BSO Uthal Zone Luawms

BSO Uthal Zone Luawms Baloch Students Organization ( BSO ) is a student organization strives for the due rights of Baloch students in entire country.

BSO Luawms Zone struggles for the students facing problems in educational institutions
demands free & quality education

ڈیجیٹل سہولیات کے بغیر آن لائن تعلیم دھوکہ ہے۔ ترجمان بی ایس او اوتھل زوناوتھل: بی ایس او اوتھل کے ترجمان نے اپنے جاری ک...
30/03/2026

ڈیجیٹل سہولیات کے بغیر آن لائن تعلیم دھوکہ ہے۔ ترجمان بی ایس او اوتھل زون

اوتھل: بی ایس او اوتھل کے ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ بلوچستان کے بیشتر اضلاع میں انٹرنیٹ سروس نہ ہونے کے برابر ہے، جس کے باعث طلباء آن لائن کلاسز میں شرکت سے قاصر ہیں۔ اس کے باوجود تعلیمی اداروں کی جانب سے آن لائن کلاسز کا انعقاد ایک غیر حقیقت پسندانہ اور ناقابلِ عمل فیصلہ ہے۔

ترجمان نے کہا کہ کوئٹہ کے علاوہ صوبے کے دور دراز علاقوں میں طلباء کو نہ صرف انٹرنیٹ بلکہ دیگر بنیادی تعلیمی سہولیات کی بھی شدید کمی کا سامنا ہے۔ ایسے حالات میں آن لائن تعلیم کا نفاذ بلوچستان کے ہزاروں طلباء کو عملی طور پر تعلیمی عمل سے باہر کرنے کے مترادف ہے۔

بی ایس او اوتھل نے حکومت اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے آن لائن کلاسز کے فیصلے پر فوری نظرثانی کی جائے اور بلوچستان کے تمام علاقوں میں انٹرنیٹ کی یکساں فراہمی کو یقینی بنایا جائے

07/02/2026

بی ایس او اوتھل زون کا وندر میں ٹریفک حادثے میں یونیورسٹی کے سابقہ سیکیورٹی اہلکار وقار بنگش کے جاں بحق ہونے پر گہرے رنج و غم کا اظہار

اوتھل:(پ ر)بی ایس او اوتھل زون کے ترجمان نے اپنے جاری کردہ تعزیتی بیان میں کہا کہ یونیورسٹی کے سابقہ سیکیورٹی اہلکار وقار بنگش کے وندر کے مقام پر پیش آنے والے افسوسناک ٹریفک حادثے میں جاں بحق ہونے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتا ہے۔ یہ واقعہ نہایت دلخراش ہے جس نے اہلِ خانہ، دوستوں اور یونیورسٹی برادری کو سوگوار کر دیا ہے۔

مرحوم وقار بنگش ایک فرض شناس، ذمہ دار اور خوش اخلاق انسان تھے جو اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں دیانتداری کے ساتھ ادا کرتے رہے۔ ان کی ناگہانی وفات اہل خانہ سمیت یونیورسٹی کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔

بیان کے آخر میں ترجمان نے کہا کہ اللہ تعالیٰ سے دعاگو ہیں مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور لواحقین کو صبرِ جمیل دے۔ آمین۔

06/02/2026

جبری گمشدگیاں بلوچ سیاسی تاریخ کا مستقل زخم ہیں۔ مرکزی ترجمان بی ایس او

کوئٹہ: (پ ر) بی ایس او کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ شہید اسد جان مینگل اور شہید احمد شاہ بلوچ کو 6 فروری 1976 کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا، جو بلوچستان کی تاریخ میں جبری گمشدگیوں کے ایک سیاہ باب کی علامت ہے۔ یہ امر انتہائی قابلِ مذمت ہے کہ آج دہائیوں بعد بھی ان کی بازیابی ممکن نہ ہو سکی اور نہ ہی ان کے اہلِ خانہ کو کوئی جواب دیا گیا۔

مرکزی ترجمان نے کہا کہ شہید اسد جان مینگل بلوچستان کے سرخیل قومی راہشون سردار عطاءاللہ مینگل کے جوانسال فرزند تھے، جنہیں سیاسی انتقام اور قومی شعور کو کچلنے کی پالیسی کے تحت لاپتہ کیا گیا۔ شہید اسد جان مینگل اور شہید احمد شاہ بلوچ کی جبری گمشدگی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ بلوچستان میں اختلافِ رائے اور قومی سوچ کو ختم کرنے کے لیے ریاستی جبر کو ایک منظم ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ 6 فروری 1976 کا دن آج بھی بلوچ قوم کے لیے ایک دردناک یاد ہے، جو یہ ثابت کرتا ہے کہ جبری گمشدگیاں کوئی نیا عمل نہیں بلکہ ایک طویل اور مسلسل ظلم کا تسلسل ہیں۔ شہید اسد جان مینگل اور شہید احمد شاہ بلوچ جیسے افراد کی گمشدگی نے نہ صرف ان کے خاندانوں کو ناقابلِ تلافی صدمہ پہنچایا بلکہ پوری بلوچ قوم کو اجتماعی اذیت میں مبتلا کیا۔

بی ایس او کے مرکزی ترجمان نے کہا کہ جبری گمشدگیاں آئینِ پاکستان، بین الاقوامی انسانی حقوق اور بنیادی اخلاقی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ اگر ریاست واقعی قانون کی بالادستی پر یقین رکھتی ہے تو شہید اسد جان مینگل اور شہید احمد شاہ بلوچ سمیت تمام لاپتہ افراد کے بارے میں سچ قوم کے سامنے لایا جائے۔

انہوں نے انسانی حقوق کی عالمی و مقامی تنظیموں، سول سوسائٹی، وکلا اور جمہوریت پسند قوتوں سے اپیل کی کہ وہ اس تاریخی ناانصافی کے خلاف آواز بلند کریں اور جبری گمشدگیوں کے خاتمے کے لیے عملی کردار ادا کریں۔

آخر میں مرکزی ترجمان نے واضح کیا کہ بی ایس او تمام لاپتہ افراد کی بازیابی تک اپنی سیاسی و جدوجہد جاری رکھے گی اور تاریخ کے اس سیاہ باب کو فراموش نہیں ہونے دے گا۔

طلبہ کے حقوق کیئے منظم جدوجہد کیا جائے گا: ترجمان بی ایس او اوتھل زوناوتھل:(پ ر) بی ایس او اوتھل زون کی جانب سے زونلکابی...
22/01/2026

طلبہ کے حقوق کیئے منظم جدوجہد کیا جائے گا: ترجمان بی ایس او اوتھل زون

اوتھل:(پ ر) بی ایس او اوتھل زون کی جانب سے زونل
کابینہ کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں زونل عہدیداران نے بھرپور شرکت کی۔ اجلاس کی صدارت زونل صدر جنید بلوچ نے کی جبکہ مہمان خاص مرکزی جونیئر وائس چیئرمین عامر نذیر بلوچ تھے۔ نظامت کے فرائض زونل جنرل سیکرٹری منصور بلوچ نے انجام دیے۔

اجلاس کا آغاز شہداء بلوچستان کی یاد میں دو منٹ کی خاموشی سے کیا گیا اجلاس بنیادی مقصد زون میں تنظیمی ڈھانچے کو مزید فعال بنانا، یونٹ سازی کے عمل کو تیز کرنا اور تعلیمی اداروں میں طلبہ کے جائز حقوق کی بحالی کے لیے عملی حکمتِ عملی ترتیب دینا تھا۔

اجلاس میں اس امر پر تفصیلی بحث کی گئی کہ موجودہ حالات میں طلبہ کو درپیش تعلیمی، سماجی اور سیاسی مسائل کے حل کے لیے ایک مضبوط اور منظم طلبہ سیاست ناگزیر ہے۔ شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ بی ایس او کی نظریاتی اساس کو سامنے رکھتے ہوئے تعلیمی اداروں میں طلبہ کو منظم کیا جائے اور ان کے جمہوری حقِ آواز کو بحال کیا جائے۔

تنظیم سازی کے حوالے سے فیصلہ کیا گیا کہ اوتھل زون تعلیمی اداروں میں یونٹس کو ازسرِ نو فعال کیا جائے گا۔ نئے کارکنان کی شمولیت کے لیے رابطہ مہم شروع کی جائے گی۔ نظریاتی و تنظیمی تربیتی نشستوں کا انعقاد کیا جائے گا۔زونل و یونٹ سطح پر ذمہ داریوں کی واضح تقسیم کی جائے گی۔

اجلاس میں طلبہ سیاست کی بحالی کے لیے اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ تعلیمی اداروں میں طلبہ مسائل پر منظم آواز بلند کی جائے۔ طلبہ کے تعلیمی حقوق، سہولیات اور اظہارِ رائے کے حق کے لیے جدوجہد کو منظم کیا جائے۔ دیگر ترقی پسند طلبہ قوتوں سے رابطہ و ہم آہنگی کو فروغ دیا جائے۔

آخر میں زونل کابینہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بی ایس او اوتھل زون تنظیمی مضبوطی، نظریاتی وابستگی اور طلبہ حقوق کی جدوجہد کو مزید تیز کرے گا اور ہر محاذ پر طلبہ کی نمائندہ آواز بن کر ابھرے گا۔

19/12/2025
21/10/2025
بی ایس او اوتھل زون کا. جنرل باڈی اجلاس منعقد، جنید بلوچ صدر،منصور بلوچ جنرل سیکرٹری منتخب۔بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کا ج...
09/10/2025

بی ایس او اوتھل زون کا. جنرل باڈی اجلاس منعقد، جنید بلوچ صدر،منصور بلوچ جنرل سیکرٹری منتخب۔

بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کا جنرل باڈی اجلاس زیر صدارت زونل آرگنائزر جنید بلوچ کے منعقد ہوا۔ اجلاس کے مہمانِ خاص مرکزی جونیئر وائس چیئرمین عامر نذیر بلوچ تھے۔ اجلاس کا باقاعدہ آغاز شہداء بلوچستان کی یاد میں دو منٹ کی خاموشی کے بعد ہوا۔ موجودہ سیاسی صورتحال، تنظیمی امور اور زونل انتخابات سمیت مختلف امور زیر بحث رہے۔

موجودہ سیاسی صورتحال پر بحث کرتے ہوئے شرکاء نے کہا کہ بلوچستان کے تعلیمی ادارے، خصوصاً اوتھل اور گردونواح کے علاقے، تعلیمی زوال، بیروزگاری اور سیاسی جمود کا شکار ہیں۔ طلبا نے اس بات پر زور دیا کہ بی ایس او کو تعلیمی میدان میں شعور و بیداری پیدا کرنے اور نوجوانوں کو جمہوری، پرامن جدوجہد کے ذریعے اپنے حقوق کے حصول کی راہ دکھانے میں اپنا فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔

تنظیمی امور کے حوالے سے اجلاس میں پچھلی باڈی کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ شرکاء نے تنظیمی نظم و ضبط، ممبرشپ مہم کی بہتری، نظریاتی نشستوں کے تسلسل اور یونٹ سطح پر سرگرمیوں میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔ یہ طے پایا کہ تنظیم کے اندرونی ڈھانچے کو مزید مضبوط بنانے کے لیے باقاعدہ تربیتی پروگرام اور اجلاس منعقد کیے جائیں گے۔

آخر میں زونل باڈی تحلیل کرکے جونیئر وائس چیئرمین عامر نذیر بلوچ کی سربراہی میں تین رکنی الیکشن کمیٹی تشکیل دی گئی، جس کے اراکین کامران بلوچ اور بصیر بلوچ تھے۔ انتخابات کے نتائج میں بی ایس او اوتھل زون کا جنرل باڈی منعقد جنید بلوچ زونل صدر، اسد بلوچ سینیئر نائب صدر، جاوید بلوچ جونئر نائب صدر، منصور بلوچ جنرل سیکرٹری، فرید بلوچ سینیئر جوائنٹ، شعیب بلوچ جونئر جوائنٹ سیکرٹری، ذاکر بلوچ انفارمیشن سیکرٹری منتخب ہوئے۔

بی ایس او کے مرکزی جونیئر وائس چیئرمین عامر نذیر کو مرکزی دورے پر اوتھل کی سرزمین پر خوش آمدید کہتے ہیں۔بی ایس او لوامز ...
22/09/2025

بی ایس او کے مرکزی جونیئر وائس چیئرمین عامر نذیر کو مرکزی دورے پر اوتھل کی سرزمین پر خوش آمدید کہتے ہیں۔

بی ایس او لوامز یونٹ اوتھل زون

11/09/2025

ADMISSIONS OPEN FALL 2k25

18/07/2025

بلوچی، براہوی اور پشتو ڈیپارٹمنٹس بندش کا حکومتی فیصلہ مسترد، تحریک چلائیں گے۔ بی ایس او

بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ جامعہ بلوچستان میں بلوچی، براہوی اور پشتو ڈیپارٹمنٹس کی بندش محض ڈپارٹمنٹس کی بندش نہیں بلکہ بلوچستان کے قومی زبانوں، تہذیب، روایات اور ثقافت پر براہ راست حملہ ہے۔

ترجمان نے کہا کہ تعلیمی ادارے محض علم کے مراکز نہیں ہوتے بلکہ یہ اقوام کی فکری، تہذیبی اور لسانی شناخت کے امین ہوتے ہیں۔ جامعہ بلوچستان میں مقامی زبانوں کے ڈیپارٹمنٹس کی بندش درحقیقت ان زبانوں کو مٹانے، نوجوان نسل کو اپنی جڑوں سے کاٹنے اور قومی شعور کو کمزور کرنے کی سازش ہے۔

انہوں نے کہا کہ ریاستی سرپرستی میں ہونے والے اس طرح کے فیصلے نہ صرف لسانی حقوق کی پامالی ہیں بلکہ بلوچستان کے تاریخی، تہذیبی اور سماجی تنوع کے انکار کے مترادف ہیں۔ بی ایس او اس فیصلے کو کسی صورت قبول نہیں کرے گی۔

انہوں نے واضح کیا کہ بلوچی، براہوی اور پشتو بولنے والے طلباء، دانشور، ادیب اور تمام ترقی پسند قوتیں اس غیرمنصفانہ اقدام کے خلاف ایک پلیٹ فارم پر متحد ہوں گی۔ ہم نہ صرف اس فیصلے کو واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہیں بلکہ اس کے خلاف بھرپور عوامی و جمہوری تحریک چلائیں گے۔

ترجمان نے مزید کہا کہ زبانوں کی بقا اقوام کی بقا ہے، اور ہم اپنی زبانوں، ثقافت اور شناخت کے تحفظ کی اس جنگ میں کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ اگر فوری طور پر ڈیپارٹمنٹس بحال نہ کیے گئے تو ہم نہ صرف بلوچستان بلکہ ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے، سیمینارز اور پریس کانفرنسز کا سلسلہ شروع کریں گے۔

بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن نے تمام طلباء تنظیموں، سیاسی جماعتوں، اساتذہ برادری اور سول سوسائٹی سے اپیل کی ہے کہ وہ اس لسانی و تہذیبی حملے کے خلاف آواز بلند کریں اور اس جدوجہد کا حصہ بنیں۔

18/07/2025

طلبہ کو درپیش بنیادی سہولیات کا بحران ناقابل برداشت ہے۔ بی ایس او شال زون بوائز پوسٹ گریجویٹ کالج

کوئٹہ — (پ ر) بی ایس او شال زون کے زیر اہتمام پوسٹ گریجویٹ ڈگری کالج یونٹ میں ایک اہم ہنگامی اجلاس منعقد کیا گیا جس کا مقصد ادارے میں جاری انتظامی بحران، ہاسٹل و لیبارٹری کی ناگفتہ بہ حالت، اور طلبہ کو درپیش بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی پر غور و احتجاج کرنا تھا۔

اجلاس میں یونٹ، زونل نمائندوں، اور بڑی تعداد میں عام طلبہ نے شرکت کی۔ تمام شرکاء نے متفقہ طور پر اس بات پر زور دیا کہ پوسٹ گریجویٹ کالج جیسے اعلیٰ تعلیمی ادارے میں انتظامی غفلت اور سہولیات کی کمی، بلوچستان کے تعلیمی مستقبل کے ساتھ کھلا مذاق ہے۔

اجلاس میں مقررین نے بتایا کہ کالج کے ہاسٹل کی عمارت خستہ حالی کا شکار ہے، جہاں دیواریں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں، چھتیں ٹپکتی ہیں، اور باتھ رومز ناقابلِ استعمال ہیں ۔ طلبہ کو نہ صرف صاف پانی کی سہولت میسر نہیں بلکہ بجلی، پنکھے اور دیگر بنیادی ضروریات کی بھی شدید قلت ہے۔ سائنس، کمپیوٹر، اور بایولوجی لیبارٹریز میں جدید آلات کا فقدان ہے، جس کی وجہ سے طلبہ کو پریکٹیکل تعلیم سے محروم ہونا پڑ رہا ہے۔ کلاس رومز میں فرنیچر کی کمی، بورڈز کی خستہ حالی، اور تعلیمی ماحول کی غیر موجودگی پر طلبہ نے گہری تشویش ظاہر کی۔

بی ایس او کے رہنماؤں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پوسٹ گریجویٹ کالج بلوچستان کے ذہین ترین طلبہ کا مرکز ہے، لیکن ادارے کی حالت زار اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ حکومت تعلیم کو کوئی ترجیح دینے پر آمادہ نہیں۔
طلبہ کو جان بوجھ کر بنیادی سہولیات سے محروم رکھنا بلوچستان کے مستقبل سے دشمنی کے مترادف ہے۔ اگر ان مسائل کو فوری طور پر حل نہیں کیا گیا تو یہ بغاوت کا پیش خیمہ بن سکتا ہے، جس کی تمام تر ذمہ داری انتظامیہ اور حکومت پر عائد ہوگی۔”

بی ایس او نے مزید کہا کہ وہ طلبہ کے تعلیمی حق کے تحفظ کے لیے ہر سطح پر آواز بلند کرتی رہے گی، چاہے وہ میڈیا ہو، سڑکیں ہوں یا عدالتیں۔ خاموشی اب جرم ہے۔

بی ایس او شال زون نے مزید مطالبہ کیا کہ کالج انتظامیہ، محکمہ تعلیم بلوچستان اور اعلیٰ حکام سے درج ذیل فوری اقدامات کرے:

1. ہاسٹل کی فوری مرمت اور صفائی ستھرائی کا مؤثر بندوبست۔
2. سائنسی و کمپیوٹر لیبارٹریز کو جدید آلات سے لیس کرنا۔
3. طلبہ کے لیے صاف پانی، بجلی اور بنیادی سہولیات کی فوری بحالی۔

Address

Uthal

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when BSO Uthal Zone Luawms posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share