28/05/2025
چند روز قبل پاکستان پیپلز پارٹی کے سابق وفاقی وزیر، ملک عظمت نے پاکستان تحریک انصاف کے پرچم کو اُس وقت نذرِ آتش کیا جب پیپلز پارٹی صوبائی حکومت کی مبینہ کرپشن کے خلاف پُرامن احتجاج کر رہی تھی۔ بدقسمتی سے اس احتجاج پر صوبائی حکومت کی جانب سے طاقت کا غیر ضروری استعمال کیا گیا، اور مظاہرین پر آنسو گیس کی شیلنگ سے متعدد رہنما شدید متاثر ہوئے۔
اگرچہ پُرامن مظاہرین کے خلاف ریاستی طاقت کا استعمال قابلِ مذمت ہے، تاہم کسی بھی سیاسی جماعت کے پرچم کو جلانا نہ صرف افسوسناک بلکہ جمہوری روایات کے خلاف اور سیاسی اخلاقیات کے منافی عمل ہے۔ جمہوریت میں اختلافِ رائے ایک صحت مند روایت ہے، مگر اس کا اظہار ہمیشہ تہذیب، برداشت اور آئینی دائرے میں رہ کر ہونا چاہیے۔
اس موقع پر اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ سیاسی عدم برداشت کے اس کلچر کی بنیاد پاکستان تحریک انصاف نے خود 9 مئی کے المناک واقعات سے رکھی، جس میں ریاستی املاک کو نقصان پہنچا کر قومی سالمیت پر کاری ضرب لگانے کی کوشش کی گئی۔ نظریاتی اختلافات کو دشمنی اور نفرت میں بدلنے کا آغاز بھی اسی جماعت کی قیادت نے کیا، جس نے سیاست میں شائستگی کے بجائے انتقام کی فضا کو پروان چڑھایا۔
ہم 26 نومبر کو اُس وقت کی حکومت کی جانب سے ریڈ زون میں داخل ہونے والے پی ٹی آئی کارکنان پر فائرنگ کی مذمت کرتے ہیں، مگر اسی اصول کے تحت یہ بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ پی ٹی آئی کی حکومت میں تحریک لبیک پاکستان کے پُرامن مظاہرین پر براہ راست گولیاں چلائی گئیں، جو ناقابلِ جواز اور جمہوری اقدار کے منافی تھا۔
آج پاکستان تحریک انصاف جن کٹھن حالات سے دوچار ہے
وہ دراصل مکافاتِ عمل کا مظہر ہیں۔ عمران خان کے دورِ حکومت میں سیاسی مخالفین پر بے بنیاد الزامات لگائے گئے، انہیں جیلوں میں ڈالا گیا اور سیاسی انتقام کی فضا قائم کی گئی۔ آج خود عمران خان ایک سیاسی قیدی کے طور پر پابندِ سلاسل ہیں۔
اب یہ وقت پی ٹی آئی کی قیادت کے لئے خود احتسابی کا ہے کہ وہ ان تلخ تجربات سے سیکھے، اور مستقبل میں سیاست کو انتقام کے بجائے خدمتِ خلق اور عداوت کے بجائے مکالمے کا ذریعہ بنائے۔ سیاست کو اگر ملک و قوم کی خدمت کے لیے استعمال نہ کیا گیا تو جمہوریت صرف نعروں تک محدود رہ جائے گی۔
آخر میں ہم اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہیں کہ وہ عمران خان سمیت تمام سیاسی اسیران کو جلد از جلد رہائی عطا فرمائے، اور پاکستان کو ایک پُرامن، باشعور اور جمہوری ریاست بنانے کے لیے تمام سیاسی قوتوں کو دانش، تحمل اور یکجہتی عطا فرمائے۔ آمین۔