06/08/2026
مردان ایک زرعی ضلع ہے جہاں ہزاروں زمیندار تمباکو کو نقد آور فصل (Cash Crop) کے طور پر کاشت کرتے ہیں۔ اس بابت میرے حلقے کے یونین کونسل پرخو ڈیھرئ اور پیرسدی زیادہ تمباکو کاشت کرتے ہیں۔ مگر افسوس کہ جب فصل تیار ہو جاتی ہے اور فروخت کا وقت آتا ہے تو یہی محنت کش کاشتکار شدید مشکلات کا شکار ہو جاتے ہیں۔ محدود خریداروں اور منظم مڈل مینوں کی اجارہ داری کے باعث زمیندار اپنی فصل مناسب قیمت پر فروخت نہیں کر پاتے۔ نتیجتاً ان کی سال بھر کی محنت اور سرمایہ کاری کا بڑا حصہ دوسروں کی جیبوں میں چلا جاتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ زمیندار پورا سال اپنی گھریلو اور زرعی ضروریات کو محدود کرکے اسی فصل سے امید وابستہ رکھتا ہے، لیکن خریداری کے وقت اسے اپنی پیداوار اونے پونے داموں فروخت کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ بعد ازاں یہی تمباکو مختلف گٹھ جوڑ اور منافع خور نظام کے تحت کئی گنا زیادہ قیمت پر فروخت ہوتا ہے۔
معاشی ناانصافی کا یہ سلسلہ کسی ایک دن میں جنم نہیں لیتا بلکہ برسوں پر محیط ایسے استحصالی نظام عوام کے دلوں میں مایوسی پیدا کرتے ہیں اور ریاستی اداروں پر اعتماد کو کمزور بناتے ہیں۔ حکومت اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ تمباکو کے کاشتکاروں کو فوری ریلیف فراہم کریں، شفاف خریداری کا نظام قائم کریں اور زمیندار کو اس کی محنت کا جائز معاوضہ دلائیں۔ کیونکہ مضبوط کسان ہی مضبوط معیشت کی بنیاد ہوتا ہے۔"
ممبر صوبائی اسمبلی احتشام علی ایڈووکیٹ