ایک بہت بڑا نیم کا درخت ہوا کرتا تھا۔ اس کی شاخوں پر درجنوں پرندے گھونسلے بناتے تھے، دوپہر کے وقت رکشہ والے اس کے سائے میں آرام کرتے تھے، بچے اس کے گرد کھیلتے تھے، اور مسافر چند لمحوں کی ٹھنڈک لے کر آگے بڑھ جاتے تھے۔

پھر ایک دن کسی نے کہا...

"درخت راستے میں آ رہا ہے۔"

اور چند گھنٹوں میں کئی دہائیوں پر محیط زندگی زمین پر گر چکی تھی۔

کسی نے تالیاں نہیں بجائیں، کسی نے احتجاج نہیں کیا، اور شہر ایک درخت کم ہو گیا۔

یہ عجیب بات ہے...

جون آتے ہی ہمیں درخت یاد آ جاتے ہیں۔

ہم کہتے ہیں:

"مزید درخت لگانے چاہییں۔"

جولائی میں یہی بات دہراتے ہیں۔

اگست میں بارش آتی ہے، آگے موسم بدلتا ہے، اے سی بند ہو جاتے ہیں، پنکھے کافی لگنے لگتے ہیں... اور پھر درخت بھی ہماری یادداشت سے نکل جاتے ہیں۔

اگلے سال گرمی آتی ہے، اور ہم پھر وہی سوال پوچھتے ہیں:

"آخر اتنی گرمی کیوں پڑ رہی ہے؟"

حالانکہ سوال یہ ہونا چاہیے تھا:

"آخر ہم نے پچھلے ایک سال میں گرمی کم کرنے کے لیے کیا کیا؟"

ہم شربت پیتے ہیں...

ٹھنڈا پانی پیتے ہیں...

برف خریدتے ہیں...

اے سی لگاتے ہیں...

لیکن اس ایک چیز کے بارے میں نہیں سوچتے جو ان سب سے زیادہ طاقتور ہے۔

ایک درخت۔

ایک ایسا درخت جو بجلی نہیں مانگتا، بل نہیں لیتا، شور نہیں کرتا، شکایت نہیں کرتا، مگر خاموشی سے درجۂ حرارت کم کرتا رہتا ہے، ہوا کو بہتر بناتا ہے، مٹی کو زندہ رکھتا ہے، بارش کے پانی کو زمین میں اتارتا ہے، کاربن جذب کرتا ہے اور بے شمار جانداروں کو زندگی دیتا ہے۔

مگر کہانی صرف درختوں تک محدود نہیں۔

جب ایک درخت کٹتا ہے تو صرف لکڑی کم نہیں ہوتی۔

ایک گھونسلہ ختم ہوتا ہے۔

ایک پرندہ بے گھر ہوتا ہے۔

ایک شہد کی مکھی اپنا خوراک اور گھر کھو دیتی ہے۔

ایک تتلی کا سفر رک جاتا ہے۔

ایک بھنورا کم ہو جاتا ہے۔

ایک مکڑی کا جالا ٹوٹ جاتا ہے۔

اور شاید ہزاروں ایسے حشرات بھی غائب ہو جاتے ہیں جن کے نام ہم نے کبھی سنے تک نہیں۔

یہی وہ ننھے جاندار ہیں جنہیں ہم اکثر حقارت سے "کیڑا" کہہ کر نظر انداز کر دیتے ہیں، حالانکہ انہی کی بدولت بے شمار پھول پھل بنتے ہیں، فصلیں تیار ہوتی ہیں، پرندے زندہ رہتے ہیں اور قدرت کا توازن برقرار رہتا ہے۔

قدرت ایک زنجیر ہے...

اور افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم ہر روز اس زنجیر کی ایک ایک کڑی توڑ رہے ہیں۔

ماحولیاتی تبدیلی آسمان سے نازل ہونے والا کوئی عذاب نہیں۔

یہ ہماری اپنی عادتوں کا عکس ہے۔

ہم نے درخت کم کیے...

ہم نے زمین کو سیمنٹ سے ڈھانپ دیا...

ہم نے ہر خالی جگہ کو پلازہ بنا دیا...

ہم نے ہر سبز میدان کو پارکنگ میں بدل دیا...

اور اب ہم حیران ہیں کہ زمین ٹھنڈی کیوں نہیں رہتی۔

ذرا تصور کیجیے...

اگر آج ایک دس سالہ بچہ ایک پودا لگاتا ہے تو شاید بیس سال بعد اسی درخت کے سائے میں کوئی ایمبولینس کا انتظار کر رہا ہوگا، کوئی مزدور دوپہر کا کھانا کھا رہا ہوگا، کوئی طالب علم کتاب پڑھ رہا ہوگا، کوئی پرندہ اپنے بچوں کو خوراک کھلا رہا ہوگا، اور کوئی شہد کی مکھی اگلے موسم کی فصلوں کے لیے خاموشی سے اپنا کردار ادا کر رہی ہوگی۔

ایک چھوٹا سا پودا...

کتنی زندگیاں بدل سکتا ہے۔

شاید ہماری سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ ہم ہر مسئلے کا فوری حل چاہتے ہیں۔

گرمی لگی تو ٹھنڈا پانی پی لیا۔

پسینہ آیا تو اے سی چلا لیا۔

لیکن ہم وہ کام نہیں کرتے جس کا فائدہ ہماری اگلی نسلوں کو ملے۔

ہمیں سایہ چاہیے...

مگر سایہ اگانے کا صبر نہیں.

یاد رکھیے،

زمین کو شربت نہیں چاہیے... درخت چاہیے۔

پرندوں کو ہمدردی نہیں... گھر چاہیے۔

حشرات کو نفرت نہیں... پھول چاہیے۔

اور آنے والی نسلوں کو صرف نصیحتیں نہیں...

ہماری طرف سے لگائے گئے درخت چاہیے۔

شاید آج آپ کے لگائے ہوئے ایک پودے کے سائے میں کل کوئی ایسا شخص بیٹھا ہو جسے آپ کبھی جان بھی نہ سکیں۔ اور شاید کسی ایسے انسان کی جان بچا رہا ہوگا جو شدید گرمی میں چند لمحوں کا سایہ ڈھونڈ رہا ہوگا۔

اور یہی وہ نیکی ہے جس کا اجر صرف انسان نہیں، پوری زمین آپ کو لوٹاتی ہے۔ یہ ایسا صدقہ ہے جو صرف انسان نہیں، پرندے، حشرات، جانور، مٹی، ہوا اور آنے والی نسلیں بھی استعمال کرتی ہیں۔

اعزاز احمد، المعروف ، ماہر خشرات ، آستانہ عالیہ خیبر پختونخوا صوابی.

ہمیں گرمی سورج نہیں دیتا... ہمارے اپنے فیصلے دیتے ہیں.آج دوپہر ایک آدمی شدید گرمی میں سڑک کنارے کھڑا تھا۔ ماتھے سے پسینہ...
28/06/2026

ہمیں گرمی سورج نہیں دیتا... ہمارے اپنے فیصلے دیتے ہیں.
آج دوپہر ایک آدمی شدید گرمی میں سڑک کنارے کھڑا تھا۔ ماتھے سے پسینہ ٹپک رہا تھا، ہاتھ میں ٹھنڈے پانی کی بوتل تھی، اور زبان پر صرف ایک جملہ تھا:

"اس سال تو گرمی نے تمام ریکارڈ توڑ دیے!"

وہ چند گھونٹ پانی پیتا، پھر آسمان کی طرف دیکھتا اور گرمی کو کوستا۔

مگر اسے شاید یہ احساس نہیں تھا کہ اس کے بالکل پیچھے جو خالی جگہ تھی، وہاں چند سال پہلے ایک بہت بڑا نیم کا درخت ہوا کرتا تھا۔ اس کی شاخوں پر درجنوں پرندے گھونسلے بناتے تھے، دوپہر کے وقت رکشہ والے اس کے سائے میں آرام کرتے تھے، بچے اس کے گرد کھیلتے تھے، اور مسافر چند لمحوں کی ٹھنڈک لے کر آگے بڑھ جاتے تھے۔

پھر ایک دن کسی نے کہا...

"درخت راستے میں آ رہا ہے۔"

اور چند گھنٹوں میں کئی دہائیوں پر محیط زندگی زمین پر گر چکی تھی۔

کسی نے تالیاں نہیں بجائیں، کسی نے احتجاج نہیں کیا، اور شہر ایک درخت کم ہو گیا۔

یہ عجیب بات ہے...

جون آتے ہی ہمیں درخت یاد آ جاتے ہیں۔

ہم کہتے ہیں:

"مزید درخت لگانے چاہییں۔"

جولائی میں یہی بات دہراتے ہیں۔

اگست میں بارش آتی ہے، آگے موسم بدلتا ہے، اے سی بند ہو جاتے ہیں، پنکھے کافی لگنے لگتے ہیں... اور پھر درخت بھی ہماری یادداشت سے نکل جاتے ہیں۔

اگلے سال گرمی آتی ہے، اور ہم پھر وہی سوال پوچھتے ہیں:

"آخر اتنی گرمی کیوں پڑ رہی ہے؟"

حالانکہ سوال یہ ہونا چاہیے تھا:

"آخر ہم نے پچھلے ایک سال میں گرمی کم کرنے کے لیے کیا کیا؟"

ہم شربت پیتے ہیں...

ٹھنڈا پانی پیتے ہیں...

برف خریدتے ہیں...

اے سی لگاتے ہیں...

لیکن اس ایک چیز کے بارے میں نہیں سوچتے جو ان سب سے زیادہ طاقتور ہے۔

ایک درخت۔

ایک ایسا درخت جو بجلی نہیں مانگتا، بل نہیں لیتا، شور نہیں کرتا، شکایت نہیں کرتا، مگر خاموشی سے درجۂ حرارت کم کرتا رہتا ہے، ہوا کو بہتر بناتا ہے، مٹی کو زندہ رکھتا ہے، بارش کے پانی کو زمین میں اتارتا ہے، کاربن جذب کرتا ہے اور بے شمار جانداروں کو زندگی دیتا ہے۔

مگر کہانی صرف درختوں تک محدود نہیں۔

جب ایک درخت کٹتا ہے تو صرف لکڑی کم نہیں ہوتی۔

ایک گھونسلہ ختم ہوتا ہے۔

ایک پرندہ بے گھر ہوتا ہے۔

ایک شہد کی مکھی اپنا خوراک اور گھر کھو دیتی ہے۔

ایک تتلی کا سفر رک جاتا ہے۔

ایک بھنورا کم ہو جاتا ہے۔

ایک مکڑی کا جالا ٹوٹ جاتا ہے۔

اور شاید ہزاروں ایسے حشرات بھی غائب ہو جاتے ہیں جن کے نام ہم نے کبھی سنے تک نہیں۔

یہی وہ ننھے جاندار ہیں جنہیں ہم اکثر حقارت سے "کیڑا" کہہ کر نظر انداز کر دیتے ہیں، حالانکہ انہی کی بدولت بے شمار پھول پھل بنتے ہیں، فصلیں تیار ہوتی ہیں، پرندے زندہ رہتے ہیں اور قدرت کا توازن برقرار رہتا ہے۔

قدرت ایک زنجیر ہے...

اور افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم ہر روز اس زنجیر کی ایک ایک کڑی توڑ رہے ہیں۔

ماحولیاتی تبدیلی آسمان سے نازل ہونے والا کوئی عذاب نہیں۔

یہ ہماری اپنی عادتوں کا عکس ہے۔

ہم نے درخت کم کیے...

ہم نے زمین کو سیمنٹ سے ڈھانپ دیا...

ہم نے ہر خالی جگہ کو پلازہ بنا دیا...

ہم نے ہر سبز میدان کو پارکنگ میں بدل دیا...

اور اب ہم حیران ہیں کہ زمین ٹھنڈی کیوں نہیں رہتی۔

ذرا تصور کیجیے...

اگر آج ایک دس سالہ بچہ ایک پودا لگاتا ہے تو شاید بیس سال بعد اسی درخت کے سائے میں کوئی ایمبولینس کا انتظار کر رہا ہوگا، کوئی مزدور دوپہر کا کھانا کھا رہا ہوگا، کوئی طالب علم کتاب پڑھ رہا ہوگا، کوئی پرندہ اپنے بچوں کو خوراک کھلا رہا ہوگا، اور کوئی شہد کی مکھی اگلے موسم کی فصلوں کے لیے خاموشی سے اپنا کردار ادا کر رہی ہوگی۔

ایک چھوٹا سا پودا...

کتنی زندگیاں بدل سکتا ہے۔

شاید ہماری سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ ہم ہر مسئلے کا فوری حل چاہتے ہیں۔

گرمی لگی تو ٹھنڈا پانی پی لیا۔

پسینہ آیا تو اے سی چلا لیا۔

لیکن ہم وہ کام نہیں کرتے جس کا فائدہ ہماری اگلی نسلوں کو ملے۔

ہمیں سایہ چاہیے...

مگر سایہ اگانے کا صبر نہیں.

یاد رکھیے،

زمین کو شربت نہیں چاہیے... درخت چاہیے۔

پرندوں کو ہمدردی نہیں... گھر چاہیے۔

حشرات کو نفرت نہیں... پھول چاہیے۔

اور آنے والی نسلوں کو صرف نصیحتیں نہیں...

ہماری طرف سے لگائے گئے درخت چاہیے۔

شاید آج آپ کے لگائے ہوئے ایک پودے کے سائے میں کل کوئی ایسا شخص بیٹھا ہو جسے آپ کبھی جان بھی نہ سکیں۔ اور شاید کسی ایسے انسان کی جان بچا رہا ہوگا جو شدید گرمی میں چند لمحوں کا سایہ ڈھونڈ رہا ہوگا۔

اور یہی وہ نیکی ہے جس کا اجر صرف انسان نہیں، پوری زمین آپ کو لوٹاتی ہے۔ یہ ایسا صدقہ ہے جو صرف انسان نہیں، پرندے، حشرات، جانور، مٹی، ہوا اور آنے والی نسلیں بھی استعمال کرتی ہیں۔

26/06/2026

پنج پیر گاؤں کے ترقی پسند کسان سعید اللہ کو محکمہ زراعت توسیع صوابی کی طرف سے دئیے گئے فروٹ فلائی ٹریپ کے افادیت کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کر رہے ہیں

کوٹھا۔کلابٹ۔زروبی۔مرغز ۔ٹھنڈکوئی۔کڈی پنچ پیر زیدہ شاہ منصور موسی بانڈہ۔گاڑ ڈھوک۔یوسفی۔ڈوڈھیر۔۔رانا ڈھیری۔۔کوٹھا تا شاہ م...
10/06/2026

کوٹھا۔کلابٹ۔زروبی۔مرغز ۔ٹھنڈکوئی۔کڈی پنچ پیر زیدہ شاہ منصور موسی بانڈہ۔گاڑ ڈھوک۔یوسفی۔ڈوڈھیر۔۔رانا ڈھیری۔۔

کوٹھا تا شاہ منصور کے زمیندار بھائیوں اور اُن افراد کے لیے جن کے گھروں میں باغات یا پھل دار پودے موجود ہیں، مرغز زراعت دفتر میں فری فروٹ فلائی ٹریپس دستیاب ہیں۔
پہلے آئیے، پہلے پائیے کی بنیاد پر ٹریپس تقسیم کیے جا رہے ہیں۔
ٹریپس حاصل کرنے کے لیے اپنے شناختی کارڈ کی کاپی ہمراہ لائیں اور یہ سہولت مفت حاصل کریں۔۔۔

صوابی: اسسٹنٹ کمشنر لاہور کی زیرِ نگرانی تمباکو کمپنیوں کے منیجرز، ٹوبیکو پرچیز سنٹرز کے انچارجز اور تمباکو تنظیموں کے ن...
09/06/2026

صوابی: اسسٹنٹ کمشنر لاہور کی زیرِ نگرانی تمباکو کمپنیوں کے منیجرز، ٹوبیکو پرچیز سنٹرز کے انچارجز اور تمباکو تنظیموں کے نمائندوں کے ساتھ ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ڈسٹرکٹ ڈائریکٹر زراعت توسیع صوابی، محمد ادریس سمیت تمباکو سے وابستہ کاشتکاروں نے شرکت کی۔

اجلاس میں پرچیز سنٹر مالکان اور منیجرز کو ہدایت کی گئی کہ کسانوں کو پینے کے صاف پانی، بیٹھنے کی مناسب جگہ، سایہ اور دیگر بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں اور ان کے ساتھ ہر ممکن تعاون کیا جائے۔ پرچیز سنٹرز کے سامنے سڑک بند نہ کرنے کی بھی تاکید کی گئی۔

اس موقع پر ڈسٹرکٹ ڈائریکٹر زراعت توسیع صوابی محمد ادریس نے کہا کہ ضلع صوابی میں 15 ہزار سے زائد تمباکو بھٹیوں میں بڑی مقدار میں لکڑی استعمال ہوتی ہے، جس کے باعث ماحول اور سبزہ متاثر ہو رہا ہے۔ انہوں نے تمباکو کمپنیوں اور متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ وہ شجرکاری مہم میں بھرپور حصہ لیں اور مختلف اقسام کے پودے لگائیں تاکہ ماحولیاتی آلودگی اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو کم کیا جا سکے اور ضلع صوابی کے ماحول کو بہتر بنایا جا سکے۔
رپورٹ: ہلال احمد

صوابی:فاطمہ فرٹیلائزرز اور محکمہ زراعت توسیع کے باہمی تعاون سے کسانوں کے لیے ایک میگا فارمر گیدرنگ کا انعقاد کیا گیا، جس...
13/05/2026

صوابی:
فاطمہ فرٹیلائزرز اور محکمہ زراعت توسیع کے باہمی تعاون سے کسانوں کے لیے ایک میگا فارمر گیدرنگ کا انعقاد کیا گیا، جس میں ضلع بھر سے کسانوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ذوالفقار حیدر سیل منیجر مردان نے کسانوں کو کھادوں کے متوازن استعمال اور ان کی اہمیت کے بارے میں آگاہ کیا، جبکہ پرویز اقبال منیجر فاطمہ فرٹیلائزرز نے مختلف کھادوں میں موجود غذائی عناصر اور ان کے فوائد پر تفصیلی بریفنگ دی۔

ضلعی ڈائریکٹر زراعت توسیع صوابی محمد ادریس نے کسانوں کو مکئی کی جدید کاشت، بہتر پیداوار حاصل کرنے کی ٹیکنالوجی، محکمہ زراعت توسیع کے جاری منصوبوں اور فارم سروسز سنٹرز سے استفادہ حاصل کرنے کے حوالے سے آگاہ کیا۔

ممبر صوبائی اسمبلی عبدالکریم نے PHLC منصوبے پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اس منصوبے کے ذریعے غیر قابلِ کاشت زمینوں تک پانی پہنچایا جا رہا ہے، جس سے صوابی کے مختلف علاقے ہر قسم کی فصلوں کے لیے موزوں بن رہے ہیں۔

ڈسٹرکٹ ڈائریکٹر زراعت ریسرچ مفتاح الدین نے کسانوں کو زرعی تحقیق، مختلف فصلوں کی جدید ورائٹیز، ٹیسٹنگ لیبارٹری، مٹی کے PH ٹیسٹ اور محکمہ زراعت ریسرچ کے مقاصد کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔

سابق تحصیل ناظم عطاء اللہ خان نے کسانوں کی محنت کو سراہتے ہوئے موجودہ حکومت کی زراعت دوست پالیسیوں پر روشنی ڈالی۔

صوبائی وزیر ریلیف عاقب اللہ خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت صوابی کے کسانوں کی ترقی کے لیے اربوں روپے کے جاری اور آنے والے منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔ انہوں نے محکمہ زراعت توسیع اور ریسرچ کے مابین بہترین کوآرڈینیشن کو سراہا اور کسانوں کے ساتھ ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے فاطمہ فرٹیلائزرز، محکمہ زراعت توسیع اور محکمہ زراعت ریسرچ کا شکریہ بھی ادا کیا۔

تقریب کے اختتام پر احمد علی خان جنرل سیکرٹری یوسفزئی جرگہ، محمد عمران اور عمر عثمان نے بھی خطاب کیا اور کسانوں کی فلاح و بہبود کے لیے مشترکہ کوششوں کو خوش آئند قرار دیا۔

Address

Swabi
23430

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00

Telephone

+923459700295

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Agriculture Extension Department Swabi posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share