02/09/2026
*سردار عطا اللہ مینگل کی برسی کے موقع پر خراجِ عقیدت: نظریہ قربانی مانگتا ہے، اور وہ اس پر پورا اترے*
*قاسم دشتی*
معروف سیاسی و سماجی شخصیت قاسم دشتی نے سردار عطا اللّہ مینگل کے برسی کے موقع اپنے جاری کردہ بیان میں کہا کہ آج بلوچستان کی تاریخ ایک دردناک لیکن فخر انگیز دن یاد کر رہی ہے۔ آج سردار عطا اللہ مینگل کی برسی ہے۔ یہ دن صرف سوگ کا دن نہیں، یہ تجدیدِ عہد کا دن ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ قوموں کی تقدیر بدلنے والے رہنما اپنی جان دے کر بھی اپنے نظریے کو زندہ رکھ جاتے ہیں
انہوں نے کہا کہ سردار عطا اللہ مینگل بلوچستان کے محروم و مظلوم عوام کی آواز اور بلوچ قوم کے سیاسی شعور کے معمار تھے۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی بلوچستان کے وسائل پر بلوچستان کے حق اور بلوچ قوم کے تعفظ کے لیے وقف کر دی۔مشکل ترین آمریتوں اور مارشل لاؤں کے دور میں بھی وہ اپنے موقف سے ایک انچ پیچھے نہیں ہٹے، برسی پر اگر ہم صرف دعائیں اور تقریں کر کے چلے گئے تو یہ ان کی قربانیوں سے غداری ہوگی۔ اصل خراجِ عقیدت یہ ہے کہ ہم ان کے مشن کو آگے بڑھائیں
انہوں نے مزید کہا کہ آج بلوچستان کو جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ ہے سیاسی اتحاد۔ بلوچ قوم پرست جمہوری قوتوں کو چاہیے کہ وہ ذاتی اختلافات بھلا کر سردار صاحب کے دکھائے ہوئے راستے پر چلتے ہوئے بلوچستان کے حقوق کے لیے ایک مشترکہ لائحہ عمل بنائیں
انہوں نے آخر میں کہا کہ سردار عطا اللہ مینگل کا نظریہ آج بھی اتنا ہی زندہ ہے جتنا ان کی زندگی میں تھا۔ ان کی وفات نے ثابت کیا کہ جو لوگ حق کے لیے کھڑے ہوتے ہیں تاریخ انہیں کبھی فراموش نہیں کرتی، تاریخ گواہ ہے کہ لیڈر مرتے نہیں، وہ نسلوں کے ضمیر میں زندہ رہتے ہیں۔ آج ہم سردار عطا اللہ مینگل کی برسی پر عہد کرتے ہیں کہ ہم ان کے راستے پر چلتے رہیں گے