24/01/2026
سوشل میڈیا پر تو کور کمانڈر ہاوس پشاور کا یہ پیغام کافی عرصے سے گردش کر رہا تھا کہ اے این پی کا صفایا کردیا گیا ہے۔ یہ سرخ جھنڈوں کا سمندر کہاں سے نکل آیا؟ سچ پوچھیں تو یہ وہ سمندر بھی نہیں جو اے این پی کے اندر موجود چلتا آرہا ہے بلکہ سمندر کا ایک جھلک ہے۔ کل کراچی میں دیکھنا نہ بھولیے کہ اے این پی کیا ہے؟ وہاں جلسے کا موازنہ سندھو دریا کے ساتھ کرنے کے بغیر نہیں رہ پاوگے۔ لورالائی میں ہمیں برفباری والی قدرت نے اپنی قوت کا مظاہرہ کرنے نہیں دیا۔ انتہائی محنت کے باوجود اس پر ہمیں اس لئے افسوس نہیں کہ برفباری والی سرکار کے پاس کرہ ارض کو آباد کرنے کے کافی نسخے پڑے ہیں۔ ہم اس سے دوستی رکھنا چاہتے ہیں جبکہ بمباری والی سرکار کے سامنے ڈٹ کے رہنا ہے۔ ہمیں یہ کام جس عظیم انسان اور ان کے عظیم ساتھیوں نے سکھایا ہے ان کی قدر و منزلت کو ثابت کرنے میں تاریخ کیا کیا کرشمے نہیں دکھاتی؟ اب کی بار ہندوستان والوں نے ان کی 38ویں برسی کچھ ایسے زور و شور سے منائی کہ میرے فیسبوک سے افغانستان اور پاکستان دونوں تین چار دنوں کیلئے انتہائی کنارے پر گئے۔ یہ ہمارے والے مذہب کے لوگ بھی نہیں تھے۔ ہندو شناخت والے لگ رہے تھے مگر شاید مودی کے "ہندوتوا" سے نجات کے کسی راستے کی تلاش میں وہ باچاخان کی انسانی محبتوں سے بھرپور سیاسی میراث کی طرف رجوع کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ پاکستان کی فرقہ وارانہ ریاست اور اس کی ساری فرقہ وارانہ سیاستیں اپنا سارا زور لگا کر باچاخان کی حثیت اور اہمیت میں ایک ذرہ کمی نہیں لا سکیں۔ جاسوسوں کے باہر بازار لگے یا اندر ان کا کوئی لفاظی سے بھرا پڑا فرنچائز یا سکیمات کا لنگر خانہ، باچاخان کا راستہ سامراج دشمنی، حریت اور مزاحمت کا راستہ ہی رہے گا اور اس پر ہر دور کے روشن ضمیر زمین زادے وہ سفر جاری رکھیں گے جس نے صرف اقوام کی برابری پر مبنی آزادی، سماجی انصاف اور پائیدار امن پر ہی رکنا ہے۔
Khan Zaman Kakar