08/01/2026
"میرا نام نہی ' اپنا کام بدلو "(کیوں کہ یہ طب اور میڈیسن ہے کوئی کریانہ سٹور کوئی کھیلو ' جیتو پاکستان نہی)
(پاکستان میں ادویات کے کیمکل نام کی جگہ برینڈ اور کمپنی نام تجویز کرنے کے رجحان کے نقصانات کے بارے میں ایک تحریر )
آپ کو کیسا لگے گا اگر آپ کے گھر میں اردو کی جگہ سپینش زبان کا اخبار آتا ہو ؟
سڑکوں اور شاہراہوں پر سائن بورڈ اردو کی جگہ فرنچ زبان میں لکھے ہوں ؟
جس گلی محلے میں آپ رہتے ہیں اگر ان کے نام بدل دیے جائیں تو کیا آپ وہاں آسانی سے پہنچ پائیںگے ؟
پٹرول پمپ پر آپ جائیں اور وہاں میٹر "لیٹر " کی جگہ "گیلن " میں لکھا ہو تو کیا آپ کو پٹرول بھروانے میں دقت نہی پیش آئیگی ؟
اگر آپ کو آپ کے اصل نام کی جگہ "چھوٹا ' ' لمبو ' ببو ' ' بیبی ' وکی یا ' ہنی " کہ کر پکارآ جائے تو کیا وہ بندہ آپ کو پہنچان پائیگا جو آپ کو اتنا قریب سے نہی جانتا ؟
ان سب سوالوں کا جواب یہی ہے کہ ایسا کرنے سے زندگی دشوار ہوجائیگی اور راستہ بھولنے اور غلطی کرنے کا امکان بہت بڑھ جائیگا - لیکن پھر ایسا کیوں ہوتا ہے کہ پاکستان جہاں کی شرح خواندگی 65 فیصد کے قریب ہے اور جہاں میڈیکل لیٹریسی نہ ہونے کے برابر ہے وہاں ایک ہی دوائی کے پچاس پچاس نام ہیں ؟
میرا آج کا کالم اس مسلے کے بارے میں ہے جس کو ہماری میڈیکل کومیونٹی نے کبھی مسلہ سمجھا ہی نہیں ہے - یعنی ادویات کے جینریک (generic ) ناموں کی جگہ کمپنیوں کے برینڈ نام -
' کیا آپ کے یا اپ کے کسی عزیز کے ساتھ ایسا ہوا ہے کہ وہ کسی ڈاکٹر کے پاس گیا ہو اور اس ڈاکٹر نے بلڈ پریشر ' شوگر یا ہارٹ کی کوئی دوائی شروع کروائی ہو ' اور کچھ عرصے بعد آپ کو معلوم ہو کہ آپ تو وہ Risek پہلے سے لے رہے تھے جو ڈاکٹر صاحب نے Omega کے نام سی شروع کروائی ہے ؟
کبھی ایسا ہوا کہ شوگر کی جو دوائی آپ کھا رہے تھے اس کی جگہ کسی ڈاکٹر نے ایک اور دوائی شروع کروادی اور آپ کو بعد میں پتا چلا کہ دونوں کا کیمیکل نام یا ادویات کی فیملی ایک ہی تھی بس کمپنی کا فرق تھا ؟ جو میڈیسن آپ loplat کے نام سے کھا رہے تھے کسی ڈاکٹر نے سب بدلنے کے نام پر plavix شروع کروادی اور آپ دونوں میڈیسن کھاتے رہے اور کچھ عرصے بعد معلوم ہوا کہ وہ ایک ہی تھی ؟
حال ہی میں میرے ایک عزیز کو انجائنا کا پرابلم ہوا - ان کو کارڈیولوجی کے پا س بھیجا تو انہوں نے اس کو tritace (Ramipiril ) کی دوائی شروع کروادی یہ پوچھے بغیر کہ وہ پہلے سے ہی ezi day (losartan ) کھا رہا تھا - اس کو rosulin شروع کروادی جب کہ وہ پہلے سے Rovista لے رہا تھا - نتیجہ یہ ہوا کہ وہ Rosulin اور Rovista دونوں کھاتا رہا اور اوور ڈوز کی وجہ سے اس کے پٹھوں میں درد (myalgia ) شروع ہوگیا جس نے مجھے یہ کالم لکھنے پر مجبور کیا -
یہ موضوع اتنا اہم ہے کہ اس پر پوری کیمپین چلانے کی ضرورت ہے - پاکستان میں میڈیکل لیٹرسی کی شرح بس 17 فیصد ہے - یعنی باقی 83 فیصد مریضوں کو اپنی ادویات کے بارے میں کچھ نہیں پتا ہوتا - ان کے کیمیکل نام تو بہت دور کی بات ان کو اس کا مقصد اور سائیڈ ایفکٹ غرض کچھ بھی نہیں پتا ہوتا - اس پر سونے پر سہاگہ ڈاکٹر مریضوں سے بات کرتے ہویے میڈیکل ہسٹری لینے کی زحمت نہی کرتے - ایک ریسرچ کے مطابق کراچی کے tertiary ہسپتالوں اور پرائیوٹ سیٹ اپ میں اوسطا ایک ڈاکٹر اپنے مریض سے آٹھ سے دس منٹ سے زیادہ بات نہی کرتا - مجھے یقین ہے یہ ٹائم سرکاری او پی ڈی میں کچھ منٹوں کا ہوگا - مریض کی میڈکل ہسٹری اور میڈیکل reconcilliation کیا ہوتی ہے اس کا پاکستان کے میڈکل سیٹ اپ میں یا تو تصور ہی نہی ہے یا اپلائی نہی کیا جاتا -
دوا ساز کمپنیوں کے نمائندے ہسپتالوں اور کلینکس میں منڈلاتے رہتے ہیں جن کے پاس کبھی عمرے کا ٹکٹ ہوتا ہے کبھی ملیشیا میں فیملی ٹرپ کا پیکج - ایک سروے کے مطابق پاکستان میں ایک میڈیکل ریپ روزانہ پندرہ ڈاکٹروں کا وزٹ کرتا ہے - ceftriaxone کو Ctrox کی شکل میں لگادو یا rocephin والا چمکیلا لباس پہنادو ' مریض کو نہی پتا ہوتا کہ یہ antibiotic ایک ہی کیمیکل کی تھی اور اس کو کس مقصد کیلئے دی گئی ' نو ایڈیا -- یہاں تک کے فارمیسی میں بھی ادویات کو کیمیکل نام سے زیادہ برینڈ نام سے جانا جاتا ہے اور کئی دفعہ ایک عام سے دوائی یہ کہ کر نہی ملتی کہ یہ دوائی دستیاب نہی ہے جبکہ وہ اس فارمیسی میں موجود ہوتی ہے لیکن برینڈ نام ہی اصل نام ہونے اور فارمیسی میں فارما سیسٹ نہ ہونے کی وجہ سے فارمیسی بھی کریانہ سٹور بنی نظر آتی ہے -
چلیں - اب امریکا چلتے ہیں - امریکا میں literecy ریٹ پاکستان سے بہت زیادہ ہے - یہاں ایوریج ایک ڈاکٹرپچیس سے تیس منٹ ایک مریض کے چیک پر پر لگاتا ہے اور اگر مریض نیا ہو تو یہ وقت چالیس سے پچاس منٹ تک بھی ہوتا ہے - اس کے باوجود یہاں ادویات کا جینرک (کیمیکل ) نام عمومی طور پر استعمال کیا جاتا ہے - یہاں rovista یا rosulin نہیں rosuvastatin لکھا جاتا ہے - (کچھ ادویات بہت ہی مشھور ہوتی ہیں جیسے کے flagyl یا augmentin میں ان کی بات نہی کر رہا )- لیکن عمومی طور پر جینریک اور کیمیکل نام استعمال ہوتا ہے -
جب ڈاکٹر کسی مریض کو کوئی نئی دوائی شروع کرواتا ہے تو اس کو اس کی وجہ (indication )' اس کا فائدہ ؛ اس کے سائیڈ ایفکٹ اور متبادل (alternative ) کا بھی بتاتا ہے اور یہ بھی بتاتا ہے کہ یہ کسی کی جگہ شروع کروا رہا ہے اور عکس کسی اور دوائی سے کیا انٹریکشن ہوسکتا ہے اور اس کو لیتے ہویے کونسی دوائی بند کرنی ہے - اس عمل کو "medication reconcilliation " کہا جاتا ہے - ایسا نہیں ہے کہ ان پڑھ مریض بس پاکستان میں ہی ہوتے ہیں - یہاں بھی ایسے دیہاتی مریض ہوتے ہیں جن کے پاس نہ کوئی ریکارڈ ہوتا ہے نہ ادویات کا کوئی اندازہ پھر بھی ڈاکٹر کم سے کم medication reconcilliation ضرور کرتا ہے کیوں کہ مریض کی جہالت اور ان پڑھ ہونا اور ریکارڈز کا نہ ہونا ڈاکٹر کو اس کو ذمے داری سے مبرا نہی کرت بلہ اس سے اس کی ذمے داری اور بھی بڑھ جاتی ہے -
امریکا کے ہسپتالوں اور کلینکس میں میڈیکل ریپس (میڈیکل Rep ) کا عمومی طور پر کوئی تصور نہی ہے - فارن ٹرپس اور عمرے کے ٹکٹ کو یہاں "conflic of interest " سمجھا جاتا ہے اور اس بارے میں "FDA " ور ہسپتالوں کی بہت سخت پالیسیاں ہوتی ہیں - فارمیسی میں کوالیفائیڈ فارما سیسٹ ہوتا ہے اور دوائی کو عمومی طور کیمیکل نام سے پہچانا جاتا ہے - دوائی کے بوتل کے اوپر موٹا موٹا کیمیکل نام لکھا ہوتا ہے - اس طرح مریض کو کونفیوزن نہیں ہوتی کہ ڈاکٹر نے کونسی دوائی بند کروائی ہے اور کونسی دوائی شروع کروائی ہے - وہ ڈبل ڈبل دوائی نہی کھاتا اور سب ایک زبان بولتے اور سمجھتے ہیں جس کو "کیمیکل نام " کہا جاتا ہے -
مجھے حیرت ہے کہ آج تک پاکستان میں اس موضوع سے متعلق کوئی کمپین کوئی تحریک کیوں نہی چلی - بھانت بھانت کی ادویات لکھی جاتی ہیں جن کا کیمیکل نام ایک ہی ہوتا ہے - مریض اس بات پر خوش ہوتا ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے دوائی بدل دی ہے اب آرام آئیگا ' لیکن وہ پہلے ہی اسی دوائی کو کسی اور نام سے یا اس دوائی کا چھوٹا یا بڑا بھائی کھا رہا ہوتا ہے - ادویات والی کمپنیوں کا بزنس چلتا رہتا ہے اور میڈیکل کا فیلڈ کمرشلائز ہو کر کوئی "کھیلو جیتو پاکستان " کا شو بن جاتا ہے جہاں انعام اور پرائز کے چکر میں مریض کا حرج ہوتا ہے -
اس کالم کو پڑھ کر اگر آپ کچھ تبدیل کرنا چاہتے ہیں تو ان تجاویز پر عمل کریں :
1 . جب آپ کسی ڈاکٹر کے پاس جائیں یا آپ کا کوئی عزیز جائے اور وہ کوئی نئی دوائی لکھیں تو ان سے پوچھیں کہ اس دوائی کا کیمیکل نام کیا ہے - یہ کس مقصد کیلئے دی جارہی ہے اور یہ کس کی جگہ دی جارہی ہے ؟ اس کے کیا فائدے اور کئی سائیڈ ایفکٹ ہیں ؟
2 . ڈاکٹر اگر نہ بھی پوچھے تو خود سے اپنی تمام ادویات جو آپ لیتے ہیں ان کی لسٹ بنا کر ایک پرچی پر اس کے سامنے رکھیں اور یہ ضرور پوچھیں اور چیک کریں کہ کیا آپ پہلے سے تو یہ دوائی یا اسی فیملی کی کوئی اور دوائی تو نہیں کھا رہے ؟ کئی اس کا آپ کی کسی اور دوائی سے "interaction " تو نہیں ہوگا ؟
3 . جب آپ فارمیسی میں جائیں تو دوائی کے نیچے موجود کیمیکل نام ضرور پڑھیں اور اس سے دوائی کیمکل نام میں طلب کرنے کی کوشش کریں -
4 . اور میری ان سب ڈاکٹروں سے بھی درخواست ہے کہ اپنے مریضوں کی medication reconcilliation ضرور کریں - مریض کو جاہل اور ان پڑھ سمجھ کر بس قلم نہ چلائیں بلکہ اس بات کو سمجھیں کہ ہر مریض کو اپنی دوائی کا ضرور اندازہ ہوتا ہے جو وہ روز کھاتا ہے اور اگر اس کو اندازہ نہی ہے تو یہ آپ کی میڈیکل ذمے داری میں شامل ہے کہ آپ آسان لفظوں میں اس کو اس کی دوائی سمجھائیں -
5. ڈاکٹروں کو یہ تبدیلی لانا ہوگی کہ وہ میڈیسن کا کیمیکل نام عمومی طور پر استعمال کریں تاکہ لکھنے والے ڈاکٹر سے لے کر دوائی دینے والے فارماسسٹ اور دوائی نکال کر دینے والی فیملی سے لے کر دوائی کھانے والے مریض تک سب ایک ہی زبان بولیں اور سمجھیں - ایک ہی پیمانہ ایک ہی میٹر فالو کریں اور یوں ان کا وہ نقصان نہ ہو جو کسی دوائی کی ڈبل ڈوز کھانے سے ہوسکتا ہے اور ہوتا رہا ہے -
6. پاکستان میں ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی یعنی DRAP کو ہسپتالوں میں میڈیکل ریپس کے رجحان کو ختم کرنا چاہیے اور اس پر "کانفلکٹ آف انٹرسٹ " کا قانون لاگو کروانا چاہیے اور ایسے قوانین متعارف کروانے چاہیے کہ سب ڈاکٹرز کیمکل نام میں میڈیسن پرسکرائب کریں -
مجھے معلوم ہے میری تحریر پڑھ کر کچھ ڈاکٹرز کو اچھا نہی لگا ہوگا - کچھ کو یہ لگا ہوگا کہ یہ پاکستان ہے - یہاں یہ سب ممکن نہیں ہے - تو میرا بھی یہی کہنا ہے کہ یہ پاکستان ہے - یہاں تو یہ اور بھی شدت سے لاگو ہونا چاہیے کہ جو مریض ایک دوائی کا نام نہیں پڑھ سکتا ' یاد نہیں رکھ سکتا اس کو بھانت بھانت کے ناموں سے دوائی دینے کی کیا سینس بنتی ہے ؟
اور اگر یہ رجحان ٹھیک ہے اور ایسے ہا چلتے رہنا چاہیے تو کل سے آپ کا وزن کلو گرام نہی پونڈز میں ؛ آپ کو پٹرول کا ریٹ لیٹر میں نہی گیلن میں ؛ پانی کی گہرائی "فیٹ" میں نہیں "میٹر" میں اور فاصلہ اور سفر کلومیٹر میں نہی "میل" میں لکھا اور بتایا جائیگا - اس کے بعد آپ نے بس اتنا کرنا ہے ہے کہ ایمانداری سے اپنی کونفیوزن اور غلطیاں بتانی ہیں جو یہ پیمانے تبدیل کرنے کی وجہ سے آپ کو دیکھنی پڑیں جب کہ ابھی آپ پڑھے لکھے بھی تھے -
شکریہ
قلم کی جسارت وقاص نواز