Sab Se Pehle Pakistan

Sab Se Pehle Pakistan Pakistan is a country in southern Asia. It is next to India, Iran, Afghanistan, and China. It is off

12/07/2023

خواتین کی انڈر گارمنٹس سرعام فروخت ہونے پر بھی کوئی پابندی ہونی چاہیئے،

ہمارے بازاروں میں ہر چوک پر پھٹے لگے ہوتے ہیں اور ان پر خواتین کے انڈر گارمنٹس کی سیل لگی ہوتی ہے،

ہاتھ میں اٹھا کر ہوا میں لہرا کر آوازیں لگائی جاتی ہیں
آ جائیں باجی
دیکھ لیں باجی
بہت سافٹ ہے باجی
برانڈڈ ہے باجی

امید ہے کہ یہ لوگ اپنی باجیوں کو بھی اسی طرح فروخت کرتے ہوں گے،

یقین جانیں میں نے ایسے بہت سے لوگ دیکھے ہیں جو خواتین کی انڈر گارمنٹس کا کام ایک خاص مقصد کے تحت کرتے ہیں،

مجھے بڑے شہروں کے وہ شاپنگ مالز پسند ہیں جہاں خواتین کے انڈر گارمنٹس کی فروخت کیلئے ایک الگ سے کیبن بنا ہوتا ہے اور فروخت کیلئے باقائدہ خواتین کو ہی رکھا جاتا ہے،

پرائیویٹ چیزیں سرعام فروخت ہوتے ہرگز اچھی نہیں لگتیں
چھوٹے بچے ان گلیوں اور چوک سے گزرتے ہیں،

بعد میں سوال جنم لیتے ہیں کہ چھوٹے چھوٹے بچوں میں فریسٹریشن کہاں سے پیدا ہوتی ہے،

یہ بھی کم عمر بچوں میں فریسٹریشن پیدا ہونے کا 1 زریعہ ہے اور کچھ دکاندار فروخت کے دوران ہی کچھ مخصوص جملوں کا استعمال کرتے ہیں،

یہ جملے ایک طریقہ واردات کا حصہ ہیں مہربانی کریں کاروبار کریں اپنی نسل کو بر راہ روی پر مت ڈالیں،

مسلمان بنیں اور حیا کو فروغ دیں،

اگر کسی کو میری بات سے تکلیف ہو تو معزرت چاہوں گا،

8 سال تک ایرانی حکومت کی سربراہی کرنے والے سابق صدر محمود احمدی نژاد اب بطور استاد کام کرتے ہیں۔احمدی نژاد کی عوامی ٹران...
22/05/2023

8 سال تک ایرانی حکومت کی سربراہی کرنے والے سابق صدر محمود احمدی نژاد اب بطور استاد کام کرتے ہیں۔
احمدی نژاد کی عوامی ٹرانسپورٹ کا استعمال کرتے ہوئے ایک تصویر سوشل نیٹ ورک پر شائع ہوئی۔ تصویر کے نیچے ایک حوالہ دیا گیا تھا کہ احمدی نژاد نے اپنے 8 سال کے دور صدارت میں ایک ریال تنخواہ ریاستی بجٹ سے وصول نہیں کی تھی، وہ استاد کی تنخواہ پر گزارہ کرتے تھے۔ اپنی صدارت کے دوران، انہوں نے اعلیٰ پنشن حاصل کرنے کے لیے سابق صدر والے قانون سے بھی استفادہ نہیں کیا اور دوبارہ پڑھانا شروع کر دیا۔
قومیں ایسے لیڈروں سے بنتی ہیں۔۔۔۔۔

31/01/2023

الۡحَمۡدُ الِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ♥️
الصلوة والسلام علیک یا خاتمالانبیاء والمرسلین سیدی رسول اللہ ﷺ کی عزت و عظمت پہ اور آپ ﷺ کی ازواج مطہرات اولاد پاک اصحاب پاک پہ لاکھوں کروڑوں درود و سلام💖
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

گھر میں نبی کریم ﷺ کیا کیا کرتے تھے ؟ ام المؤمنین رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ حضور اکرم ﷺ گھر کے کام کیا کرتے تھے ، پھر آپ جب اذان کی آواز سنتے تو باہر چلے جاتے تھے ۔

صحیح البخاری حدیث # 5363

وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے ایک گھنٹے میں اقوام متحدہ کے رکن ممالک سے تقریبا ایک کھرب 30 ارب روپے جمع کرلئےامریکا نے...
30/08/2022

وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے ایک گھنٹے میں اقوام متحدہ کے رکن ممالک سے تقریبا ایک کھرب 30 ارب روپے جمع کرلئے

امریکا نے وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کی اپیل کے بعد پاکستان کو ساڑھے چھ ارب روپے کی امداد دی

وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کی اپیل پر ورلڈ بینک، ایشین ڈولپمنٹ بینک، عالمی ادارہ صحت، یونیسف، ہلال احمر، ریڈ کراس سمیت اقوام متحدہ کے رکن ممالک نے مثبت ردعمل دیا

وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کی اپیل کے بعد فوری طور پر چین، ترکیہ، امریکا، برطانیہ، آذر بائیجان، سعودی عرب، قطر، کویت، متحدہ عرب امارات ودیگر ممالک نے فوری امداد کا اعلان کیا

وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کی اپیل پر اقوام متحدہ کے رکن ممالک کی نقد امداد کے علاوہ ٹینٹ، ادویات، کھانے پینے کی اشیاء سمیت دیگر اہم امدادی سامان کی بھی امداد

وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کی اپیل پر اقوام متحدہ کے رکن ممالک سمیت مختلف عالمی اداروں کی جانب سے پاکستان کی امداد کا سلسلہ جاری

قوم یوتھ پڑھنے سے پرہیز کرےایک گلوگار بادشاہ کے دربار میں گانا گا رہا تھا۔بادشاہ کو گانا اچھا لگا اس نے اعلان کیا اس کو ...
30/08/2022

قوم یوتھ پڑھنے سے پرہیز کرے

ایک گلوگار بادشاہ کے دربار میں گانا گا رہا تھا۔بادشاہ کو گانا اچھا لگا اس نے اعلان کیا اس کو سونا دیدو۔وہ اور اچھا گانے لگا بادشاہ نے کہا ہیرے دیدو۔وہ اور اچھا گانے لگا بادشاہ نے کہا اس کو جاگیر دیدو۔غرض وہ گاتا رہا اور بادشاہ انعامات کے اعلان کرتا رہا۔گانا ختم ہوا وہ گھر گیا۔ایک دن گزرا دوسرا گزرا تیسرا حتی کہ ہفتہ گزر گیا مگر کوئی انعام نہیں آیا۔وہ بادشاہ کے دربار میں حاضر ہوا اور شکوہ کیا کہ بادشاہ سلامت آپ نے تو بہت سے انعامات کے اعلان کیے تھے مگر مجھے تو ابھی تک کچھ بھی نہیں ملا۔بادشاہ نے جواب دیا بھائی یہ لینے دینے کی بات کہا سے آگئی تم نے ہمارے کانوں کو خوش کیا ہم نے تمھارے کانوں کو خوش کیا۔

کل تھوک کھان کی طرف سیلاب زدگان کی امداد کیلئے ٹیلی فون پر عطیات وصول کرنے کیلئے ٹی وی پر پروگرام کیا۔جس میں لوگوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا کوئی پچاس لاکھ دینے کا اعلان کررہا تھا کوئی دو کروڑ دینے کا اعلان کررہا تھا کوئی سات کروڑ کوئی ڈالروں میں کوئی پاونڈز میں۔غرض صرف تین گھنٹوں میں پانچ ارب دینے کے وعدے ہوئے۔سب خوش ہوئے بہت خوش ہوئے۔
مگر لگتا ہے آج ان لوگوں سے عملی طور پر پیسے لینے کیلئے جب رابطہ کیا جائے تو وہ بولیں گے۔
“بھائی یہ لینے دینے کی بات کہاں سے آگئی آپ نے ملک کی تقدیر بدلنے،تین سو پچاس ڈیم بنانے ،جمہوریت اور انصاف قائم کرنے،غربت اور مہنگائی ختم کرنے،میرٹ کی بالا داستی،لوٹا ہوا پیسہ واپس لانے،معیشت ٹھیک کرنے ،ہرے پاسپورٹ کی عزت کرنےاور قرضوں کی نحوست سے ملک کو نکالنے کے وعدے کرکے ہمارے کانوں کو خوش کیا جواب میں ہم نے پیسے دینے کے اعلانات کرکے آپ کے کانوں کو خوش کیا۔
منقول

27/08/2022

‏مری بریوری کی سیلز کے مطابق پاکستان میں مسیحیوں کی آبادی 61 فیصد ہے۔
‏بینک زکوٰۃ ڈیکلریشن فارمز کے مطابق پاکستان میں شیعہ مسلمان 80 فیصد ہیں۔
‏گوگل کے مطابق پاکستان میں پورن دیکھنے والے 81 فیصد ہیں
‏اور
‏حکومت پاکستان کے مطابق پاکستان کی سنی مسلم آبادی 91 فیصد ہے۔

ہاں ہاں سیلاب ان غریبوں کے گناہوں کی سزا ہے۔ ان سیاہ کار متاثرین کو جاتی امرا، بلاول ہاٸوس، بنی گالہ کے محلات اور مولانا...
27/08/2022

ہاں ہاں سیلاب ان غریبوں کے گناہوں کی سزا ہے۔ ان سیاہ کار متاثرین کو جاتی امرا، بلاول ہاٸوس، بنی گالہ کے محلات اور مولانا طارق جمیل کے طویل وعریض ”حجرے“ میں بسایا جاٸے تاکہ اولیااللہ کی صحبت میں رہ کر یہ لوگ نیکوکار ہوجاٸیں۔

وہ لوگ کہاں مر گئے جو عمران خان کے ایک دستخط پر کڑورں کی آفر کرتے تھے ان لوگوں کو سیلاب زدگان پکار رہے ہیں کہ ہماری مدد ...
27/08/2022

وہ لوگ کہاں مر گئے جو عمران خان کے ایک دستخط پر کڑورں کی آفر کرتے تھے ان لوگوں کو سیلاب زدگان پکار رہے ہیں کہ ہماری مدد کریں.

اسرائیل کے سائنس دانوں نے اس ہفتے پوری دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا، یہ ایک ایسا ائیرکنڈیشن مارکیٹ میں لے آئے ہیں جو ہر...
26/08/2022

اسرائیل کے سائنس دانوں نے اس ہفتے پوری دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا، یہ ایک ایسا ائیرکنڈیشن مارکیٹ میں لے آئے ہیں جو ہر قسم کی بجلی کے بغیر چلتا ہے اور اس کے لیے کسی نوعیت کا کرنٹ درکار نہیں ہوتا، آپ بس بٹن آن کریں اور یہ ہوا میں موجود گیسز سے چلنا شروع کر دے گا اور آدھ گھنٹے میں کمرے کا ٹمپریچر پندرہ ڈگری نیچے لے آئے گا۔

یہ ایک حیران کن ایجاد ہے، اس سے قبل جون میں اسرائیل نے دیوار کے پیچھے دیکھنے کی ٹیکنالوجی لانچ کی تھی، آپ اس ٹیکنالوجی سے نہ صرف دیوار کے پیچھے موجود لوگوں کو دیکھ سکتے ہیں بلکہ ان کی عمر، سائز اور حرکات وسکنات بھی نوٹ کر سکتے ہیں۔

یہ الٹرا ساؤنڈ، ای سی جی یا ایم آر آئی کا جدید ترین ورژن ہے، اس ورژن سے انسان موٹی دیواروں کے پیچھے بھی جھانک سکے گا اور یہ ٹیکنالوجی کہاں ایجاد ہوئی؟ یہ ہمارے ایک شہر کی 92 لاکھ آبادی کے برابر اس ملک میں ہو رہی ہے جس نے پچھلے 75 برسوں میں امن نہیں دیکھا اور جو شروع سے آج تک اپنی بقاء کی جنگ لڑ رہا ہے جس کی کل آبادی خوف میں سوتی اور دہشت میں جاگتی ہے اور جو اس وقت بھی ہائی سیکیورٹی کنٹری کہلاتا ہے لیکن یہ ملک روزانہ جی ہاں روزانہ دنیا کو کوئی نہ کوئی نئی ایجاد دے رہا ہے، ۔ یہ وہ قوم جس کے بارے میں اللہ پاک قرآن میں اعلان فرماتا ہے کہ ولقد اخترناھم علی علم علی العالمین ۔ ہم نے بنی اسرائیل کو اپنے علم کی بنیاد پر چھانٹی کر کے جہانوں پر فضیلت دی ہے ۔

آپ دنیا کی کسی شعبے کی کوئی بھی چیز اٹھا کر دیکھ لیں آپ کو اس کے پیچھے کوئی اسرائیلی کمپنی، کوئی اسرائیلی لیبارٹری یا کوئی اسرائیلی سائنس دان ملے گا، دنیا کی پہلی الیکٹرک کار اسرائیل میں بنی، دنیا کا پہلا موبائل فون اسرائیل نے بنایا، سائبر سیکیورٹی کا جدید ترین سسٹم (فائر وال) اسرائیل نے بنایا، میڈیکل کی 82فیصد مشینیں اسرائیل نے ایجاد کیں، دنیا کی تمام بڑی آئی ٹی فرمز کا ایلگوردھم اسرائیل میں بنا، آئی فون کے تمام سافٹ اور ہارڈویئرز اسرائیل میں بنتے ہیں، اسرائیل نے 2018 میں ایسی ڈیوائس بنائی جو سونگھ کر مریض کے امراض بتا دیتی ہے۔

یہ ڈیوائس (Sniff Phone) کہلاتی ہے، مفلوج لوگوں کے لیے "ری واک" کے نام سے مشین بنائی اور مفلوج لوگوں نے اس مشین کے ذریعے باقاعدہ چلنا پھرنا شروع کر دیا، کیپسول سائز کا Pill cam کیمرہ بنا دیا، مریض یہ کیپسول نگلتے ہیں اور کیمرہ جسم کے سارے اندرونی اعضاء کا جائزہ لے کر باہر آ جاتا ہے، دل کے لیے ربڑ جیسا لچک دار(Flexible) اسٹنٹ بھی بنا دیا، یہ ایجاد اب تک کروڑوں لوگوں کی جان بچا چکی ہے، دنیا کا پہلا انسٹنٹ میسنجر (آئی سی کیو) اسرائیل نے 1996 میں دیا تھا، یہ ایجاد دنیا میں سوشل میڈیا کا آغاز ثابت ہوئی۔

دنیا کی پہلی یو ایس بی اسرائیل نے بنائی، اسرائیل نے صحرا میں فصلیں اگانے کے لیے "نیٹ اے فارم" جیسا اری گیشن سسٹم بنایا اور اس سسٹم نے صحراؤں کو کھیتوں میں بدل دیا، اس نے ہوا سے پانی بنانے کی ٹیکنالوجی "واٹر جن" بھی متعارف کرائی، کیڑے مکوڑے مارنے کی محفوظ ترین ٹیکنالوجی بائیوبی بھی بنائی، دنیا کو نیوی گیشن (جی پی ایس) کا سسٹم بھی دیا جس کے ذریعے دنیا بھر کے مسافر دوسروں کی مدد کے بغیر اپنی منزل مقصود تک پہنچ جاتے ہیں اور اسرائیل نے ڈرون ٹیکنالوجی بنائی، لیزر گنز بنائیں۔

انسانوں اور جانوروں کی شناختی ڈیوائسز بنائیں اور خوراک، کپڑوں جوتوں اور سواری کے نئے سسٹم بھی متعارف کرائے اور آپ ایمازون سے لے کر اوبر تک کسی بھی کمپنی کے سافٹ ویئرز کا مطالعہ کر لیں آپ کو اس کے پیچھے اسرائیلی ماہرین ملیں گے، شاید اس لیے 92 لاکھ لوگوں کے ملک کو "اسٹارٹ اپس" نیشن کہتے ہیں، کیوں؟ کیوں کہ یہ چھوٹا سا ملک اسٹارٹ اپس میں پوری دنیا کو لیڈ کر رہا ہے، دنیا کی واحد سپرپاور امریکا اسٹارٹ اپس میں دوسرے نمبر پر آتی ہے۔

آپ 92 لاکھ کے اس چھوٹے سے ملک کو دیکھیں اور اس کے بعد پاکستان کو دیکھیں، ہمارے صرف ایک شہر لاہور کی آبادی اسرائیل کی کل آبادی سے زیادہ ہے لیکن ہم اپنی ضرورت کی خوراک تک پیدا نہیں کر پا رہے، ہم کھانے کا تیل، گندم، دالیں، پٹرول اور گیس تک امپورٹ کرتے ہیں، ہمارے ملک میں ہماری ضرورت کے مطابق پٹرول اور گیس دونوں موجود ہیں لیکن ہم میں اسے نکالنے کی اہلیت نہیں ہے اور ہم اگر اسے نکال بھی لیں تو ہمارے اپنے لوگ پائپ لائین کو بم سے اڑا دیتے ہیں، ہم اس ملک میں فوج کی پوری ڈویژن کے بغیر گیس اور پٹرول کے لیے ڈرلنگ نہیں کر سکتے۔

ہم نے چھ ماہ قبل بنوں میں گیس کا بہت بڑا ذخیرہ دریافت کر لیا لیکن مقامی لوگ اب پائپ لائین نہیں بچھانے دے رہے، بنوں میں دو ماہ میں تین بم دھماکے ہو چکے ہیں اور درجن بھرلوگ شہید ہو چکے ہیں، ملک کا 70 فیصد رقبہ زرعی ہے، ملک میں دو درجن بڑے دریا ہیں، مون سون میں صرف آٹھ بارشیں ہوئی ہیں اور ہمارا تیس فیصد رقبہ پانی میں ڈوب گیا، بلوچستان اور سندھ میں ایمرجنسی کی صورت حال ہے، لوگ دہائیاں دے رہے ہیں اور ہم مدد کے لیے عالمی برادری کی طرف دیکھ رہے ہیں۔

ہم آج بھی میٹرو، اوورہیڈ برجز، ریلوے، پی آئی اے، موٹرویز اور انٹرسٹی بس سروس پر لڑ رہے ہیں، ہم ملک میں ویکسین تک نہیں بنا پا رہے، اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے تک پلانے کے لیے تیار نہیں ہیں اور ہمارے اندر گلیوں کا کوڑا تک اٹھانے کی اہلیت نہیں ہے، آپ ملک کا کوئی ایک صاف ستھرا کونا دکھا دیں یا کوئی ایک شہر بتا دیں جس کے شہریوں کو صاف پانی اور اصلی خوراک مل رہی ہو، میں دعوے سے کہہ سکتا ہوں ہمارے صدر، وزیراعظم اور آرمی چیف بھی خوراک کے نام پر زہر کھا رہے ہوں گے اور یہ پانی کے نام پر کیمیکل پی رہے ہوں گے۔

لہٰذا آپ دل پر رہاتھ رکھ کر جواب دیجیے، کیا ہمیں قوم کہلانے کا حق ہے؟ آپ ایک طرف ملک کے مسائل دیکھیے، ہم چالیس سال سے بھیک پر گزارہ کر رہے ہیں اور آج اگر سعودی عرب اپنے پیسے واپس مانگ لے تو ہم ڈیفالٹ کر جائیں گے اور دوسری طرف ہم عمران خان اور عمران خان ہمارے پیچھے لگا ہوا ہے، شہباز گل کے ساتھ جنسی زیادتی ہوئی یا نہیں ہوئی یہ اس وقت ملک کا سب سے بڑا مسئلہ ہے، ہم خود اپنے ہاتھوں سے ملک میں استحکام نہیں آنے دے رہے، ہم ہر دو تین چار سال بعد اپنی ٹانگ دوبارہ توڑ کر بیٹھ جاتے ہیں، ہم پوری دنیا کو سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہیں لیکن ہم میں سے ہر خوش حال شخص دوسرے ملک میں جا کر بسنا چاہ رہا ہے، کیوں؟ آخر کیوں؟ آخر ہمارا مسئلہ کیا ہے، ہم کیوں من حیث القوم شبہاز گل بن چکے ہیں؟ آپ نے کبھی سوچا!

میری اس ملک کے مقتدر طبقوں سے درخواست ہے آپ پلیز آنکھیں کھول لیں اور چند بنیادی فیصلے کر لیں ورنہ یہ ملک ہاتھ سے نکل رہا ہے، ہمیں پہلا فیصلہ یہ کرنا ہوگا دنیا اِدھر سے اُدھر ہو جائے لیکن ہم اپنی ضرورت کی خوراک اسی ملک میں پیدا کریں گے، ملک میں اگر گندم کم پیدا ہو گی تو ہم کم گندم کھا لیں گے لیکن گندم امپورٹ نہیں کریں گے، کوکنگ آئل ہو، دالیں ہوں، چاول ہوں یا پھر پھل ہوں ہم اس ملک میں اگائیں گے، آدھا خود کھائیں گے اور آدھا ایکسپورٹ کریں گے، پانچ سال میں اری گیشن کے نئے سسٹم بنائیں گے اور پھر زمین کا کوئی چپہ بھی خالی نہیں رہے گا، ہم گملوں میں بھی سبزی اگائیں گے، حکومت زرعی کالجوں کے تمام طالب علموں کو زمین دے گی اور یہ طالب علم ان زمینوں پر مہنگی اجناس اگائیں گے۔

ہم ایواکاڈو، زعفران اور گلاب کیوں نہیں اگاتے؟ ہم ایک پورے ریجن کو "فلاورریجن"دوسرے کو ایواکاڈو، تیسرے کو زعفران اور چوتھے کو اولیو ریجن ڈکلیئر کردیں اور وہاں یہ اجناس اگا کر پوری دنیا کو فروخت کریں، ہم پھول اگا کر یو اے ای میں کیوں نہیں بیچتے اور ہم ان کا ست نکال کر ملک میں پروفیوم کی انڈسٹری ڈویلپ کیوں نہیں کرتے؟ ہم پاکستان کو لیدر انڈسٹری ہی بنا لیں تو بھی ہم اربوں روپے سالانہ کما سکتے ہیں، دوسرا ہم دس سال میں اپنی ضرورت کی گیس، پٹرول اور بجلی پیدا کر لیں، ہم گیس، پٹرول اور بجلی کی صنعت کو اوپن کر دیں۔

کمپنیاں آئیں، کام کریں، تیل اور گیس نکالیں، ہمیں بھی بیچیں اور باہر بھی بیچ دیں، لوکل کمیونٹی مزاحمت کرتی ہے، آپ ایک ہی بار فارمولا بنا دیں، لوکل لوگوں کو اس فارمولے کے تحت سہولتیں دیں اور رقم دیں اور اگر کوئی اس کے باوجود بھی مزاحمت کرے تو پھر ڈنڈا چلائیں مگر کام نہیں رکنا چاہیے، تین، ملک میں میٹرک تک تعلیم اور اس کے بعد سکل ہونی چاہیے، آپ تمام کالجز اور یونیورسٹیوں کو "سکل انسٹی ٹیوٹس" میں تبدیل کر دیں اور اس وقت تک کسی طالب علم کو ڈگری نہ دی جائے جب تک وہ اپنے شعبے کا ایکسپرٹ نہ ہو جائے، گریجوایشن اور پوسٹ گریجوایشن کے درمیان دو سال کی انٹرن شپ لازمی ہونی چاہیے، طالب علم گریجوایشن کریں، دو سال کا عملی تجربہ حاصل کریں اور پھر یونیورسٹی میں داخلہ لے سکیں، ملک میں سولہ سال کی مسلسل تعلیم پر پابندی ہونی چاہیے۔

ہم ہر سال ملک میں کیوں لاکھوں کی تعداد میں بے ہنر ایم اے پیدا کر دیتے ہیں؟ آخر اس تعلیم کا کیا فائدہ جو ڈگری ہولڈر کو دو وقت کا کھانا بھی نہیں دے سکتی، چار، ملک میں ہر ترقیاتی منصوبے کی تکمیل کی تاریخ ہونی چاہیے اور وہ منصوبہ ہر حال میں اس تاریخ پر مکمل ہونا چاہیے، چین کی طرح اسے ایک دن بھی اوپر نہیں جانا چاہیے اور جوغفلت کا مظاہرہ کرے اسے سزا دیں اور پانچویں اور آخری چیز خدا کے لیے، خدا کے لیے ملک میں قانون کی حکمرانی قائم کر دیں۔

قانون کی نظر میں جج سے لے کر جنرل تک ہر شخص برابر ہونا چاہیے، کوئی عمران خان یا شہباز گل نہیں ہونا چاہیے، ہم میں سے جو بھی قانون توڑے، جو بھی غلطی کرے قانون اپنا راستہ لے اور اسے اس کے کیے کی سزا دے، ملک میں یہ سیاسی تھیٹر بند ہونے چاہییں، ہم آخر کب تک جلسہ، جلسہ اور لانگ مارچ، لانگ مارچ کھیلتے رہیں گے؟ ہمیں اب مان لینا چاہیے یہ ملک اس طرح نہیں چل سکے گا، آپ اب اس پر ترس کھائیں، سیدھے ہو جائیں اور سیدھا کر دیں ورنہ ہم گئے، ہم اس طرح مزید نہیں چل سکیں گے۔

سر پھرے کا سودا ۔

24/08/2022

واپڈا آفس کے سامنے ایک شخص کیلے بیچ رہا تھا
واپڈا کے ایک بڑے افسر نے پوچھا کیلے کیسے دیتے ہو؟
*کیلے کس کے لئے خرید رہے ہو صاحب؟*
افسر۔ کیا مطلب ؟
*کیلے والا 😘
مطلب یہ کہ
یتیم خانے کے لئے لے رہے ہو تو *40 روپیہ درجن*
اولڈ ہوم کے لئے لے رہے ہو تو *50 روپیہ درجن*
بچوں کے ٹفن کے لئے *60 روپیہ درجن*
گھر کھانے کے لئے لے رہے ہو تو *70 روپیہ درجن*
اگر پکنک کے لئے خریدنے ہوں تو *80 روپیہ درجن*
*افسر یہ کیا بیوقوفی ہے؟*
ارے بھائی جب سب کیلے ایک جیسے ہیں تو ریٹ الگ الگ کیوں؟
*کیلے والا:*
پیسے کی وصولی کا اسٹائل تو آپ لوگوں والا ہی ہے
جیسے
*1 سے 100 یونٹ کا الگ ریٹ*
*100 سے 200 کا الگ*
*200 سے 300 کا الگ*
*300 سے 400 کا الگ*
*بجلی تو آپ ایک ہی کھمبے سے دیتے ہو ؟*
تو پھر گھر کے لئے الگ ریٹ
دکان کے لئے الگ ریٹ
کارخانے کا الگ ریٹ
*اور ایک بات۔۔*
میٹر کی قیمت ہم سے لیکر پھر میٹر کا کرایہ الگ لیتے ہو۔۔۔
انکم واپڈا کو ہوتی ہے اور انکم ٹیکس اور سیلز ٹیکس ہم سے الگ لیتے ہو
سرچارج اور ایکسٹرا سرچارج کیا بلا ہے جو ہم سے لیتے ہو؟
میٹر کیا امریکہ سے امپورٹ کیا ہے 25 سال سے میٹر خرید کر بھی اس کا کرایہ بھر رہا ہوں ۔۔۔
آخر میٹر کی قیمت کتنی ہے؟ آپ بتا دو مجھے ایک ہی بار
*کڑوا سچ*

24/08/2022

خوابوں کا سلسلہ
----------------------

خواب نمبر1 : قائداعظم کو پاکستان بنانے کا حکم رسول پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے دیا تھا

اخبار جنگ

خواب نمبر2 : میں نے رسول پاک(ص) کو خواب میں دیکھا تو انہوں نے کہا جنرل ضیاء الحق کو میرا خصوصی سلام دینا

مولانا عبدالرحمن اشرفی

خواب نمبر3 : میں نے رسول پاک(ص) کو خواب میں دیکھا تو انہوں نے مجھے کہا قائداعظم کی جنازہ پڑھو یہ شخص مجھاہد اسلام ہے

مولانا شبیر احمد عثمانی

خواب نمبر4 : میں نے قائداعظم کو خواب میں دیکھا وہ اپنے دو انگلیاں میری طرف بڑھا دیتا ہے میں ڈر گیا کہ کیا ہورہا ہے تو قائداعظم نے کہا بیٹا ڈرو نہیں ان انگلیون کو چوسو جب میں نے چوسا تو انکی انگلیوں سے میٹھے شہد نکل رہے تھے

مولانا طارق جمیل

خواب نمبر5 : کسی بزرگ نے خواب دیکھا تھا کہ حضرت محمد(ص) اور سیدنا حضرت عمر کے ساتھ ایک شخص آرہا ہوتا ہے تو سیدنا حضرت عمر نے مجھے اپنے طرف بلایا اور اس شخص کے ہاتھ میرے ہاتھ میں دیا اور کہا یہ باجوہ ہے آپ لوگوں کا نیا ارمی چیف

صحافی ہارون الرشید

خواب نمبر6 : میں نے خواب دیکھا رسول پاک(ص) نے مجھے حکم دیا کہ اپنے شوہر سے طلاق لیکر عمران خان سے شادی کرو

بشرا مانیکا

خواب نمبر7 : رسول پاک(ص) خواب میں میرے پاس آئے اور مجھے پستول دیے کر کہا کہ جاو قادیانی کو قتل کرو جس نے میرے شان میں گستاخی کی ہے

غازی خالد

21/08/2022

اے جذبہ دل گر میں چاہوں ہر چیز مقابل آجائے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

‏پاکستان کی عظیم اور باوقار شخصیت کی مالک گلوکارہ نیرہ نور انتقال کر گئیں ،

صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی۔
نیرہ نور پاکستان کی معروف گلوکارہ نیرہ نور3 نومبر 1950ء کو موجودہ ہندوستان کے مقام آسام میں پیدا ہوئیں۔ ان کا خاندان تجارت کے پیشے سے وابستہ تھا جو امرتسر سے آسام کے شہر گوہاٹی میں آ بسا تھا۔ 1958ء میں ان کا خاندان پاکستان آگیا۔ نیرہ کا خاندان نہ تو فن موسیقی سے وابستہ تھا اور نہ ہی نیرہ نے موسیقی کے حوالے سے کوئی رسمی تعلیم حاصل کی۔ تاہم نیرہ کو دریافت کرنے کا سہرا پروفیسر اسرار کے سر ہے جنہوں نے1968ء میں نیرہ کو نیشنل کالج آف آرٹس لاہور میں ایک عشائیے کے بعد گاتے سناتھا ، اس کے بعد نیرہ نور نے پہلے ریڈیو پاکستان اور پھر پاکستان ٹیلی وژن کے لیے گیت گانے سے اپنے فن کا باقاعدہ آغاز کیا۔ نیرہ نور انتہائی سادہ، کم گو اور شرمیلی خاتون ہیں۔ انہوں نے آغاز سے اب تک اپنے مخصوص انداز اور معیار کو قائم رکھاہوا ہے۔ ان کا ظاہری رکھ رکھاؤ سادگی کی اعلیٰ مثال ہے۔ حکومت پاکستان نے انہیں 14 اگست 2005ء کو صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا تھا۔

‏ہمیں ماتھے پہ بوسا دو
کہ ہم کو تتلیوں کے‘ جگنوؤں کے دیس جانا ہے

Address

Thand Koi
Swabi
23431

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Sab Se Pehle Pakistan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Sab Se Pehle Pakistan:

Share