معھدالبنوری للدراسات الاسلامیہ سلطان آباد بامخیل صوابی

  • Home
  • Pakistan
  • Topi
  • معھدالبنوری للدراسات الاسلامیہ سلطان آباد بامخیل صوابی

معھدالبنوری للدراسات الاسلامیہ سلطان آباد بامخیل صوابی المدینہ مسجد سلطان آباد بامخیل صوابی

11/07/2026

ہم سمجھتے تھے کہ لائے گی فراغت تعلیم
کیا خبر تھی کہ آئے گا الحاد بھی ساتھ

الحمد للہ 🌹💞بروز جمعرات بعد از نمازِ مغرب معھدالبنوری للدراسات الاسلامیہ سلطان آباد بامخیل صوابی  میں پاکستان کے معروف ن...
11/07/2026

الحمد للہ 🌹💞

بروز جمعرات بعد از نمازِ مغرب معھدالبنوری للدراسات الاسلامیہ سلطان آباد بامخیل صوابی میں پاکستان کے معروف نعت خواں محترم #احسان اللہ فاروقی صاحب کی تشریف آوری ہوئی
جو یقیناً ہمارے لیے باعثِ سعادت و مسرت رہی۔

محترم احسان اللہ فاروقی صاحب ملک کے اُن ممتاز نعت خواں حضرات میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی پُرسوز آواز، محبتِ رسولِ اکرم ﷺ سے سرشار اندازِ نعت خوانی اور سادہ مگر مؤثر طرزِ بیان کے ذریعے عشقِ رسول ﷺ کے پیغام کو عام کرنے میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔ ان کی شخصیت اخلاص، انکساری، خوش اخلاقی اور دینی وابستگی کا حسین امتزاج ہے، جبکہ نعتِ رسول ﷺ کی خدمت میں ان کی مساعی قابلِ قدر ہیں۔

اس بابرکت نشست میں انہوں نے نہایت ایمان افروز انداز میں نعتِ رسولِ مقبول ﷺ پیش کیں، محبتِ رسول ﷺ، اصلاحِ نفس اور خدمتِ دین کے موضوع پر قیمتی نصائح فرمائیں، اور معھدالبنوری کے تعلیمی و تربیتی ماحول، اساتذۂ کرام کی محنت اور طلبہ کی دینی لگن کو سراہتے ہوئے ادارے میں ہونے والے بہترین علمی و تربیتی کام کو قابلِ تحسین قرار دیتے ہوئے نظم کی صورت میں سراہا۔

ادارے کے اساتذۂ کرام اور طلبۂ عزیز نے اس روح پرور نشست میں نہایت ذوق و شوق، ادب و احترام اور دلی انہماک کے ساتھ شرکت کی، اور نعتِ رسولِ اکرم ﷺ، ایمان افروز گفتگو اور قیمتی نصائح سے بھرپور استفادہ حاصل کیا۔

اس موقع پر نگرانِ اعلیٰ معھدالبنوری، مفتی ہارون الرشید بنوری صاحب نے معزز مہمان کا پرتپاک استقبال کیا، جبکہ نگرانِ مدرسہ مولانا Aqib Shahzad Haqqani عاقب شہزاد حقانی صاحب اور مہتممِ مدرسہ مولانا حیان رحیم منصوری Muhammad Hayyan صاحب نے خصوصی شرکت فرما کر محفل کی رونق میں اضافہ کیا۔

ہم برادرِ مکرم جناب شاہ زید Shahzaid Khan صاحب کے بھی تہہِ دل سے شکر گزار ہیں، جن کی خصوصی کاوش اور حسنِ تعاون سے یہ بابرکت نشست منعقد ہوئی۔ اللہ تعالیٰ ان کی اس خدمت کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے اور انہیں بہترین جزائے خیر سے نوازے۔

اللہ تعالیٰ محترم احسان اللہ فاروقی صاحب کی دینی خدمات میں مزید برکت عطا فرمائے، معھدالبنوری کی علمی و دعوتی کاوشوں کو قبول فرمائے، اور اس بابرکت مجلس کے تمام شرکاء کو دنیا و آخرت کی بھلائیاں نصیب فرمائے۔ آمین۔

معھدالبنوری للدراسات الاسلامیہ
سلطان آباد، بام خیل، ضلع صوابی

02/07/2026

الحمدللہ 🌹🤲
ہمارے طلبہ جو گم ہوئے تھے اپنے اہل خانہ سے مل گئے ۔

وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی مجلسِ عاملہ کا فیصلہ ایک سنجیدہ روایت اوراجتماعی اعتماد کا مظہر ہے۔ شیخ الاسلام حضرت مفت...
02/07/2026

وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی مجلسِ عاملہ کا فیصلہ ایک سنجیدہ روایت اوراجتماعی اعتماد کا مظہر ہے۔

شیخ الاسلام حضرت مفتی محمد تقی عثمانی حفظہ اللہ تعالیٰ کا بطور صدر اور مولانا قاری محمد حنیف جالندھری صاحب کا بطور ناظمِ اعلی بلا مقابلہ انتخاب درحقیقت انتخاب سے بڑھ کر ایک فطری امر ہے۔

اسی تسلسل میں قائدِ ملتِ اسلامیہ حضرت مولانا فضل الرحمن دامت برکاتہم جیسی صاحبِ بصیرت، دانا و حکیم شخصیت کی سرپرستی اس پورے نظام کے لیے مزید قوت اور توازن کا باعث ہے۔

دعا ہے کہ یہ تعلیمی ترقی کا سلسلہ خیر و اعتدال کے ساتھ آگے بڑھتا رہے اور امت کے لیے رہنمائی کا ذریعہ بنتا رہے۔

مدرسہ معھدالبنوری للدراسات الاسلامیہ سلطان آباد بامخیل صوابی کے طلباء ۔۔گمشدہ۔بریکنگ نیوز | یوسف زئی نیوز صوابی**الحمدلل...
02/07/2026

مدرسہ معھدالبنوری للدراسات الاسلامیہ سلطان آباد بامخیل صوابی کے طلباء ۔۔گمشدہ۔
بریکنگ نیوز | یوسف زئی نیوز صوابی
**الحمدللہ! لاپتہ ہونے والے دونوں نوجوانوں کا سراغ لگا لیا گیا، والدین سے رابطہ قائم**
بام خیل سے تعلق رکھنے والے دو نوجوانوں کے حوالے سے انتہائی خوش آئند اور بڑی خبر سامنے آئی ہے۔ ملک محمدسعید خان آف بام خیل کے بیان کے مطابق، وہ اس وقت پولیس اسٹیشن میں موجود ہیں اور الحمدللہ دونوں بچوں کے والدین سے رابطہ ہو چکا ہے۔
صوابی پولیس کی کوششیں بھرپور انداز میں جاری ہیں، اور ان شاء اللہ بہت جلد یہ دونوں بچے باحفاظت اپنے گھر اور اپنے والدین کے پاس ہوں گے۔
# # # 📌 پس منظر و تفصیلات:
* **نوجوانوں کے نام:** مصطفیٰ ولد اعظم (جن کی بینائی کمزور ہے) اور فاروق ولد زرنواس خان۔
* **واقعہ:** یاد رہے کہ یہ دونوں نوجوان عصر کے وقت بام خیل سے صوابی جانے کے لیے نکلے تھے لیکن واپس گھر نہیں پہنچے تھے، جس پر اہل خانہ شدید تشویش کا شکار تھے اور ان کی تلاش جاری تھی۔
# # # 🤲 دعا کی اپیل:
تمام اہل علاقہ سے مخلصانہ دعا کی اپیل ہے کہ اللہ تعالیٰ دونوں بچوں کو کامل خیریت کے ساتھ جلد از جلد ان کے اہل خانہ کے سپرد فرمائے۔ آمین۔ 🤲❤️
*(نوجوانوں کی شناخت کے لیے منسلک تصویر دیکھیں: **1000438162.jpg**)*

12/06/2026

عنوان:
زندگی کا ایک سال کم ہو گیا، آخرت کا سفر قریب ہو گیا — اپنا محاسبہ کیجیے
الحمد للہ رب العالمین، والصلاۃ والسلام علی سید الانبیاء والمرسلین۔
معزز بزرگو اور عزیز بھائیو!
اللہ تعالیٰ نے انسان کو دنیا میں ایک خاص مدت کے لیے بھیجا ہے۔ یہ دنیا ہمیشہ رہنے کی جگہ نہیں بلکہ امتحان گاہ ہے۔ ہماری زندگی کے دن، مہینے اور سال خاموشی کے ساتھ گزرتے جا رہے ہیں۔ ہر گزرتا ہوا سال ہمیں یہ پیغام دے رہا ہے کہ ہماری عمر کم ہو رہی ہے اور آخرت کا سفر قریب آ رہا ہے۔
سال کا اختتام صرف تاریخ بدلنے کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک موقع ہے کہ انسان اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر سوچے: میں کہاں کھڑا ہوں؟ میں نے گزشتہ سال میں کیا حاصل کیا؟ اور اپنی آخرت کے لیے کیا تیاری کی؟
اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتے ہیں:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَا قَدَّمَتْ لِغَدٍ﴾ (الحشر: 18)
ترجمہ: "اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور ہر شخص یہ دیکھے کہ اس نے کل کے لیے کیا آگے بھیجا ہے۔"
یہ آیت ہمیں محاسبۂ نفس کا درس دیتی ہے۔ دنیا کے معاملات میں تو ہم حساب رکھتے ہیں، کاروبار کا حساب، آمدنی اور خرچ کا حساب، لیکن افسوس کہ اپنی زندگی کے اصل مقصد اور اعمال کا حساب بہت کم لوگ کرتے ہیں۔
وقت اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"دو نعمتیں ایسی ہیں جن کے بارے میں بہت سے لوگ دھوکے میں ہیں: صحت اور فراغت۔" (بخاری)
صحت ہے تو انسان عبادت کر سکتا ہے، فراغت ہے تو نیکی کے کام کر سکتا ہے، لیکن جب یہ نعمتیں چلی جاتی ہیں تو انسان حسرت کرتا ہے۔
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: "مجھے اس دن پر سب سے زیادہ افسوس ہوتا ہے جس کا سورج غروب ہو جائے، میری عمر کا ایک دن کم ہو جائے، لیکن میرے عمل میں اضافہ نہ ہو۔"
گزرا ہوا سال ہم سے سوال کر رہا ہے
اے انسان! سوچ:
کتنی نمازیں خشوع و خضوع کے ساتھ ادا کیں؟
قرآن کریم سے کتنا تعلق قائم کیا؟
کتنی مرتبہ اللہ کو یاد کیا؟
کتنے گناہوں سے بچنے کی کوشش کی؟
والدین کے حقوق کتنے ادا کیے؟
زبان، نگاہ اور دل کی کتنی حفاظت کی؟
کتنے لوگوں کے لیے آسانی کا سبب بنے؟
یہ سوالات دوسروں کے لیے نہیں، اپنے لیے ہیں۔
توبہ کا دروازہ ابھی کھلا ہے
انسان خطاؤں کا پتلا ہے، غلطیاں ہو جاتی ہیں، لیکن کامیاب وہ ہے جو اپنی غلطی کو پہچان کر اللہ کی طرف رجوع کرے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَىٰ أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ﴾ (الزمر: 53)
ترجمہ: "کہہ دیجیے! اے میرے بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے، اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو۔"
سال کے اختتام پر ہمیں چاہیے کہ:
اپنے گناہوں پر ندامت کریں۔
اللہ سے معافی مانگیں۔
آئندہ زندگی نیکی کے راستے پر گزارنے کا عزم کریں۔
نئے سال کے لیے چند عہد
آنے والے وقت میں:
پانچ وقت نماز کی پابندی کریں گے۔
روزانہ قرآن کریم کی تلاوت کریں گے۔
حلال رزق کی فکر کریں گے۔
جھوٹ، غیبت، حسد اور گناہوں سے بچیں گے۔
اپنے گھر والوں اور معاشرے کے حقوق ادا کریں گے۔
سنتِ رسول ﷺ کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں گے۔
دنیا کی حقیقت کو سمجھیں
دنیا کی زندگی چند روزہ ہے۔ بڑے بڑے محلات بنانے والے چلے گئے، طاقتور لوگ چلے گئے، دولت جمع کرنے والے چلے گئے، لیکن ان کے اعمال ان کے ساتھ گئے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ﴾
"ہر جان نے موت کا مزہ چکھنا ہے۔"
اس لیے عقل مند وہ ہے جو دنیا میں رہتے ہوئے آخرت کی تیاری کرے۔
اختتامیہ
میرے محترم بھائیو!
سال ختم ہو رہا ہے، لیکن ہماری مہلت ابھی باقی ہے۔ معلوم نہیں اگلا سال ہمیں ملے یا نہ ملے، اس لیے آج ہی فیصلہ کریں کہ اپنی زندگی کو اللہ کی رضا کے مطابق گزارنا ہے۔
گزرا ہوا وقت واپس نہیں آ سکتا، لیکن آنے والے وقت کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں سچا محاسبہ کرنے والا، گناہوں سے بچنے والا، نیکیوں میں آگے بڑھنے والا اور ایمان والی زندگی و ایمان والی موت عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین۔

12/06/2026

#عنوان:
زندگی کا ایک سال کم ہو گیا، آخرت کا سفر قریب ہو گیا — اپنا محاسبہ کیجیے
الحمد للہ رب العالمین، والصلاۃ والسلام علی سید الانبیاء والمرسلین۔
معزز بزرگو اور عزیز بھائیو!
اللہ تعالیٰ نے انسان کو دنیا میں ایک خاص مدت کے لیے بھیجا ہے۔ یہ دنیا ہمیشہ رہنے کی جگہ نہیں بلکہ امتحان گاہ ہے۔ ہماری زندگی کے دن، مہینے اور سال خاموشی کے ساتھ گزرتے جا رہے ہیں۔ ہر گزرتا ہوا سال ہمیں یہ پیغام دے رہا ہے کہ ہماری عمر کم ہو رہی ہے اور آخرت کا سفر قریب آ رہا ہے۔
سال کا اختتام صرف تاریخ بدلنے کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک موقع ہے کہ انسان اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر سوچے: میں کہاں کھڑا ہوں؟ میں نے گزشتہ سال میں کیا حاصل کیا؟ اور اپنی آخرت کے لیے کیا تیاری کی؟
اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتے ہیں:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَا قَدَّمَتْ لِغَدٍ﴾ (الحشر: 18)
ترجمہ: "اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور ہر شخص یہ دیکھے کہ اس نے کل کے لیے کیا آگے بھیجا ہے۔"
یہ آیت ہمیں محاسبۂ نفس کا درس دیتی ہے۔ دنیا کے معاملات میں تو ہم حساب رکھتے ہیں، کاروبار کا حساب، آمدنی اور خرچ کا حساب، لیکن افسوس کہ اپنی زندگی کے اصل مقصد اور اعمال کا حساب بہت کم لوگ کرتے ہیں۔
وقت اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"دو نعمتیں ایسی ہیں جن کے بارے میں بہت سے لوگ دھوکے میں ہیں: صحت اور فراغت۔" (بخاری)
صحت ہے تو انسان عبادت کر سکتا ہے، فراغت ہے تو نیکی کے کام کر سکتا ہے، لیکن جب یہ نعمتیں چلی جاتی ہیں تو انسان حسرت کرتا ہے۔
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: "مجھے اس دن پر سب سے زیادہ افسوس ہوتا ہے جس کا سورج غروب ہو جائے، میری عمر کا ایک دن کم ہو جائے، لیکن میرے عمل میں اضافہ نہ ہو۔"
گزرا ہوا سال ہم سے سوال کر رہا ہے
اے انسان! سوچ:
کتنی نمازیں خشوع و خضوع کے ساتھ ادا کیں؟
قرآن کریم سے کتنا تعلق قائم کیا؟
کتنی مرتبہ اللہ کو یاد کیا؟
کتنے گناہوں سے بچنے کی کوشش کی؟
والدین کے حقوق کتنے ادا کیے؟
زبان، نگاہ اور دل کی کتنی حفاظت کی؟
کتنے لوگوں کے لیے آسانی کا سبب بنے؟
یہ سوالات دوسروں کے لیے نہیں، اپنے لیے ہیں۔
توبہ کا دروازہ ابھی کھلا ہے
انسان خطاؤں کا پتلا ہے، غلطیاں ہو جاتی ہیں، لیکن کامیاب وہ ہے جو اپنی غلطی کو پہچان کر اللہ کی طرف رجوع کرے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَىٰ أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ﴾ (الزمر: 53)
ترجمہ: "کہہ دیجیے! اے میرے بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے، اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو۔"
سال کے اختتام پر ہمیں چاہیے کہ:
اپنے گناہوں پر ندامت کریں۔
اللہ سے معافی مانگیں۔
آئندہ زندگی نیکی کے راستے پر گزارنے کا عزم کریں۔
نئے سال کے لیے چند عہد
آنے والے وقت میں:
پانچ وقت نماز کی پابندی کریں گے۔
روزانہ قرآن کریم کی تلاوت کریں گے۔
حلال رزق کی فکر کریں گے۔
جھوٹ، غیبت، حسد اور گناہوں سے بچیں گے۔
اپنے گھر والوں اور معاشرے کے حقوق ادا کریں گے۔
سنتِ رسول ﷺ کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں گے۔
دنیا کی حقیقت کو سمجھیں
دنیا کی زندگی چند روزہ ہے۔ بڑے بڑے محلات بنانے والے چلے گئے، طاقتور لوگ چلے گئے، دولت جمع کرنے والے چلے گئے، لیکن ان کے اعمال ان کے ساتھ گئے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ﴾
"ہر جان نے موت کا مزہ چکھنا ہے۔"
اس لیے عقل مند وہ ہے جو دنیا میں رہتے ہوئے آخرت کی تیاری کرے۔
اختتامیہ
میرے محترم بھائیو!
سال ختم ہو رہا ہے، لیکن ہماری مہلت ابھی باقی ہے۔ معلوم نہیں اگلا سال ہمیں ملے یا نہ ملے، اس لیے آج ہی فیصلہ کریں کہ اپنی زندگی کو اللہ کی رضا کے مطابق گزارنا ہے۔
گزرا ہوا وقت واپس نہیں آ سکتا، لیکن آنے والے وقت کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں سچا محاسبہ کرنے والا، گناہوں سے بچنے والا، نیکیوں میں آگے بڑھنے والا اور ایمان والی زندگی و ایمان والی موت عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین۔

فضل بن فضل  کے قلم سے۔۔۔*اسکول، مدرسہ اور والدین کا رویہ*اسکول:.دیکھو بیگم! بچے کو اسکول صاف ستھرا بھیجا کریں۔ ورنہ دیگر...
06/06/2026

فضل بن فضل کے قلم سے۔۔۔

*اسکول، مدرسہ اور والدین کا رویہ*

اسکول:.
دیکھو بیگم! بچے کو اسکول صاف ستھرا بھیجا کریں۔ ورنہ دیگر بچے ہمارے بیٹے کا مذاق اڑائیں گے۔ کہیں بچہ احساس کمتری کا شکار نہ ہوجائے۔ ہمارا بچہ ویسے بھی کافی حساس ہے۔
مدرسہ:.
ارے! آپ سن رہےہیں؟ وہ بچے کی ٹوپی بھی مکمل پھٹ چکی ہے اور چپل بھی نہیں ہے۔
"بیگم یار! پندرہ تاریخ کو سیلری ملے گی، اس لئے سیلری تک ویسے ہی بھیج دیا کرو۔ کون سا مدرسے والوں نے ایوارڈ دینا ہے۔"
_____________ _____________
اسکول:.
بچے کے حوالے سے اباجی اسکول کی طرف چل دئیے۔ گھنٹی بجانے پر مین گیٹ کھلا۔ انکل! میڈم یا ہیڈ ماسٹر دفتر میں ہیں؟
نہیں صاحب وہ ابھی راؤنڈ پر ہیں۔ آپ یہاں بیٹھکر انتظار کریں۔ ایک بھیانک سی جگہ جہاں ٹوٹے پھوٹے ڈیسک رکھے ہوئے ہیں، واٹر مشین کا ٹک ٹک دماغ خراب کررہابہے۔ سامنے واش روم کی بدبو نے بھی ناک کا ستیاناس کردیا ہے۔ پنکھا خراماں خراماں گھوم رہا ہے۔ اس لئے گرمی کی شدت میں کوئی کمی نہیں آرہی۔
لیکن کمال ہےکہ اباجی کے ماتھے پر کوئی بل یا پیٹ میں کوئی مروڑ پیدا ہو۔ بچے کی تعلیم کی خاطر برداشت کیا جارہا ہے۔ ایک گھنٹہ سڑنے کے بعد عزت مآب میڈم جی کا ظھور ہوتاہے۔ بتکلف مسکراتے ہوئے سلام کرتاہے اور پھر مدعا سامنےرکھتاہے۔

مدرسہ:.
مین گیٹ پر ایک ننھا سا بچہ بیٹھاہے۔کیونکہ آج گیٹ کی خدمت اس کی ہے۔ اباجی بدتمیزی اور طرح دار لہجے میں: "آپ کے قاری صاحب کہاں ہے؟"
بچہ پہلے پہل سلام کرکے پھر گویا ہوتاہے: جی وہ اوپر درسگاہ کی طرف گئے ہیں، کچھ دیر میں آتے ہیں۔ آپ جاکر وہ سامنے فرشی نشست پر بیٹھ جائیں۔ فرشی نشست کا سنتے ہی دل میں اپنی توہین کا خیال آجاتاہے۔ اچھا! رہنے دے۔ میں یہی باہر کھڑا ہوں، جب قاری صاحب آجائے تو مجھے آواز دینا۔ دو منٹ بعد پھر گیٹ سے اندر جھانک کر بڑی بےادبی کے ساتھ قاری صاحب کی آمد کا پوچھتا ہے۔ تو جواب نفی میں آتاہے۔ بڑبڑا کر بچے سے کہتاہے: اتنا ٹائم نہیں کہ گھنٹوں آپکے قاری صاحب کا انتظار کیا جائے۔ اس لئے جب وہ آئے تو کہنا کہ فلاں بچے کے والدصاحب آئے تھے۔ اس لئے مجھے پھر کال کرلینا۔
_____________ ______________
اسکول:.
رزلٹ کی اناؤنسمنٹ ہے اور میاں بیوی دونوں صبح نو بجے سے ہال میں موجود ہے۔ ارے سرتاج! یہاں کا اسٹاف بڑا دیر نہیں کر رہا؟
"بیگم! یہ اسکول ہے،کوئی گھر تھوڑی ہے۔لازمی بات ہے،انتظامات میں تو ٹائم لگتا ہے۔"
میڈم اور ہیڈ ماسٹر گیارہ بجے ہال میں آتے ہیں۔ دونوں ان کے استقبال کےلئے مسکراکر کھڑے ہوتے ہیں اور خوب تالیاں بجاتے ہیں۔ تاخیر سے آنے اور دو گھنٹے ذلیل کرنے کا کوئی شکوہ نہیں۔

مدرسہ:.
سنیے! مدرسے میں بچوں کا رزلٹ ہے،آپ کو بھی مدعو کیاہے۔
"بیگم! یہ مولوی لوگ جب مجمع کو دیکھتے ہیں تو خوب جذبات اور طیش میں آتے ہیں۔ تین چار گھنٹے فالتو میں بیانات کرکے وقت ضائع کرتے ہیں۔ بس سب پرانی باتیں ہیں، ان کے ہاں کوئی نئی چیز ملتی ہی نہیں۔ اور آخر میں چندے کا اعلان ہوتا ہے۔ میں قاری صاحب سے کہتاہوں کہ وہ مجھے بچے کے رزلٹ کی تصویر واٹس ایپ کردیں۔ جانے کی کیا ضرورت ہے۔"
______________ _______________
اسکول:.
سالانہ فنکشن کی تیاریاں عروج پر ہیں۔ دو ہزار فنڈ خوشی خوشی اسکول میں جمع ہوچکاہے۔ بچے کےلئے نیا سوٹ اور شوز خرید لیےگئے۔ ماں باپ بھی خوب زور و شور سے تیاری میں جتے ہیں۔ بچے نے سالانہ فنکشن میں ایک عدد سونگ پر "پرفامنس" کرنی ہے۔جس کی وجہ سے روز بچہ اسکول سے ایک گھنٹہ لیٹ آتا ہے اور مدرسہ بھی ایک گھنٹہ لیٹ پہنچتا ہے۔قاری صاحب کو پڑوسی کے بچے کے زبانی پیغام پہنچا دیاہے۔
اباجی نے ایک عدد برانڈڈ کیمرہ ایڈوانس میں دوست سے لے لیا تاکہ بہترین ریکارڈنگ کی جاسکے۔ اور ماں جی نے رات سے ہی موبائل چارج پر لگایاہے تاکہ صبح فنکشن کی خوب عکسبندی ہو اور بچے کی "پرفامنس" کو بھی موبائل کی آنکھ میں محفوظ کرکے یادگار بنایا جائے۔
سویرے بچہ ماں سے کہتاہے: اماں! وہ سونگ لگانا، ایک مرتبہ آپ کے سامنے بھی پیش کروں تاکہ کوئی غلطی ہو تو بتادینا۔ ماں بڑے فخر سے بچے کو ناچتے ہوئے دیکھتی ہے اور جہاں ٹھمکا کسی اینگل غلط لگ رہاہے تو خود کھڑی ہوکر بچے کو ٹھمکے کا سہی زاویہ سکھا دیتی ہے۔

مدرسہ:.
بچے کا سالانہ جلسہ ہے جس میں وہ ناظرہ قرآن ختم کرنے کی سعادت حاصل کررہاہے۔سو روپے کا چندہ دیتے وقت اباجی خوب بڑبڑتا ہے۔گھر میں بچہ بار بار جلسے اور اپنے ختم قرآن کے حوالے سے بات کرتاہے لیکن کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینکتی۔ ایک دن بچہ مدرسے سے آدھا گھنٹہ لیٹ آتاہے۔ ماں جی پوچھتی ہے: بیٹا! کیوں تاخیر ہوئی؟ ماں! وہ میں نے نعت میں حصہ لیا ہے اس لئے قاری صاحب اسی کی تیاری کروا رہےتھے۔
بیٹا! قاری صاحب کو کہنا کہ میں حصہ نہیں لےسکتا۔ کیونکہ ٹیوشن کا حرج ہوتاہے۔ اور پھر اسکول کام بھی مکمل نہیں ہوتا۔ جلسے کے دن اختتامی دعا کے وقت اباحضور پھٹے چپل اور بغیر استری کا شرٹ پہنے ہال میں آتا ہے اور بچے کے ختم قرآن میں شرکت کرکے واپس لوٹ جاتاہے۔
_____________ ______________
اسکول:.
ہیڈ ماسٹر کا پیغام آیا ہےکہ بچے کی چھٹیاں ذیادہ ہیں اس لئے اسکول سے نکال دیا۔جائےگا۔
"تو ٹھیک ہے بیگم آج کے بعد صرف سنڈے ہی میکے اور سسرال جائیں گے ورنہ تو بچہ کے دوسرے اسکول کے اخراجات کا بدترین بجٹ میرے سر پڑےگا۔"

مدرسہ:.
مدرسے سے بار بار چھٹی کرنے پر بچے کو اخراج کی دھمکی مل گئی۔
"کیوں بیگم! یہ مدرسہ ان کے باپ کا ہے، یہ تو وقف ہے۔ قاری صاحبان کی بدمعاشیاں ختم نہیں ہوتیں۔ ارے کوئی بات نہیں، وہ پچھلی گلی میں باجی کے پاس بٹھا دیں گے، وہ بھی قرآن ہی پڑھاتی ہے، کوئی تورات و زبور تو نہیں۔"
_____________ _______________
اسکول:.
بچہ تھرڈ کلاس میں ہے اور ابھی تک اردو ریڈنگ بھی نہیں سیکھی۔
"تو سیکھ جائے گا میٹرک میں ابھی ٹائم ہے نا۔"
بچہ میٹرک تک پہنچنے والا ہے اور نہ اردو املاء ٹھیک ہے اور نہ ریڈنگ کسی کام کی۔
"ہمارا بچہ نکما ہے۔ پڑھنے کا شوق ہی نہیں۔ بس گھومنے پھرنے پر خوش ہوتا ہے۔ گھر میں بیگ کو ہاتھ نہیں لگاتا۔"

مدرسہ:.
چھ مہینے ہوگئے،ابھی بچے نے نورانی قاعدے میں دو صفحے پڑھے ہیں۔
"تو یہ قاری صاحب پڑھاتا کب ہے، وقت برباد کرتا ہے۔ مدرسے کی صفائیاں، مسجد کی صفائیاں،گلی کی صفائیاں کراتا رہتاہے۔ ان کو تو بچوں کی فکر ہی نہیں۔"
بچے کا قرآن ماشااللہ ختم ہوگیا۔ بہترین قرآن پڑھتاہے۔
"بیگم! شکر ہے ہمارا بچہ محنتی تھا، گھر میں بھی قرآن کچھ دیر کےلئے اٹھاتا اور مسجد میں بھی میں نے ان کو تلاوت کرتے دیکھا۔ ورنہ قاری صاحب تو بہلول اور غافل انسان ہے۔"
_____________ _______________
اسکول:.
بچہ گھر میں داخل ہوا تو شرٹ پھٹی ہوئی، چہرے پر ڈسکو لگا ہوا اور پورا جسم قوس قزح کے رنگ بکھیر رہاہے۔
ماں یہ کیا کردیا ہے بیٹا!
"آج جون جولائی کی چھٹیاں مل گئیں تو دوستوں نے ہلہ گلہ میں یہ سب کردیا۔" ماں مسکراکر خاموش ہوگئی۔

مدرسہ:.
"قاری صاحب! کل عید کی چھٹیاں ملیں تو میرے بیٹے پر ایک بچے نے پین سے سیاہی پھینکی۔ یہ کیا بدتمیزی ہے۔ کیوں آپ یہی ادب سکھاتے ہیں، بچوں کو کوئی تمیز نہیں سکھاتے۔ یہ کیسا ادارہ ہے جہاں تربیت کا ہی فقدان ہے۔"

نوٹ:. معاف کرنا یہ دو رخی اور منافقت اب تقریبا والدین میں پائی جارہی ہے۔ تب بچے سدھر نہیں رہیں۔ بار بار ان کے قاری صاحب کی توہین کرکے اپنے بچے کے مستقبل کو خود ہی برباد کرتے ہیں۔ کیونکہ قاری صاحب زبان پر کچھ نہیں بولتا لیکن دل سے آہ ضرور نکلتی ہے۔
* #معاشرتیات*

24/05/2026
18/05/2026

انہوں نے شاید کبھی مدرسہ پڑھایا ہی نہیں۔۔۔۔۔۔😞

میں اساتذہ کی طرف سے بچوں پر غیر انسانی تشدد کا کبھی حامی نہیں رہا۔ نہ آگے کبھی اس سلوک کی حمایت کروں گا۔ چاہے یہ غیر انسانی سلوک کسی مدرسے میں ہو یا اسکول و کالج میں۔
لیکن دوسرا پہلو بھی مد نظر رہنا چاہۓ☺

مجھے تدریس کی فیلڈ میں یہ گیارھواں سال ہے، لہذا میں جو کچھ لکھ رہا ہوں اچھے خاصے تجربے کی بنیاد پر لکھ رہا ہوں۔ اختلاف کرنا آپکا حق ہے۔ مگر حقائق سے نظریں چرانا اچھی بات نہیں☺

بات یہ ہے کہ جب بھی کسی مولوی صاحب کی طرف سے کسی بچے پر تشدد، بلکہ ہلکی پھلکی سزا والی بھی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوتی ہے تو فورا ہی ہمارے دین بیزار طبقے کی اسلام و علماء کے خلاف بھو بھو شروع ہوجاتی ہے۔
خیر آج میرے مخاطَب یہ لوگ نہیں ہیں۔ ویسے بھی ایسے لوگوں کے بارے میں میری والدہ محترمہ فرماتی تھی
"گدھے کی گالی ہنس کے ٹالی"😁

میرے مخاطَب وہ مذہبی حضرات ہیں جنکے نزدیک لبرل باندروں کو فقط مولوی کی مار ہی اسلام سے دور رکھے ہوۓ ہے۔😯

میں گارنٹی سے کہتا ہوں کہ ان حضرات نے کبھی مدرسہ پڑھایا ہی نہیں
یا اگر پڑھایا ہے تو کسی امیر علاقے میں چند ممی ڈیڈی بچوں کو ٹیوشنز یا پھر اسکول کالج کے بچوں کو لیکچرز دے کر یہ سمجھتے ہیں کہ اس طریقے سے ہر گدھے گھوڑے کو پڑھایا جا سکتا ہے۔😃

حضور والا۔۔۔۔!
کبھی کسی غریب علاقے میں آ کر باقاعدہ مدرسے کی کلاس پڑھا کر دیکھیں
ایک ہفتے میں بچے ڈپریشن کا مریض نہ بنا دیں تو کہۓ گا😬

قاری صاحب کے پاس دو گھنٹے میں چالیس بچے دے دۓ جاتے ہیں، جس میں اسے سبق سننا بھی ہے، سمجھانا بھی ہے، اخلاقی تربیت بھی کرنی ہے، نماز بھی سکھانی ہے، کلمے و دعائیں بھی یاد کروانی ہیں 😵
اور پھر سب سے بڑھ کر
قاری صاحب اس نے مجھے مار دیا،
قاری صاحب یہ میرے ابو کا نام بگاڑ رہا ہے،
قاری صاحب یہ مجھے کالا بول رہا ہے،
قاری صاحب اس نے میرا سپارہ چھپا دیا،
قاری صاحب پانی پینے جائیں،
قاری صاحب واشروم جائیں،
قاری صاحب وہ چیز کھا رہا ہے
اور اس جیسی ہزاروں باتیں جنہیں اساتذہ کو حل کرنا ہوتا ہے۔😷

پھر انتظامیہ اور والدین کی طرف سے دباؤ کہ بچے کو دو سال ہوگۓ مگر ابھی تک قرآن ختم نہیں ہوا۔

چھٹیاں خود کروائیں گے، استاد سزا دے دے تو پھر شکایت کہ استاد مارتا ہے۔😒

اب اگر اس سب کو جھیلتے ہوۓ استاد تھوڑی بہت سزا ( پھر کہہ رہا ہوں غیر انسانی تشدد کی بات نہیں کر رہا) دے دے، چند اسکیل ہاتھ پر مار دے یا مرغا بنادے یا کان پکڑ وا دے۔
تو یہ بھی آپکو برداشت نہیں ہے؟؟؟
اس سے زیادہ تو امائیں ہی بچوں کوٹ دیتی ہیں گھروں پر
مگر استاد کا ہاتھ بھی لگانا حرام ٹھہرا؟؟؟؟😢

تو پھر نتیجہ بھی آپکے سامنے ہے۔
جب تک والدین اساتذہ سے کہتے تھے " گوشت آپکا ہڈیاں ہماری" تب تک بچے بھی اساتذہ کا ادب کرنے والے ہوتے تھے۔☺
اور جب سے یہ سیریلیک والی بریڈ آئ ہے تب سے آۓ دن اساتذہ کے ساتھ بدتمیزی حتی کے اساتذہ کو مار پیٹ کرنے کی ویڈیوز بھی سامنے آتی رہتی ہیں۔😢

آپ دیکھ لیں
کیا ضرورت سے زیادہ نرمی کی وجہ سے نئ نسل بدتمیز نہیں ہوتی جا رہی؟؟؟؟؟
خود غور فرمائیں☺

فتدبر

#اســــــدقــــادری

Address

Topi

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when معھدالبنوری للدراسات الاسلامیہ سلطان آباد بامخیل صوابی posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share