06/02/2026
جبری گمشدگیاں بلوچ سیاسی تاریخ کا مستقل زخم ہیں۔ مرکزی ترجمان بی ایس او
کوئٹہ: (پ ر) بی ایس او کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ شہید اسد جان مینگل اور شہید احمد شاہ بلوچ کو 6 فروری 1976 کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا، جو بلوچستان کی تاریخ میں جبری گمشدگیوں کے ایک سیاہ باب کی علامت ہے۔ یہ امر انتہائی قابلِ مذمت ہے کہ آج دہائیوں بعد بھی ان کی بازیابی ممکن نہ ہو سکی اور نہ ہی ان کے اہلِ خانہ کو کوئی جواب دیا گیا۔
مرکزی ترجمان نے کہا کہ شہید اسد جان مینگل بلوچستان کے سرخیل قومی راہشون سردار عطاءاللہ مینگل کے جوانسال فرزند تھے، جنہیں سیاسی انتقام اور قومی شعور کو کچلنے کی پالیسی کے تحت لاپتہ کیا گیا۔ شہید اسد جان مینگل اور شہید احمد شاہ بلوچ کی جبری گمشدگی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ بلوچستان میں اختلافِ رائے اور قومی سوچ کو ختم کرنے کے لیے ریاستی جبر کو ایک منظم ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ 6 فروری 1976 کا دن آج بھی بلوچ قوم کے لیے ایک دردناک یاد ہے، جو یہ ثابت کرتا ہے کہ جبری گمشدگیاں کوئی نیا عمل نہیں بلکہ ایک طویل اور مسلسل ظلم کا تسلسل ہیں۔ شہید اسد جان مینگل اور شہید احمد شاہ بلوچ جیسے افراد کی گمشدگی نے نہ صرف ان کے خاندانوں کو ناقابلِ تلافی صدمہ پہنچایا بلکہ پوری بلوچ قوم کو اجتماعی اذیت میں مبتلا کیا۔
بی ایس او کے مرکزی ترجمان نے کہا کہ جبری گمشدگیاں آئینِ پاکستان، بین الاقوامی انسانی حقوق اور بنیادی اخلاقی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ اگر ریاست واقعی قانون کی بالادستی پر یقین رکھتی ہے تو شہید اسد جان مینگل اور شہید احمد شاہ بلوچ سمیت تمام لاپتہ افراد کے بارے میں سچ قوم کے سامنے لایا جائے۔
انہوں نے انسانی حقوق کی عالمی و مقامی تنظیموں، سول سوسائٹی، وکلا اور جمہوریت پسند قوتوں سے اپیل کی کہ وہ اس تاریخی ناانصافی کے خلاف آواز بلند کریں اور جبری گمشدگیوں کے خاتمے کے لیے عملی کردار ادا کریں۔
آخر میں مرکزی ترجمان نے واضح کیا کہ بی ایس او تمام لاپتہ افراد کی بازیابی تک اپنی سیاسی و جدوجہد جاری رکھے گی اور تاریخ کے اس سیاہ باب کو فراموش نہیں ہونے دے گا۔