14/09/2026
قلعہ ڈیراور کے شاہی مقبرے — The Royal Tombs of Derawar Fort
روہی کے بے کنار صحرا میں قلعہ ڈیراور کے قریب واقع شاہی قبرستان آج بھی بہاولپور کے سابق عباسی حکمران خاندان کی عظمتِ رفتہ کی خاموش داستان سناتا ہے۔ یہاں سابق ریاستِ بہاولپور کے حکمرانوں اور شاہی خاندان کے افراد کی قبریں اور مقبرے موجود ہیں۔
کبھی جن لوگوں کے حکم کی گونج ریاست کے ایوانوں تک سنائی دیتی تھی، جن کے سامنے تخت و تاج، لشکر اور دربار ہوا کرتے تھے، آج وہی صاحبانِ اقتدار اسی مٹی کی آغوش میں خاموش آسودۂ خاک ہیں۔
یہاں وقت نے بادشاہت کی چمک کو خاموشی میں بدل دیا ہے۔ کہیں مٹی میں دبی قبریں، کہیں خاموش مقبرے، کہیں وقت کی مار سہتی ہوئی تعمیرات اور چاروں طرف پھیلا ہوا چولستان کا سنسان منظر انسان کو سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ دنیا کی شان و شوکت آخر کتنی عارضی ہے۔
اس شاہی مقبرہ گاہ کی بنیاد عباسی حکمران نواب محمد بہاول خان عباسی دوم کے عہد میں رکھی گئی تھی، جبکہ موجودہ مرکزی عمارت کی تعمیر کا آغاز 5 جنوری 1934ء کو ہوا اور یہ 22 ستمبر 1952ء کو مکمل ہوئی۔ موجودہ عمارت کی تعمیر نواب سر صادق محمد خان عباسی پنجم کے عہد میں ہوئی۔
مرکزی مقبرہ گاہ میں سابق ریاستِ بہاولپور کے آٹھ حکمرانوں کی قبریں موجود ہیں، جبکہ شاہی خاندان کی خواتین اور دیگر افراد کے لیے الگ مقبرے بھی تعمیر کیے گئے۔ ان مقبروں میں نیلی و سفید کاشی کاری، مقامی طرزِ تعمیر، اینٹوں اور سنگِ مرمر کا خوبصورت امتزاج دکھائی دیتا ہے۔
یہ جگہ صرف ایک قبرستان نہیں، بلکہ ایک پوری ریاست کے عروج و زوال کی خاموش کتاب ہے۔
قلعہ آج بھی اپنی بلند فصیلوں کے ساتھ کھڑا ہے، مگر اس کے سائے میں موجود یہ قبریں ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ تخت باقی نہیں رہتے، تاج باقی نہیں رہتے، اقتدار باقی نہیں رہتا…
آخر میں انسان کے ساتھ صرف اس کا نام، اس کے اعمال اور مٹی کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا رہ جاتا ہے۔
روہی کی تپتی ریت کے درمیان یہ شاہی مقبرے آج بھی خاموشی سے یہی کہہ رہے ہیں:
"جنہیں دنیا نے بادشاہ کہا، وقت نے آخرکار انہیں بھی مٹی کے حوالے کر دیا۔"
⚠️ اہم نوٹ: یہ شاہی مقبرہ گاہ بہاولپور کی سیاسی، ثقافتی اور تعمیراتی تاریخ کا اہم حصہ ہے۔ اس تاریخی ورثے کے تحفظ، مناسب دیکھ بھال اور دستاویزی تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ آنے والی نسلیں اس خاموش تاریخ کو اپنی آنکھوں سے دیکھ سکیں۔