Humara Pakistan

Humara Pakistan A patriot's endeavour to spread enlightenment, reason, rationality among the fellow citizens. We are also creating awareness of road safety with responsibility.

Moreover, this effort is dedicated to spread joys, instil tolerance and promote peace.

08/31/2026

پاکستان میں ٹیلنٹ کی کوئی قدر نہیں ہے۔۔؟

08/31/2026

36 مسافروں کو بحفاظت بچا لیا گیا

چکوال: موٹروے ایم ٹو، چکری کے قریب مردان سے کراچی جانے والی بس شارٹ سرکٹ کے باعث اچانک آگ بھڑک اٹھی۔

موٹروے پولیس کے افسران آئی پی سکندر حیات اور آئی پی مسرت نگاہ نے اطلاع ملتے ہی فوری کارروائی کرتے ہوئے تمام 36 مسافروں اور ان کے سامان کو بحفاظت بس سے باہر نکالا اور دستیاب فائر ایکسٹنگوشرز کی مدد سے آگ پر قابو پا لیا۔

مسافروں کو بعد ازاں دوسری بسوں کے ذریعے ان کی منزل کی جانب روانہ کر دیا گیا۔ واقعے میں کسی مسافر کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔

موٹروے پولیس کی بروقت کارروائی، فرض شناسی اور انسانی جانوں کے تحفظ کا قابلِ تحسین مظاہرہ۔

08/30/2026

👁️ آپ دیکھیں، موٹروے پولیس کارروائی کرے!

سفر کے دوران اگر ڈرائیور خطرناک ڈرائیونگ کرے، اوور لوڈنگ کرے، زائد کرایہ وصول کرے یا مسافر سے بدسلوکی کرے تو خاموش نہ رہیں!

صرف کیو آر کوڈ اسکین کریں اور اپنی شکایت براہِ راست موٹروے پولیس تک پہنچائیں۔

💡 نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس نے مسافروں کو محفوظ سفر فراہم کرنے کے لیے ’’ہماری آنکھیں بنیں‘‘ آگاہی مہم شروع کر دی ہے۔

مسافر گاڑیوں اور اڈوں پر شکایتی کیو آر کوڈ اسٹیکرز آویزاں کر دیے گئے ہیں۔

شکایت اور رہنمائی کے لیے ہیلپ لائن 130 بھی دستیاب ہے۔

آپ کی ایک بروقت اطلاع، کسی کی زندگی بچا سکتی ہے۔

ہماری آنکھیں بنیں — محفوظ سفر میں اپنا کردار ادا کریں!


08/29/2026

بریکنگ نیوز | قصور کے علاقے گنڈا سنگھ والا میں پولیس اور شہری آمنے سامنے

قصور کے علاقے سہجرہ میں پولیس اور مقامی شہریوں کے درمیان مبینہ تصادم کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔

پولیس کے مطابق، ٹیم اشتہاری ملزم شہزاد عرف شادی کو گرفتار کرکے لے جا رہی تھی کہ مقامی افراد نے سرکاری گاڑی روک کر پولیس اہلکاروں سے ہاتھا پائی کی اور ملزم کو پولیس تحویل سے چھڑا لیا۔

پولیس اہلکاروں کی وردیاں پھٹنے اور زخمی ہونے کا الزام بھی سامنے آیا ہے۔ واقعے کے بعد 20 نامزد اور 15 نامعلوم افراد سمیت 35 افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا، جبکہ گرفتاریوں کے لیے کارروائی جاری ہے۔

تاہم وائرل ویڈیو نے کئی سوالات بھی اٹھا دیے ہیں۔ واقعے کی اصل صورتحال، پولیس کارروائی اور شہریوں کے مؤقف کا تعین غیرجانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کے بعد ہی ممکن ہوگا۔

آخر ایسی صورتحال کیوں پیدا ہوئی کہ پولیس اور مقامی آبادی براہِ راست آمنے سامنے آگئی؟

موٹروے پولیس نے ہر بس میں لگائے کیو آر کوڈ اسٹیکرز اب مسافر بلا جھجھک پبلک سروس گاڑیوں کے ڈرائیوروں کی خطرناک ڈرائیونگ، ...
08/28/2026

موٹروے پولیس نے ہر بس میں لگائے کیو آر کوڈ اسٹیکرز

اب مسافر بلا جھجھک پبلک سروس گاڑیوں کے ڈرائیوروں کی خطرناک ڈرائیونگ، ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی یا نامناسب رویے کی شکایت درج کروا سکیں گے۔

بس میں موجود کیو آر کوڈ اسکین کریں اور اپنی شکایت براہِ راست موٹروے پولیس تک پہنچائیں۔

شکایات کے لیے ہیلپ لائن 130 اور واٹس ایپ نمبر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

یہ اقدام مسافروں کو بااختیار بنانے اور پبلک سروس گاڑیوں کے ڈرائیوروں میں ذمہ دارانہ اور محفوظ ڈرائیونگ کے فروغ کے لیے کیا گیا ہے۔

موٹروے پولیس — محفوظ سفر، محفوظ پاکستان


08/28/2026

سٹوڈنٹس اور احتجاج ۔۔۔سب ملکوں میں ایک جیسا ہوتا ہے

روڈ سیفٹی ہم سب کی زمہ داریموٹروے پولیس نے نیسلے فیکٹری، شیخوپورہ (مریدکے) میں ڈرائیورز اور عملے کے لیے روڈ سیفٹی آگاہی ...
08/27/2026

روڈ سیفٹی ہم سب کی زمہ داری

موٹروے پولیس نے نیسلے فیکٹری، شیخوپورہ (مریدکے) میں ڈرائیورز اور عملے کے لیے روڈ سیفٹی آگاہی سیشن منعقد کیا۔

شرکاء کو ٹریفک قوانین، روڈ سائنز، محفوظ ڈرائیونگ اور حادثات سے بچاؤ کے حوالے سے آگاہی فراہم کی گئی۔


شکایات تک آسان رسائی..ہماری آنکھ بن جائیں📱 NHMP QR Code —خدمات اور شکایات تک آسان رسائیانسپکٹر جنرل، نیشنل ہائی ویز اینڈ...
08/27/2026

شکایات تک آسان رسائی..ہماری آنکھ بن جائیں

📱 NHMP QR Code —
خدمات اور شکایات تک آسان رسائی

انسپکٹر جنرل، نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس کی ہدایات پر عوام کی سہولت اور ٹریفک قوانین کے مؤثر نفاذ کے لیے NHMP QR Code کے استعمال کو مزید عام کیا جا رہا ہے۔

اب شہری QR Code اسکین کرکے نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس کی مختلف خدمات اور پلیٹ فارمز تک آسان رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔

🚌 خصوصاً پبلک سروس وہیکلز (PSVs) کے حوالے سے شکایات درج کروائیں، مثلاً:
خطرناک اور لاپرواہ ڈرائیونگ
مسافروں کی اوورلوڈنگ
زائد کرایہ وصول کرنا
دیگر ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیاں

عوام کی سہولت کے لیے منظور شدہ QR Code اسٹیکرز بسوں کے داخلی دروازوں اور گاڑی کی ونڈ اسکرین کے اندرونی اوپری حصے پر آویزاں کیے جا رہے ہیں۔

آپ کی شکایت، محفوظ سفر کی ضمانت!
📲 QR Code اسکین کریں، خلاف ورزی رپورٹ کریں، محفوظ سفر میں اپنا کردار ادا کریں۔

08/26/2026

پمز سانحہ: 14 نومولود بچوں کی ہلاکت اور ہمارے نظامِ حفاظت پر ایک بڑا سوال

اسلام آباد کے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں آتشزدگی کے المناک واقعے نے پورے ملک کو سوگوار کر دیا ہے۔ چلڈرن وارڈ میں لگنے والی آگ کے نتیجے میں 14 نومولود بچوں کی ہلاکت صرف ایک حادثہ نہیں بلکہ ہمارے ہسپتالوں میں موجود فائر سیفٹی، ایمرجنسی رسپانس اور ادارہ جاتی ذمہ داریوں پر ایک انتہائی سنگین سوال ہے۔

رپورٹس کے مطابق واقعے کے وقت وارڈ میں 15 بچے موجود تھے، جن میں سے صرف ایک کو بچایا جا سکا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق آگ ایئرکنڈیشننگ یونٹ سے شروع ہوئی جبکہ آکسیجن سپلائی اور کنکشنز کے باعث آگ تیزی سے پھیلنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا۔ آگ کی شدت اس قدر زیادہ تھی کہ متاثرہ بچوں کی شناخت کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ کی ضرورت پیش آ رہی ہے۔

اس سانحے کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے وفاقی سیکرٹری صحت کو معطل کر دیا اور اعلیٰ سطحی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی۔ وزیراعظم نے واضح ہدایات دی ہیں کہ واقعے کے محرکات کا تفصیلی جائزہ لیا جائے، ذمہ داروں کا تعین کیا جائے اور غفلت ثابت ہونے کی صورت میں سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔

پمز انتظامیہ نے بعض اہم نکات کی وضاحت بھی کی ہے۔ ہسپتال کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کے مطابق وارڈ کا دروازہ بند یا مقفل نہیں تھا بلکہ وہاں عملہ موجود تھا اور انتظام بچوں کی چوری جیسے سابقہ واقعات سے تحفظ کے لیے کیا گیا تھا۔ انتظامیہ کے مطابق آگ بجھانے والے آلات بھی موجود تھے اور آگ پر قابو پانے کی کوشش میں متعدد فائر ایکسٹنگوئشرز استعمال کیے گئے۔

لیکن اصل سوال صرف یہ نہیں کہ آگ بجھانے والے سلینڈر موجود تھے یا دروازہ کھلا تھا۔ اصل سوال یہ ہے کہ نومولود بچوں جیسے انتہائی حساس مریضوں کے وارڈ میں آگ لگنے کی صورت میں فوری انخلا کا مؤثر نظام کیا تھا؟ کیا فائر سیفٹی کا باقاعدہ آڈٹ ہوا تھا؟ کیا عملہ ایسی ایمرجنسی سے نمٹنے کے لیے تربیت یافتہ تھا؟ کیا آکسیجن سپلائی کے نظام کے لیے خصوصی حفاظتی انتظامات موجود تھے؟ اور سب سے بڑھ کر، کیا ایک بڑے سرکاری ہسپتال کا ایمرجنسی رسپانس سسٹم اس درجے کے سانحے سے بچنے کے لیے واقعی تیار تھا؟

14 نومولود بچوں کی ہلاکت کسی بھی معاشرے کے لیے ناقابلِ تصور سانحہ ہے۔ یہ بچے بول بھی نہیں سکتے تھے، مدد کے لیے پکار بھی نہیں سکتے تھے اور اپنی جان بچانے کے لیے ایک قدم بھی نہیں اٹھا سکتے تھے۔ ان کی حفاظت مکمل طور پر نظام، انتظامیہ اور وہاں موجود ذمہ دار افراد کے ہاتھ میں تھی۔

اب ضرورت صرف انکوائری رپورٹ کی نہیں بلکہ پورے ملک کے تمام سرکاری اور نجی ہسپتالوں کے فائر سیفٹی اور ایمرجنسی رسپانس سسٹم کے فوری اور آزادانہ آڈٹ کی ہے۔ خصوصاً نرسری، آئی سی یو، آپریشن تھیٹر اور آکسیجن سے منسلک وارڈز میں عالمی معیار کے حفاظتی انتظامات، باقاعدہ فائر ڈرلز اور تربیت یافتہ عملہ یقینی بنایا جانا چاہیے۔

یہ سانحہ ہمیں ایک تلخ سبق دے گیا ہے: حادثات کے بعد ذمہ دار تلاش کرنا ضروری ہے، مگر اصل کامیابی حادثات کو ہونے سے پہلے روکنے میں ہے۔

14 ننھی جانیں واپس نہیں آ سکتیں، لیکن اگر اس سانحے کے بعد پاکستان کے ہر ہسپتال میں حقیقی اصلاحات نافذ ہو جائیں تو شاید مستقبل میں کسی اور والدین کو اپنے نومولود بچے کی شناخت ڈی این اے کے ذریعے نہ کرنا پڑے۔

موٹروے ایم-2 ساؤتھ، بابو صابو کے قریب المناک ٹریفک حادثہلاہور: موٹروے ایم-2 ساؤتھ پر بابو صابو کے قریب ایک ہائی ایس وین ...
08/25/2026

موٹروے ایم-2 ساؤتھ، بابو صابو کے قریب المناک ٹریفک حادثہ

لاہور: موٹروے ایم-2 ساؤتھ پر بابو صابو کے قریب ایک ہائی ایس وین نامعلوم گاڑی سے ٹکرا کر حادثے کا شکار ہوگئی۔

حادثے کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق، جبکہ 3 افراد شدید زخمی ہوئے۔ مزید 2 افراد کو معمولی نوعیت کی چوٹیں آئیں۔

اطلاع ملتے ہی نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس کی پٹرولنگ ٹیم فوری طور پر جائے حادثہ پر پہنچ گئی اور زخمیوں کو موقع پر ابتدائی طبی امداد فراہم کی۔ بعد ازاں زخمیوں کو مزید علاج کے لیے قریبی ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔

موٹروے پولیس کی جانب سے حادثے کی مزید وجوہات اور نامعلوم گاڑی سے متعلق معلومات اکٹھی کی جا رہی ہیں۔

Address

15 Lennon Avenue Yonkers
New York, NY
10701

Telephone

+12129616655

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Humara Pakistan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Humara Pakistan:

Shortcuts

Share

Category