12/10/2026
سیاستدان آتے جاتے رہیں گے، پاکستان اور اس کے محافظ ہمیشہ قائم رہیں گے!
پاکستان کی سیاسی تاریخ میں خان عبدالغفار خان (باچا خان) سے لے کر آصف علی زرداری، مولانا فضل الرحمٰن، نواز شریف اور عمران خان تک مختلف سیاسی رہنما قید و بند اور مشکل حالات کا سامنا کرتے رہے ہیں۔
اگر عمران خان آج جیل میں ہیں تو یہ پاکستان کی سیاسی تاریخ کی پہلی مثال نہیں۔ ہر سیاستدان انسان ہے اور انسان سے غلطی ہو سکتی ہے۔ وزیراعظم ہو یا کسی دوسرے اہم منصب پر فائز شخص، سب کا احتساب قانون کے مطابق ہونا چاہیے۔ نہ کوئی قانون سے بالاتر ہو اور نہ کسی کے ساتھ ناانصافی ہو۔
لیکن ایک لمحے کے لیے سوچیے:
اگر آپ اپنے گھر کے سربراہ بھی ہوں، اس کی حفاظت بھی کرتے ہوں، اور پھر کوئی آپ ہی کو چور، ڈاکو اور اپنے گھر کا دشمن قرار دے تو آپ کو کیسا محسوس ہوگا؟
اسی طرح پاک فوج کے جوان ملکی سرحدوں کی حفاظت اور دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں ذمہ داریاں انجام دیتے ہیں اور اس دوران جانوں کی قربانیاں بھی دیتے ہیں۔ ان قربانیوں اور خدمات کا اعتراف اپنی جگہ اہم ہے۔
سیاسی اختلاف ہر شہری کا حق ہے۔ سیاستدانوں، حکومت اور ریاستی اداروں کی پالیسیوں اور اقدامات پر سوال اور تنقید بھی جمہوری حق ہے، لیکن یہ تنقید دلیل، ثبوت اور ذمہ داری کے ساتھ ہونی چاہیے۔ کسی فرد کے عمل کو پورے ادارے یا اس کے تمام اہلکاروں سے منسوب کرنا مناسب نہیں۔
ہمیں شخصیات کی اندھی حمایت کے بجائے حق، انصاف، قانون اور پاکستان کو مقدم رکھنا چاہیے۔
سیاستدان بدلتے رہیں گے، حکومتیں آتی جاتی رہیں گی، لیکن پاکستان سب سے پہلے ہے۔
اللہ تعالیٰ پاکستان کو امن، استحکام اور ترقی عطا فرمائے، ملک کے تمام محافظوں کی حفاظت فرمائے اور ہمارے سیاسی رہنماؤں کو ملک و قوم کے بہترین مفاد میں فیصلے کرنے کی توفیق دے۔
اعجاز خان پائمال
نوجوان رہنما، تحریکِ انقلاب