15/09/2026
جب سیاست کے لیے پاراچنار جانا ہو،
کھیل کے لیے پاراچنار جانا ہو،
یا کسی سرکاری جرگے اور اجلاس کے لیے وہاں جانا ہو،
تو ہمارے لہجے نرم ہوتے ہیں اور کوئی فتویٰ یا اعتراض سامنے نہیں آتا۔
لیکن جب امن، بھائی چارے، وحدت اور سماجی ہم آہنگی کے لیے دو قدم آگے بڑھنے کی کوشش کی جائے،
تو اچانک لہجے سخت کیوں ہو جاتے ہیں؟
فتوے اور اعتراضات کیوں شروع ہو جاتے ہیں؟
کیا امن کی کوشش سیاست سے کم اہم ہے؟
کیا لوگوں کو جوڑنا کھیل یا کسی سرکاری اجلاس سے کم ضروری ہے؟
سوال یہ ہے: امن کی کوشش قصور کیسے بن گئی؟
حقیقت تو یہ ہے کہ امن ہی وہ بنیاد ہے جس پر سیاست، کھیل، تعلیم، تجارت اور پورا معاشرہ سکون اور احترام کے ساتھ آگے بڑھ سکتا ہے۔
اگر ہم سیاست کے لیے ایک دوسرے کے قریب آ سکتے ہیں،
کھیل کے لیے ایک ساتھ بیٹھ سکتے ہیں،
اور سرکاری جرگے کے لیے ایک دوسرے کے علاقے میں جا سکتے ہیں،
تو پھر امن اور وحدت کے لیے ایک دوسرے کی طرف بڑھنے میں اتنی ہچکچاہٹ کیوں؟
اختلافِ رائے اپنی جگہ،
مگر ایک دوسرے کو سمجھنا، احترام دینا اور نفرت کی دیواریں گرانا ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔
امن کسی ایک مسلک، جماعت یا علاقے کا نہیں؛
امن سب کا حق ہے۔