24/10/2022
#کراچی
#کوئٹہ
#لسبیلہ
#پشتونخوا سٹوڈنٹس آرگنائزیشن لسبیلہ زرعی یونیورسٹی کے علاقائی کانفرنس کا انعقاد جنوبی پشتونخوا زون کے زونل آرگنائزر سیف اللہ خان کاکڑ کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ جس کے مطابق احمد خان سیکرٹری،عرفان خان سینئر معاون سیکرٹری جبکہ حضرت بلال، طارق عزیز، انور جان، منظور احمد، سیف الرحمن،عبدالخالق، عبدالرحمن،ثناء اللہ اچکزئی اور امیر زرکون معاونین منتخب ہوئے۔ اس موقع پر منعقدہ تقریب سے PSOآرگنائزنگ کمیٹی سینئر ڈپٹی آرگنائزر یار محمد بریال، ڈپٹی آرگنائزرز امین اچکزئی، زبیر ترین، پشتونخوامیپ سندھ زون کے صوبائی صدر نذیر جان لالا، صوبائی ڈپٹی سیکرٹریزشیر وزیر، نصیر خان اچکزئی، ایمل مندوخیل اور پشتونخوا ایس او لسبیلہ زرعی یونیورسٹی کے نو منتخب سیکرٹری احمد خان نے خطاب کیا۔ مقررین نے لسبیلہ یونیورسٹی کی نئی کابینہ کو مبارکبادپیش کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ وہ پشتونخوا ایس او کی صفوں میں اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنے آپ اور معاشرے کی اصلاح وترقی کیلئے کردار ادا کرینگے اور پارٹی کے چیئرمین محترم محمود خان اچکزئی کی رہبری میں قومی اہداف کے حصول اورخان شہید عبدالصمد خان اچکزئی سے لیکر ملی شہیدعثمان خان کاکڑ تک کے تمام شہدا کے ارمانوں کی تکمیل کیلئے جاری قومی سیاسی جدوجہدکو تقویت دینگے۔ انہوں نے کہا کہ پشتونخوا سٹوڈنٹس آرگنائزیشن پشتونخوا وطن کے طلباء ونوجوانوں کی سیاسی،علمی ونظریاتی شعوری واخلاقی تنظیم وتربیت کا ایک اہم پلیٹ فارم ہے جس نے ہمیشہ مسلسل جدوجہد کرتے ہوئے ہر فورم پر طلباء وطالبات کے تمام حقوق کی نہ صرف ترجمانی کی بلکہ اس کے حل کیلئے ہر قسم کے پر امن جمہوری طریقہ کار وجدوجہد کی راہ اپنائی اوریہی قومی وسیاسی سوچ وطن دوستی وروشن فکری اور طلباء دوستی کا بہترین ثبوت ہے۔انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت اور بالخصوص محکمہ تعلیم کی طلباء دشمن، تعلیم دشمن پالیسیوں واقدامات کے باعث اس پشتون بلوچ صوبے کا ہر تعلیمی ادارہ آج تباہی کے دہانے پر پہنچ چکاہے، مادری زبانوں میں تعلیم سلسلے کو بحال نہ کرنے، سکولوں میں بنیادی سہولیات نہ ہونے، اساتذہ کے معیار تعلیم اور حاضری پر چیک اینڈ بیلنس نہ رکھنے، ٹرانسفرپوسٹنگ پر کرپشن وکمیشن ہم سب کے سامنے ہیں۔ اسی طرح کالجز اور یونیورسٹیوں میں ہاسٹلز وکمروں کی بندش، وہاں خوف وہراس کا ماحول بنا کر تعلیمی سلسلے کو بدترین طور پر متاثر کیا گیا ہے جبکہ مختلف تعلیمی اداروں میں داخلوں اور سمیسٹرز کی بھاری برقم فیسوں کے بھرنے، امتحان میں معمولی کمی کو جواز بنا کر فیل کرنے اور دوبارہ سے فیس طلب کرکے امتحان دینے، ڈگری روکنے اور وقت کے ضیاع کرنے جیسے طلباء ددشمن اقدامات قابل افسوس اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی نااہلی کے باعث اساتذہ اورملازمین ہر چندماہ بعد تنخواہوں کیلئے احتجاج کررہے ہوتے ہیں جس کے باعث ایک جانب اساتذہ کا وقار متاثر اور دوسری جانب طلباء وطالبات کا قیمتی وقت ضائع ہوتا ہے۔ انہوں نے نومنتخب ایگزیکٹوزپر زور دیا کہ وہ پشتونوں سمیت یونیورسٹی میں تمام طلباء کے مسائل کے حل،ان کے تعلیمی حقوق کیلئے بھر پور آواز بلند کرنے اور ادارے اور اس میں تعلیمی معیار کو مزید بہتر بنانے کیلئے اپنا مثبت کردار ادا کریں۔