Pakistan Muslim league N Zafarwal-Narowal

Pakistan Muslim league N Zafarwal-Narowal Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Pakistan Muslim league N Zafarwal-Narowal, Political Party, Zafarwal.

02/04/2026

آئندہ آزاد کشمیر کے الیکشن میں اگر کوئی سب سے دلچسپ اور “اہم” کردار ہوگا تو وہ چوہدری صدیق بھٹلی کا ہوگا۔

یہ وہ شخصیت ہے جو ہر دور میں “وقت کے تقاضے” کے مطابق اپنا رنگ بدلنے میں مہارت رکھتی ہے۔ آج کل حسبِ روایت جب مفاد کا موسم آیا ہوا ہے، تو جناب پی ٹی آئی کے ہر جلسے، ہر محفل اور ہر موقع پر نمایاں نظر آ رہے ہیں۔ حالانکہ یہی صاحب کئی بار اسٹیج پر کھڑے ہو کر بڑے فخر سے کہہ چکے ہیں کہ “میری کوئی سیاسی جماعت نہیں، میری پارٹی صرف بابا انور عزیز ہے۔”

لیکن سیاست میں اصول نہیں، مفاد بولتا ہے… اور آج کل ٹکٹ کا مفاد سب پر بھاری ہے۔

اصل تماشا تو اُس دن لگے گا جب پی ٹی آئی اپنے ٹکٹ کا اعلان کرے گی۔ اگر خدانخواستہ ٹکٹ کسی اور امیدوار کو مل گیا تو پھر دیکھنا یہ ہے کہ سارا “انقلاب” اور “تبدیلی” کہاں جاتی ہے۔ وہی صدیق بھٹلی، جو آج تبدیلی کا علمبردار بنا ہوا ہے، کل شاید ظفروال میں کسی اور دربار پر نظر آئے… اور پھر سیدھا دانیال عزیز کے آستانے پر حاضری دے رہا ہوگا۔

یہ کوئی نئی بات نہیں، بلکہ ایک پرانا اور آزمودہ طریقہ ہے—جہاں مفاد، وہیں وفاداری۔

پورے ضلعے میں اگر کوئی سب سے تیزی سے حالات کو دیکھ کر پلٹی کھانے کا ریکارڈ رکھتا ہے، تو وہ یہی شخصیت ہے۔ اس لیے میں تو بس اُس لمحے کا انتظار کر رہا ہوں جب ٹکٹس کا اعلان ہوگا… اور اگر صدیق بھٹلی کو ٹکٹ نہ ملا، تو پھر یہ “نام نہاد انقلابی” کس صف میں کھڑا نظر آئے گا؟

شاید یہ منظر پی ٹی آئی کے اپنے کارکنوں کے لیے بھی کسی سرپرائز سے کم نہیں ہوگا۔

سو دوستو… انتظار کریں، وقت بدلے گا…
اور وقت کے ساتھ ساتھ کردار بھی بے نقاب ہوں گے۔

01/04/2026

ایک انسان جب اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز کرتا ہے تو اس کے سامنے مختلف سیاسی جماعتوں کے انتخاب کا مرحلہ آتا ہے۔ وہ اپنی سوچ، اپنے نظریے اور اپنی سیاسی سوجھ بوجھ کے مطابق ایک جماعت کا انتخاب کرتا ہے، اور پھر محض وقتی فائدے کے لیے نہیں بلکہ ایک نظریے کے ساتھ ساری زندگی اسی جماعت کے ساتھ وابستہ رہتا ہے۔

ایسا کارکن صرف نام کا ساتھی نہیں ہوتا، بلکہ وہ ہر مشکل وقت میں اپنی جماعت کی فرنٹ لائن پر کھڑا ہوتا ہے۔ جب پارٹی پر آزمائش آتی ہے تو وہ جیلیں بھی کاٹتا ہے، قربانیاں بھی دیتا ہے، مشکلات بھی برداشت کرتا ہے، حتیٰ کہ اپنی جان تک قربان کرنے سے دریغ نہیں کرتا۔ اس کی وفاداری کسی عہدے یا مفاد کی مرہونِ منت نہیں ہوتی بلکہ ایک نظریے، ایک قیادت اور ایک مقصد کے ساتھ اس کا رشتہ جڑا ہوتا ہے۔

تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایسی بے لوث وفاداری اور قربانیوں کے بعد پارٹی پر یہ ذمہ داری عائد نہیں ہوتی کہ وہ اپنے ایسے مخلص کارکنوں کی قدر کرے؟ کیا یہ ضروری نہیں کہ ہر اہم فیصلے میں ان سے مشاورت کی جائے، ان کی رائے کو اہمیت دی جائے، اور جب اچھا وقت آئے تو انہیں بھی اس کا حق دیا جائے؟ یقیناً یہ اسی خلوص، محبت اور عقیدت کا صلہ ہوتا ہے جو ایک کارکن اپنی پوری زندگی میں اپنی جماعت کو دیتا ہے۔

ہماری سیاست میں اس کی ایک زندہ مثال احسن اقبال صاحب ہیں، جنہوں نے اپنے سیاسی سفر کا آغاز ایک واضح نظریے کے ساتھ کیا اور اپنے قائد میاں نواز شریف کے شانہ بشانہ ہر دور میں ثابت قدم رہے۔ چاہے حالات سازگار ہوں یا کٹھن، انہوں نے کبھی اپنے اصولوں سے انحراف نہیں کیا۔ یہی استقامت، یہی وفاداری اور یہی نظریاتی وابستگی انہیں آج نارووال کی سیاست اور پورے پاکستان کی سیاست میں ایک مرکزی اور فیصلہ کن حیثیت عطا کرتی ہے۔

آج جب میں نارووال کی سیاست میں ان کے سیاسی مخالفین کی تاریخ پر نظر ڈالتا ہوں تو دل میں ایک عجیب سی شرمندگی محسوس ہوتی ہے۔ کوئی ایک بھی ایسا نظر نہیں آتا جو مستقل مزاجی کے ساتھ کسی ایک جماعت، کسی ایک قائد یا کسی ایک نظریے کے ساتھ کھڑا رہا ہو۔ اکثر نے وقتی مفادات کے تحت پارٹیاں بدلیں، ہر نئے سیاسی موسم کے ساتھ اپنا رخ بدلا، اور ہر چڑھتے سورج کو سلام کیا—چاہے وہ مشرف کا دور ہو، چٹھا لیگ ہو، پیپلز پارٹی ہو یا پی ٹی آئی، ہر جگہ اپنے فائدے کی تلاش میں بھٹکتے رہے۔

آج یہی لوگ کس بنیاد پر یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ پارٹی احسن اقبال صاحب کی بات کیوں مانتی ہے؟ کس اخلاقی جواز کے تحت وہ ان کے قد و قامت، ان کی عزت و وقار اور ان کی جماعت میں حیثیت پر انگلی اٹھاتے ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ یہ تنقید ان کے اپنے کردار کا عکس ہے۔ جو خود نظریاتی وفاداری سے محروم ہوں، وہ وفاداری کی قیمت کیا جانیں۔

ایسے لوگوں کی تنقید بالکل ویسی ہی ہے جیسے کوئی شخص آسمان کی طرف منہ کر کے تھوکے—جو واپس پلٹ کر اسی کے اپنے چہرے پر آ گرتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ عزت، وقار اور مقام صرف انہی کو ملتا ہے جو ثابت قدم رہتے ہیں، جو مشکل وقت میں ساتھ چھوڑنے کے بجائے ڈٹ کر کھڑے ہوتے ہیں، اور جو اپنی جماعت اور اپنے قائد کے ساتھ سچی وابستگی رکھتے ہیں۔

احسن اقبال صاحب کا سیاسی سفر اسی اصول، اسی وفاداری اور اسی استقامت کی روشن مثال ہے—اور یہی وہ معیار ہے جو ہر سیاسی کارکن کے لیے مشعلِ راہ ہونا چاہیے۔

تحریر۔
رانا وہاب عباس آف درمان

05/01/2024
30/12/2023

احسن اقبال کا ظفروال کی سیاست میں آنا لوٹوں کی تاحیات چھٹی ہونے جا رہی

30/12/2023

احمد اقبال نے ظفروال کی عوام کے دل جیت لیے

شکریہ احمد اقبال

30/12/2023

پی پی 54 احسن اقبال
این اے 75 دانیال عزیز

ٹھپے پہ ٹھپہ شیر پہ ٹھپہ

30/12/2023

اویس قاسم صاحب نے اگر پچھلے دو چار سال پارٹی کے لیے کام کیا ہوتا لیگی تنظیم کو مظبوط کیا ہوتا دھڑوں کو چھوڑ کر پارٹی کے ووکروں کو عزت دی ہوتی تو یقین مانیں احسن اقبال بھی ٹکٹ نہیں لے سکتا تھا اور نہ ہی دانیال عزیز کر پیچھے ٹکٹ کے لیے کجھل ہونا پڑتا
اویس صاحب یہ دھڑے وقت کے ساتھ بدل جاتے ہیں لیکن پارٹی ووکر نظریہ کے ساتھ پارٹی منشور کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے وہ وقت کی سختیوں یا کسی بھی لالچ کے ساتھ بدلتا نہیں ہے
یہ 90 کی سیاست نہیں ہے 2024 آ گیا ہے لوگوں کی سوچ میں تبدیلی ہے حالات یکسر مختلف ہیں ووٹ میں اضافہ ہوا ہے ہر بندہ اپنا فیصلہ کرنے میں آزاد ہے لوگ امیدوار کی سوچ اور کردار دیکھتے ہیں نہ کہ دھڑا
آج آپ کے پاس ٹکٹ ہوتی تو یقیناً جیت آپ کا مقدر ہوتی ایم پی اے نے 3 لاکھ ووٹرز کی نمائندگی کرنا ہوتی ہے اگر نمائندے کی اپنی کوئ سوچ نہیں ہے اپنا کوئ فیصلہ نہیں ہے تو اس نے اپنے علاقے اور اپنے ووٹرز کو شرمندہ ہی کرنا ہوتا ہے
قصہ مختصر آج بھی آپ دھڑا چھوڑ کر پارٹی کے لیے کام کریں تو آپ کے لیے حالات بہت بہتر ہوں گے اور خود اعتمادی بھی آۓ گی ہو سکے تو اپنے مشورہ گیر بدلیں

30/12/2023

8 فروری کو تحصیل ظفروال پی پی 54 شیروں کا راج ہوگا
ہر طرف بس شیر

Address

Zafarwal

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Pakistan Muslim league N Zafarwal-Narowal posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Pakistan Muslim league N Zafarwal-Narowal:

Share