01/06/2017
کاسمیٹک احتجاجوں سے کچھ نہیں ہوگا۔
۔۔۔۔۔
یہ کوئی چھ سات سال قبل کی بات ہے۔ دبئی کے علاقہ القصیص میں میری کمپیوٹر شاپ تھی۔ ایک دن اچانک دبئی اکنامک ڈپارٹمنٹ کا انسپیکٹر دوکان پر آیا اور مجھ سے انوائس بک میں سے ایک انوائس مانگی۔ انوئس لے کر اس نے اس پر ایک نظر ڈالی اور (غالباََ) تین ہزار درہم جرمانے کا واؤچر میرے ہاتھ میں تھما دیا۔ میں نے وجہ پوچھی تو اس نے انوائس پر نیچے لکھی ایک لائن کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ یہ جرمانہ یہ لکھنے کی وجہ سے ہے۔ انوائس کے نیچے نہایت باریک الفاظ میں یہ لکھا تھا:
Goods once sold, will not be taken back or exchanged
انسپیکٹر نے کہا کہ یہ خریدار کا حق ہے کہ اگر وہ خریدی گئی چیز واپس کرنا چاہے تو واپس کرے، یہ لائن لکھ کر دراصل تم نے خریدار کی حق تلفی کی ہے، لہٰذا یہ جرمانہ اسی چیز کا ہے۔
دبئی اکنامک ڈیپارٹمنٹ نے کنزیومرز رائٹس کے حوالہ سے خاصے اقدامات کیے ہیں۔ جگہ جگہ انہیں ہوشیار کرنے کے لیے اسٹکرز لگے ہوئے ہیں۔ یہاں نہ تاجروں کی انجمنیں ہیں اور نہ وہ صارفین کی جیبوں کو اس طرح لوٹ سکتے ہیں جس طرح ہمارے یہاں چلن ہے۔
ایک صاحب جو کہ کسی کوکنگ آئل فیکٹری میں کام کرتے تھے، بتا رہے تھے کہ ایک بار کسی عمانی شہری نے ان کی کمپنی کا آئل خریدا۔ اس نے ابھی بوتل کو کھولا نہیں تھا کہ اس کی نظر بوتل کے اندر تیرتی مکھی پر پڑی۔ آدمی چالاک تھا۔ اس نے فوراََ کمپنی سے رابطہ کیا اور بتایا کہ آپ کے آئل میں مکھی مری پڑی ہے، میں تو جا رہا ہوں شکایت لگانے۔ کمپنی کی دوڑیں لگ گئیں۔ مگر وہ شخص نہ مانا اور زبان بند رکھنے کے ایک لاکھ درھم طلب کرنے لگا۔ کمپنی نے اس کو دس ہزار تک آفر کیے مگر وہ نہ مانا۔ پھر کمپنی نے ایک اور چال چلی۔ اس شخص سے کہا کہ چلو ٹھیک ہے، ہم آتے ہیں اور کچھ کرتے ہیں۔ پھر اپنے دو تین پھرتیلے اور سبک رفتار افراد اس کے پاس بھیجے۔ انہوں نے اس شخص سے کہا کہ کہاں ہے وہ بوتل دکھاؤ۔ اس شخص نے جیسے ہی بوتل ان کے حوالے کی انہوں نے واپسی کی دوڑ لگائی اور وہ شخص دیکھتا رہ گیا۔
ہمارے یہاں کا معاملہ اس کے بلکل برعکس ہے۔ کھلے عام ملاوٹ شدہ اشیاء مارکیٹ میں بک رہی ہیں۔ پیٹرول پمپ سرعام ناپ تول میں کمی کا جرم کر رہے ہیں، منڈیوں اور بازاروں میں قیمتیں صرف ہاتھی کے دانتوں کی طرح دکھلاوے کی چیز ہیں۔
بہت بری مثال ہے مگر اس کے بغیر چارا بھی نہیں۔ آدمی جب غصے میں بھنائے ہوئے کسی کتے کو پتھر مارتا ہے تو کتا بجائے اس پر حملہ آور ہونے کے، پتھر کے پیچھے دوڑتا ہے اور اسی کو دانتوں میں دبا کر اپنا غصہ نکالتا ہے۔ یہ جو غریب فروٹ والوں کے بائیکاٹ کی مہم چلائی جا رہی ہے، دراصل پتھر کے پیچھے دوڑنے کے سوا کچھ نہیں۔ پتھر مارنے والے دور کھڑے مسکرا رہے ہیں۔ اور کچھ دیر ٹہر کر ایک اور پتھر کھینچ ماریں گے۔ مگر عوام ہے کہ اصل مجرموں کی پشتیبان بنی ہوئی ہے اور غریب ٹھیلابانوں کے پیچھے پڑی ہے۔
کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ عوام کی بہت بڑی اکثریت باجود علم اور یقین ہونے کے اپنے کرپٹ سیاسی لیڈروں کو سپورٹ کرتی ہے اور آج بھی اگر الیکشن ہو جائیں تو پنجاب، پانامہ سرکار والوں کا ہوگا۔ دیہی سندھ میں ایک بار پھر ’’زندہ ہے بھٹو زندہ ہے‘‘ اور شہری علاقوں میں ’’حق پرست، حق پرست‘‘ ’’ کے نعرے گونجیں گے؟ کیا یہ بھی جھوٹ ہے کہ سندھ کی اکثر شوگر ملز پیپلزپارٹی سے تعلق رکھنے والے وڈیروں اور جاگیرداروں کی ہیں اور جب گنے کی کٹائی کا سیزن آتا ہے تو اسمبلیوں میں بیٹھے یہ ہی جاگیردار اپنی ملز، مقررہ تاریخوں پر چالو کرنے کے بجائے بند رکھتے ہیں اور تب تک بند رکھتے ہیں جب تک گنا سوکھنا شروع نہ ہوجائے اور غریب زمیندار اور کسان ان کے پاؤں نہ پکڑ لیں۔ یہ سب اس لیے کیا جاتا ہے کہ کسان، کم سے کم قیمت پر اپنی فصل ان کے ہاتھ بیچنے پر مجبور ہو جائیں۔
انگریزی میں کہتے ہیں to beat about the bush۔ یعنی ہدف کو چھوڑ کر ادھر ادھر چوٹ مارنا۔ سب جانتے ہیں کہ خرابی کی جڑ کہاں ہے۔ ملک کو لوٹنے اور اس حالت تک پنہچانے والوں میں سے اکثر ہمارے ہی تعاون اور ووٹوں سے اسمبلیوں میں بیٹھی ہے اور ہم ہیں کہ کنوئیں میں سے ڈول پہ ڈول نکالے جا رہے ہیں۔
اگر ایکا کرنا ہے تو اس بات کا کریں کہ آئندہ ہم میں سے کوئی بھی شخص کسی کرپٹ اور بدکردار سیاستدان کو ووٹ نہیں دے گا۔ اگر یہ نہیں کر سکتے تو پھر کاسمیٹک احتجاجوں سے کچھ نہیں ہوگا۔