29/08/2026
پروفیسر ( ریٹائرڈ)شیر عالم خان اور ہائی کورٹ کے سینئر وکیل نے اپنے ایک حالیہ تجزیئے میں ملک کی موجودہ
اسلامی جمہوریہ پاکستان کی حکمران طبقہ اور اسٹیبلشمنٹ کے کردار پر اظہار خیال کیا ہے انہوں نے کہا ہے کہ
جب جنرل ایوب خان نے 1958 میں اقتدار پر قبضہ کر لیا تو پاکستانی
اسٹیبلشمنٹ کے اعلیٰ عہدیداروں نے ملک کے سیاسی معاملات میں مداخلت شروع کردی پاکستان کے آئین کو متعدد بار بغیر کسی استثنیٰ کے توڑ چکے ہیں، ملک کے سیاسی دائرے میں اپنی غیر قانونی مداخلت کی وجہ سے ایک فیصد شرفاء (ایلیٹ کلاس) کی بھرپور حمایت کر رہے ہیں جس کے منفی اثرات آج بھی پاکستان کے 99 فیصد عام شہری بھگت رہے ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ کے اعلیٰ عہدہ داروں سے عاجزانہ درخواست ہے کہ وہ پاکستان کے سیاسی میدان میں ایسی غیر قانونی مداخلتوں سے باز آئیں اور مسلح افواج کے قوانین کے مطابق اپنی ذمہ داریاں ادا کریں تاکہ وہ 99 فیصد عام شہری جن کے آباؤ اجداد نے برصغیر پاک و ہند میں ایک علیحدہ ملک کی آزادی کے لیے عظیم قربانیاں دیں، قائد اعظم کی قیادت میں ایک پرامن ماحول سے لطف اندوز ہو سکیں۔ اسٹبلشمنٹ کو برطانیہ، امریکہ، کینیڈا، جنوبی کوریا اور دیگر جمہوری اور ترقی یافتہ ممالک کی حالات سے سبق سیکھنا چاہیے۔ ھمارے بہادر فوج نے ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کرانے میں اپنا کردار ادا کیا ہے لیکن پاکستان میں استحکام لانا ان کا بھی فرض ہے
جہاں اسٹیبلشمنٹ کی بھرپور حمایت سے نااہل، نالائق اور جہائل سیاستدانوں نے عوامی مینڈیٹ چرایا ہے۔
تو ان اداروں کی یہ بھی زمہ داری ہے کہ پاکستان کی غریب عوام کو آسودگی اور خوشحالی لے اپنا کردار ادا کریں عام شہریوں کی ساتھ جنگلی جانوروں جیسا سلوک نہ کریں۔اور انہیں انسانوں کی طرح زندگی بسر کرنے کے مواقع فراہم کریں
جاری ہے