Dr. Waqas Nawaz

Dr. Waqas Nawaz شکوہ ظلمت شب سے تو کیی بہتر تھا
اپنے حصے کی کوئی شمع جلاے جاتے

Contributing to Naya Pakistan by writings, poems, speeches ,videos and fundraising

"میرا نام نہی ' اپنا کام بدلو  "(کیوں کہ یہ طب اور میڈیسن ہے کوئی کریانہ سٹور کوئی کھیلو ' جیتو پاکستان نہی)(پاکستان میں...
08/01/2026

"میرا نام نہی ' اپنا کام بدلو "(کیوں کہ یہ طب اور میڈیسن ہے کوئی کریانہ سٹور کوئی کھیلو ' جیتو پاکستان نہی)

(پاکستان میں ادویات کے کیمکل نام کی جگہ برینڈ اور کمپنی نام تجویز کرنے کے رجحان کے نقصانات کے بارے میں ایک تحریر )

آپ کو کیسا لگے گا اگر آپ کے گھر میں اردو کی جگہ سپینش زبان کا اخبار آتا ہو ؟

سڑکوں اور شاہراہوں پر سائن بورڈ اردو کی جگہ فرنچ زبان میں لکھے ہوں ؟

جس گلی محلے میں آپ رہتے ہیں اگر ان کے نام بدل دیے جائیں تو کیا آپ وہاں آسانی سے پہنچ پائیںگے ؟

پٹرول پمپ پر آپ جائیں اور وہاں میٹر "لیٹر " کی جگہ "گیلن " میں لکھا ہو تو کیا آپ کو پٹرول بھروانے میں دقت نہی پیش آئیگی ؟

اگر آپ کو آپ کے اصل نام کی جگہ "چھوٹا ' ' لمبو ' ببو ' ' بیبی ' وکی یا ' ہنی " کہ کر پکارآ جائے تو کیا وہ بندہ آپ کو پہنچان پائیگا جو آپ کو اتنا قریب سے نہی جانتا ؟

ان سب سوالوں کا جواب یہی ہے کہ ایسا کرنے سے زندگی دشوار ہوجائیگی اور راستہ بھولنے اور غلطی کرنے کا امکان بہت بڑھ جائیگا - لیکن پھر ایسا کیوں ہوتا ہے کہ پاکستان جہاں کی شرح خواندگی 65 فیصد کے قریب ہے اور جہاں میڈیکل لیٹریسی نہ ہونے کے برابر ہے وہاں ایک ہی دوائی کے پچاس پچاس نام ہیں ؟

میرا آج کا کالم اس مسلے کے بارے میں ہے جس کو ہماری میڈیکل کومیونٹی نے کبھی مسلہ سمجھا ہی نہیں ہے - یعنی ادویات کے جینریک (generic ) ناموں کی جگہ کمپنیوں کے برینڈ نام -

' کیا آپ کے یا اپ کے کسی عزیز کے ساتھ ایسا ہوا ہے کہ وہ کسی ڈاکٹر کے پاس گیا ہو اور اس ڈاکٹر نے بلڈ پریشر ' شوگر یا ہارٹ کی کوئی دوائی شروع کروائی ہو ' اور کچھ عرصے بعد آپ کو معلوم ہو کہ آپ تو وہ Risek پہلے سے لے رہے تھے جو ڈاکٹر صاحب نے Omega کے نام سی شروع کروائی ہے ؟
کبھی ایسا ہوا کہ شوگر کی جو دوائی آپ کھا رہے تھے اس کی جگہ کسی ڈاکٹر نے ایک اور دوائی شروع کروادی اور آپ کو بعد میں پتا چلا کہ دونوں کا کیمیکل نام یا ادویات کی فیملی ایک ہی تھی بس کمپنی کا فرق تھا ؟ جو میڈیسن آپ loplat کے نام سے کھا رہے تھے کسی ڈاکٹر نے سب بدلنے کے نام پر plavix شروع کروادی اور آپ دونوں میڈیسن کھاتے رہے اور کچھ عرصے بعد معلوم ہوا کہ وہ ایک ہی تھی ؟

حال ہی میں میرے ایک عزیز کو انجائنا کا پرابلم ہوا - ان کو کارڈیولوجی کے پا س بھیجا تو انہوں نے اس کو tritace (Ramipiril ) کی دوائی شروع کروادی یہ پوچھے بغیر کہ وہ پہلے سے ہی ezi day (losartan ) کھا رہا تھا - اس کو rosulin شروع کروادی جب کہ وہ پہلے سے Rovista لے رہا تھا - نتیجہ یہ ہوا کہ وہ Rosulin اور Rovista دونوں کھاتا رہا اور اوور ڈوز کی وجہ سے اس کے پٹھوں میں درد (myalgia ) شروع ہوگیا جس نے مجھے یہ کالم لکھنے پر مجبور کیا -

یہ موضوع اتنا اہم ہے کہ اس پر پوری کیمپین چلانے کی ضرورت ہے - پاکستان میں میڈیکل لیٹرسی کی شرح بس 17 فیصد ہے - یعنی باقی 83 فیصد مریضوں کو اپنی ادویات کے بارے میں کچھ نہیں پتا ہوتا - ان کے کیمیکل نام تو بہت دور کی بات ان کو اس کا مقصد اور سائیڈ ایفکٹ غرض کچھ بھی نہیں پتا ہوتا - اس پر سونے پر سہاگہ ڈاکٹر مریضوں سے بات کرتے ہویے میڈیکل ہسٹری لینے کی زحمت نہی کرتے - ایک ریسرچ کے مطابق کراچی کے tertiary ہسپتالوں اور پرائیوٹ سیٹ اپ میں اوسطا ایک ڈاکٹر اپنے مریض سے آٹھ سے دس منٹ سے زیادہ بات نہی کرتا - مجھے یقین ہے یہ ٹائم سرکاری او پی ڈی میں کچھ منٹوں کا ہوگا - مریض کی میڈکل ہسٹری اور میڈیکل reconcilliation کیا ہوتی ہے اس کا پاکستان کے میڈکل سیٹ اپ میں یا تو تصور ہی نہی ہے یا اپلائی نہی کیا جاتا -

دوا ساز کمپنیوں کے نمائندے ہسپتالوں اور کلینکس میں منڈلاتے رہتے ہیں جن کے پاس کبھی عمرے کا ٹکٹ ہوتا ہے کبھی ملیشیا میں فیملی ٹرپ کا پیکج - ایک سروے کے مطابق پاکستان میں ایک میڈیکل ریپ روزانہ پندرہ ڈاکٹروں کا وزٹ کرتا ہے - ceftriaxone کو Ctrox کی شکل میں لگادو یا rocephin والا چمکیلا لباس پہنادو ' مریض کو نہی پتا ہوتا کہ یہ antibiotic ایک ہی کیمیکل کی تھی اور اس کو کس مقصد کیلئے دی گئی ' نو ایڈیا -- یہاں تک کے فارمیسی میں بھی ادویات کو کیمیکل نام سے زیادہ برینڈ نام سے جانا جاتا ہے اور کئی دفعہ ایک عام سے دوائی یہ کہ کر نہی ملتی کہ یہ دوائی دستیاب نہی ہے جبکہ وہ اس فارمیسی میں موجود ہوتی ہے لیکن برینڈ نام ہی اصل نام ہونے اور فارمیسی میں فارما سیسٹ نہ ہونے کی وجہ سے فارمیسی بھی کریانہ سٹور بنی نظر آتی ہے -

چلیں - اب امریکا چلتے ہیں - امریکا میں literecy ریٹ پاکستان سے بہت زیادہ ہے - یہاں ایوریج ایک ڈاکٹرپچیس سے تیس منٹ ایک مریض کے چیک پر پر لگاتا ہے اور اگر مریض نیا ہو تو یہ وقت چالیس سے پچاس منٹ تک بھی ہوتا ہے - اس کے باوجود یہاں ادویات کا جینرک (کیمیکل ) نام عمومی طور پر استعمال کیا جاتا ہے - یہاں rovista یا rosulin نہیں rosuvastatin لکھا جاتا ہے - (کچھ ادویات بہت ہی مشھور ہوتی ہیں جیسے کے flagyl یا augmentin میں ان کی بات نہی کر رہا )- لیکن عمومی طور پر جینریک اور کیمیکل نام استعمال ہوتا ہے -

جب ڈاکٹر کسی مریض کو کوئی نئی دوائی شروع کرواتا ہے تو اس کو اس کی وجہ (indication )' اس کا فائدہ ؛ اس کے سائیڈ ایفکٹ اور متبادل (alternative ) کا بھی بتاتا ہے اور یہ بھی بتاتا ہے کہ یہ کسی کی جگہ شروع کروا رہا ہے اور عکس کسی اور دوائی سے کیا انٹریکشن ہوسکتا ہے اور اس کو لیتے ہویے کونسی دوائی بند کرنی ہے - اس عمل کو "medication reconcilliation " کہا جاتا ہے - ایسا نہیں ہے کہ ان پڑھ مریض بس پاکستان میں ہی ہوتے ہیں - یہاں بھی ایسے دیہاتی مریض ہوتے ہیں جن کے پاس نہ کوئی ریکارڈ ہوتا ہے نہ ادویات کا کوئی اندازہ پھر بھی ڈاکٹر کم سے کم medication reconcilliation ضرور کرتا ہے کیوں کہ مریض کی جہالت اور ان پڑھ ہونا اور ریکارڈز کا نہ ہونا ڈاکٹر کو اس کو ذمے داری سے مبرا نہی کرت بلہ اس سے اس کی ذمے داری اور بھی بڑھ جاتی ہے -

امریکا کے ہسپتالوں اور کلینکس میں میڈیکل ریپس (میڈیکل Rep ) کا عمومی طور پر کوئی تصور نہی ہے - فارن ٹرپس اور عمرے کے ٹکٹ کو یہاں "conflic of interest " سمجھا جاتا ہے اور اس بارے میں "FDA " ور ہسپتالوں کی بہت سخت پالیسیاں ہوتی ہیں - فارمیسی میں کوالیفائیڈ فارما سیسٹ ہوتا ہے اور دوائی کو عمومی طور کیمیکل نام سے پہچانا جاتا ہے - دوائی کے بوتل کے اوپر موٹا موٹا کیمیکل نام لکھا ہوتا ہے - اس طرح مریض کو کونفیوزن نہیں ہوتی کہ ڈاکٹر نے کونسی دوائی بند کروائی ہے اور کونسی دوائی شروع کروائی ہے - وہ ڈبل ڈبل دوائی نہی کھاتا اور سب ایک زبان بولتے اور سمجھتے ہیں جس کو "کیمیکل نام " کہا جاتا ہے -

مجھے حیرت ہے کہ آج تک پاکستان میں اس موضوع سے متعلق کوئی کمپین کوئی تحریک کیوں نہی چلی - بھانت بھانت کی ادویات لکھی جاتی ہیں جن کا کیمیکل نام ایک ہی ہوتا ہے - مریض اس بات پر خوش ہوتا ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے دوائی بدل دی ہے اب آرام آئیگا ' لیکن وہ پہلے ہی اسی دوائی کو کسی اور نام سے یا اس دوائی کا چھوٹا یا بڑا بھائی کھا رہا ہوتا ہے - ادویات والی کمپنیوں کا بزنس چلتا رہتا ہے اور میڈیکل کا فیلڈ کمرشلائز ہو کر کوئی "کھیلو جیتو پاکستان " کا شو بن جاتا ہے جہاں انعام اور پرائز کے چکر میں مریض کا حرج ہوتا ہے -

اس کالم کو پڑھ کر اگر آپ کچھ تبدیل کرنا چاہتے ہیں تو ان تجاویز پر عمل کریں :

1 . جب آپ کسی ڈاکٹر کے پاس جائیں یا آپ کا کوئی عزیز جائے اور وہ کوئی نئی دوائی لکھیں تو ان سے پوچھیں کہ اس دوائی کا کیمیکل نام کیا ہے - یہ کس مقصد کیلئے دی جارہی ہے اور یہ کس کی جگہ دی جارہی ہے ؟ اس کے کیا فائدے اور کئی سائیڈ ایفکٹ ہیں ؟

2 . ڈاکٹر اگر نہ بھی پوچھے تو خود سے اپنی تمام ادویات جو آپ لیتے ہیں ان کی لسٹ بنا کر ایک پرچی پر اس کے سامنے رکھیں اور یہ ضرور پوچھیں اور چیک کریں کہ کیا آپ پہلے سے تو یہ دوائی یا اسی فیملی کی کوئی اور دوائی تو نہیں کھا رہے ؟ کئی اس کا آپ کی کسی اور دوائی سے "interaction " تو نہیں ہوگا ؟

3 . جب آپ فارمیسی میں جائیں تو دوائی کے نیچے موجود کیمیکل نام ضرور پڑھیں اور اس سے دوائی کیمکل نام میں طلب کرنے کی کوشش کریں -

4 . اور میری ان سب ڈاکٹروں سے بھی درخواست ہے کہ اپنے مریضوں کی medication reconcilliation ضرور کریں - مریض کو جاہل اور ان پڑھ سمجھ کر بس قلم نہ چلائیں بلکہ اس بات کو سمجھیں کہ ہر مریض کو اپنی دوائی کا ضرور اندازہ ہوتا ہے جو وہ روز کھاتا ہے اور اگر اس کو اندازہ نہی ہے تو یہ آپ کی میڈیکل ذمے داری میں شامل ہے کہ آپ آسان لفظوں میں اس کو اس کی دوائی سمجھائیں -

5. ڈاکٹروں کو یہ تبدیلی لانا ہوگی کہ وہ میڈیسن کا کیمیکل نام عمومی طور پر استعمال کریں تاکہ لکھنے والے ڈاکٹر سے لے کر دوائی دینے والے فارماسسٹ اور دوائی نکال کر دینے والی فیملی سے لے کر دوائی کھانے والے مریض تک سب ایک ہی زبان بولیں اور سمجھیں - ایک ہی پیمانہ ایک ہی میٹر فالو کریں اور یوں ان کا وہ نقصان نہ ہو جو کسی دوائی کی ڈبل ڈوز کھانے سے ہوسکتا ہے اور ہوتا رہا ہے -

6. پاکستان میں ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی یعنی DRAP کو ہسپتالوں میں میڈیکل ریپس کے رجحان کو ختم کرنا چاہیے اور اس پر "کانفلکٹ آف انٹرسٹ " کا قانون لاگو کروانا چاہیے اور ایسے قوانین متعارف کروانے چاہیے کہ سب ڈاکٹرز کیمکل نام میں میڈیسن پرسکرائب کریں -

مجھے معلوم ہے میری تحریر پڑھ کر کچھ ڈاکٹرز کو اچھا نہی لگا ہوگا - کچھ کو یہ لگا ہوگا کہ یہ پاکستان ہے - یہاں یہ سب ممکن نہیں ہے - تو میرا بھی یہی کہنا ہے کہ یہ پاکستان ہے - یہاں تو یہ اور بھی شدت سے لاگو ہونا چاہیے کہ جو مریض ایک دوائی کا نام نہیں پڑھ سکتا ' یاد نہیں رکھ سکتا اس کو بھانت بھانت کے ناموں سے دوائی دینے کی کیا سینس بنتی ہے ؟

اور اگر یہ رجحان ٹھیک ہے اور ایسے ہا چلتے رہنا چاہیے تو کل سے آپ کا وزن کلو گرام نہی پونڈز میں ؛ آپ کو پٹرول کا ریٹ لیٹر میں نہی گیلن میں ؛ پانی کی گہرائی "فیٹ" میں نہیں "میٹر" میں اور فاصلہ اور سفر کلومیٹر میں نہی "میل" میں لکھا اور بتایا جائیگا - اس کے بعد آپ نے بس اتنا کرنا ہے ہے کہ ایمانداری سے اپنی کونفیوزن اور غلطیاں بتانی ہیں جو یہ پیمانے تبدیل کرنے کی وجہ سے آپ کو دیکھنی پڑیں جب کہ ابھی آپ پڑھے لکھے بھی تھے -
شکریہ

قلم کی جسارت وقاص نواز

‏"ٹیوشن سینٹر سے قبر تک "  (احتیاط کرنا ممی ڈیڈی نہی بلکہ ممی اور ڈیڈی ہونے کا اصل تقاضہ ہے )‏ ہمارے معاشرے میں حفظ ماتق...
07/01/2026

‏"ٹیوشن سینٹر سے قبر تک " (احتیاط کرنا ممی ڈیڈی نہی بلکہ ممی اور ڈیڈی ہونے کا اصل تقاضہ ہے )

‏ ہمارے معاشرے میں حفظ ماتقدم کو اور احتیاط کرنے کو بزدلی اور "ممی ڈیڈی" ہونا سمجھا جاتا ہے - مجھے یاد ہے جب میں پہلی دفعہ امریکا سے واپس پاکستان آیا تو کار میں اگلی سیٹ پر جب بیٹھتے ہویے کار سیٹ لگاتا تھا تو باقی لوگ مذاق اڑاتے تھے کہ ممی ڈیڈی - ہمارے ہاں ڈرائیور کار سیٹ لگانے کی بجاے ایک کنڈا اس سیٹ میں پھنسا دیتا ہے کہ کار "ٹو ٹوں" نہ کرے - شیر خوار بچوں کو گود میں لیکر موٹرسائیکل پر خواتین بیٹھتی ہیں جس میں اس بچے کے موٹر سائیکل سے گرنے کا سب سے زیادہ چانس ہوتا ہے - کہیں کوئی تعمیر ہورہی ہو تو وہاں کوئی بیریئر نہی لگا ہوتا - جس عمارت میں تعمیر ہورہی ہوتی اسی عمارت میں لوگوں کی آمدو رفت بھی جاری ہوتی ہے - گھروں کا لینٹر ڈل رہا ہو تو وہاں بریانی پکائی جاتی ہے جس کو کھانے کیلئے سارا محلہ اسی لینٹر والی چھت کے نیچے چاول لینے جمع ہوا ہوتا ہے - کوئی اگر سمجھا دے کہ یہ خطرناک ہے تو اس کا یہ کہ کر مذاق اڑایا جاتا ہے کہ آپ تو بلکل ایڈونچرس نہی ہیں - زندگی موت تو الله کے ہاتھ میں ہے - وہ بیچارہ اس بات پر چپ کر جاتا ہے اور پھر ٹوٹے ہویے دل کے ساتھ قلم سے اس وقت بولتا ہے جب ایک گھر کی چھت جس پر راج مزدور اینٹیں لگا رہے ہوتے ہیں اور اسی کے نیچے اس قوم کا مستقبل چھوٹے چھوٹے بچے ٹیوشن پڑھ رہے ہوتے ہیں اور پھر وہ چھت گر جاتی ہے اور کتنے گھروں کا چراغ گل کر جاتی ہے -

‏آج لاہور میں ایک دل دہلا دینے والا حادثہ پیش آیا - کاہنہ میں ایک گھر کی چھت اس وقت گر گئی جب اس کے نیچے دو درجن سے زیادہ بچے بیٹھے ٹیوشن پڑھ رہے تھے - جس وقت بچے گھر میں پڑھ رہے تھے اسی وقت اسی کمرے کی چھت پر مزدور مٹی بھرائی کا کام کر رہے تھے اور اینٹیں لگا رہے تھے اور مزدوروں اور اینٹوں کا وزن چھت برداشت نہ کرسکی اور دھڑام گر گئی - نتیجہ یہ نکلا کہ چودہ بچے موت کی گود میں جا سویے -

‏اس کو حادثہ کہنا غلط اور غفلت اور کوتاہی کہنا زیادہ مناسب ہوگا -
کیا ہوجاتا کہ اگر اس کمرے میں بچوں کو اس لئے نہ بٹھایا جاتا کہ اوپر کام ہو رہا تھا -

کیا ہوجاتا کہ اس وقت راج مزدور کام کرنا محفوظ نہ سمجھتے کہ بچے بیٹھے ہیں -

کیا ہوجاتا کہ ہمارے ہاں ایسے قوانین بن جاتے کہ تعمیر کی جگہ پر بچوں کا داخلہ ممنوع ہے -

زیر تعمیر عمارت پر سرخ ربن لگا کر کارڈن کردیا جاتا تو کیا یہ زندگیاں بچ نہی سکتی تھیں ؟

‏چلیں پاکستان سے باہر اس دنیا میں چلتے ہیں جہاں زندگیوں کی اہمیت ہے -

‏جب پاکستان میں لوگ اگلی سیٹ پر بیٹھ کر سیٹ بیلٹ میں کنڈا لگا رہے ہوتے ہیں تو امریکا میں کار سیٹ نہ لگانے پر ڈھائی سو ڈالرکا جرمانہ ہو رہا ہوتا ہے - جس کی وجہ سے کوئی کار سیٹ لگاے بغیر کار چلانے کا یا آگے بیٹھنے کا سوچتا بھی نہی ہے -

‏جب لاہور یا کراچی میں ایک تین چار سال کا بچہ موٹر سائکل کی ٹینکی پر بیٹھا ہوتا ہے اور پیچھے ایک نو ماہ کا بچہ کوئی خاتون گود میں لیکر بیٹھی ہوتی ہے جہاں اس کی ذمے داری میں صرف وہ بچہ سنبھالنا نہی بلکہ بہت بڑا دوپٹہ سنبھالنا بھی ہوتا ہے اور اس دوپٹے کے پھنسنے اور بچے کے گرنے کا ایک جیسا چانس ہوتا ہے ' تب مغرب میں کسی بچے کو موٹر سائکل تو بہت دور کی بات کار کی اگلی سیٹ پر بھی بٹھانے کا کوئی سوچ بھی نہی سکتا کیوں کہ اس پر اس کا لائسینس کینسل کردیا جاتا ہے - پچھلی سیٹ پر بھی بچہ جب بیٹھا ہوتا ہے تو اس کو کار سیٹ میں بیلٹ لگا کر بٹھایا جاتا ہے کیونکہ ریسرچ کے مطابق اگلی سیٹ پر بچے کو نقصان کا زیادہ چانس ہوتا ہے - میں جانتا ہوں کہ یہاں پڑھنے والا معاشی حالات کا ذکر کریگا کہ پاکستان میں غربت ہے تو موٹرسائیکل ہی سواری رہ جاتی ہے تو میں اس پر یہ سوال کرونگا کہ کیا گاڑیوں والی فیملیاں بچے موٹرسائیکل پر نہی بٹھاتی ؟ گاڑیوں میں بچے اگلی سیٹ پر یا کھڑکی سے باہر منہ نکال کر نہیں بیٹھے ہوتے ؟

‏جب پاکستان میں کوئی گنے سے لدی ہوئی ٹرالی سڑک پر جارہی ہوتی جس پر اتنا گنا لدا ہوتا ہے کہ اس کے وزن سے ٹرالی نظر بھی نہی آرہی ہوتی اور اس کے پیچھے بچے گنا لینے کیلئے بھاگ رہے ہوتے ہیں تب امریکا میں کسی بھی اوور لوڈ وہیکل کے پیچھے ایک چھوٹی گاڑی چلتی ہے جو سرخ لائٹ آن کرتی ہے جس پر لکھا ہوتا ہے کہ "اوور سائز وہیکل " اور اس وہیکل کی تیسری لین ہوتی ہے اور اس چھوٹی گاڑی کا مقصد بس اس وہیکل کے پیچھے رہنا ہوتا ہے -

‏جب پاکستان میں سکول کے بچے بسوں پر لٹک کر سکول جارہے ہوتے ہیں ' بسوں کی چھتوں اور رکشوں کے دروازوں پر جھول رہے ہوتے ہیں ' تب امریکا میں پیلے رنگ کی سکول بس میں بچے سکول جاتے ہیں جس کو رکتا ہوا دیکھ کر سڑک کے دونو طرف کی ٹریفک رک جاتی ہے تاکہ بچے اس میں سے نکل کر سڑک کراس کریں تو ہر طرف کی ٹریفک مکمل جام ہو اور تب تک رکی رہے جب تک سکول بس اپنی لائٹ گرین نہی کردیتی اور سٹاپ کا سگنل آف نہی کردیتی -

‏ہمارے باورچی خانوں میں جب کوئی عورت بچہ گود میں اٹھاے دودھ اور چاے ابال رہی ہوتی ہیں اور بچہ اگر جھلس جائے تو اس کو قسمت اور اس عورت کی مجبوری سمجھا جاتا ہے لیکن مغرب میں ایسی کسی حرکت کے دوران اگر بچہ جھلس جائے تو اس کو چائلڈ ابیوز سمجھ کر کاروائی کی جاتی ہے اور اگر چائلڈ نیگلکٹ ثابت ہوجاے تو بچہ فوسٹر بھی کرلیا جاتا ہے -

‏ہمارے ہاں جب شیر خوار بچہ مامتا کی محبت میں ماں باپ کے ساتھ ایک بیڈ پر سورہا ہوتا ہے تو امریکا میں اس پر پابندی ہے - بچہ جھولے میں سلایا جاتا ہے کہ بچہ ماں باپ کے کروٹ لینے پر ان کے وزن کے نیچے نا آجاے -

ہمارے ہاں بڑی عید پر جب بیل آدھی کٹی گردن کے ساتھ سڑکوں پر بھاگ رہے ہوتے ہیں ' اور لوگ اور گاڑیاں ان کے نیچے آرہے ہوتے ہیں ' قصائی سڑکوں پر گھسیٹے جارہے ہوتے ہیں ' اور باقی معاشرہ ان کی وڈیوز پر فنی میوزک لگا کر ٹک ٹاک پر لگا رہا ہوتا ہے ' تب امریکا میں آبادی سے دور ایک چار دیواری والے فارم پر قربانی کرنے کی اجازت ہوتی ہے تاکہ کسی بھی قسم کے حادثے سے بچا جاسکے -

‏ہمارے ہاں کسی کاہنہ لاہور میں جب بچے کسی چھت کے نیچے پڑھ رہے ہوتے ہیں جب اسی چھت پر راج مزدور اینٹیں پھینک رہے ہوتے ہیں اور مٹی بھرائی کر رہے ہوتے ہیں ' تب امریکا میں ایسی عمارت میں بچے تو دور بڑوں کا بھی داخلہ ممنوع ہوتا ہے اور اگر ایسا کوئی حادثہ ہوجاے تو اس عمارت کے مالک کے خلاف ایسا کیس ڈالا جاتا ہے کہ وہ ساری عمراس سے آزاد نہی ہوسکتا -

‏بس کہنا یہ تھا کہ یہ جو ہوا یہ نہی ہونا چاہیے تھا - ہم اپنی زندگیوں میں تھوڑی سی احتیاط اور پری کاشن کرلیں تو بہت بڑےنقصانات اور حادثات سے بچ سکتے ہیں - ہماری حکومتیں بھی حادثوں کے بعد نوٹس لینے اور پابندیاں لگانے کی بجاے اگر پہلے سے موجود قوانین پر عمل درآمد کرالیں تو ہم یہ دن نہ دیکھیں - ہمارے بچے اتنے معمولی نہیں ہیں کہ کسی رکشے سے گر کر ہلاک ہوجائیں یا کسی اینٹ کے نیچے آکر مر جائیں اور ٹیوشن سینیٹر سے قبر تک پہنچ جائیں - ان معصوم کلیوں کو سنبھال سبھال کر رکھیں اور جان لیں کہ احتیاط کرنا "ممی ڈیڈی" ہونا نہی ہوتا بلکہ "ممی اور ڈیڈی " ہونے کا اصل تقاضہ ہوتا ہے کہ اپنی اولاد کی حفاظت کیلئے ہر ممکن احتیاط کریں - میں اس قلم کے ذریے اس سانحہ پر بس اسی طرح احتجاج اور تعزیت کر سکتا تھا - 😭

‏قلم کی جسارت وقاص نواز

تھرڈ پارٹی " (طلاق کے بارے میں ہمارے معاشرے کے اس رجحان کے نام جو محض ذاتی تسکین کیلئے  ہمارے بچوں کو ماں باپ کے ہوتے ہو...
06/28/2026

تھرڈ پارٹی " (طلاق کے بارے میں ہمارے معاشرے کے اس رجحان کے نام جو محض ذاتی تسکین کیلئے ہمارے بچوں کو ماں باپ کے ہوتے ہویے یتیم و مسکین بنا چھوڑتا ہے اور خدا کے دیے گیے حقوق پر ڈاکہ ڈالتا ہے )
آج میں جس موضوع پر لکھنے والا ہوں وہ اس رجحان کے بارے میں ہے جو ہمارے معاشرے میں بڑھتی ہوئی طلاق کے شرح کے بعد عورت کے حقوق کے نام پر دیکھنے میں آرہا ہے - بلاشبہ پاکستان میں طلاق کا تناسب گزشتہ دس پندرہ سالوں میں بڑھا ہے جس کے بہت سے عوامل ہوسکتے ہیں پر وہ عوامل آج کے اس کالم کا موضوع نہی ہے - طلاق معاشرے کی نظر میں جذباتی لحاظ سے جتنا بھی قبیح اور برا فعل سمجھا جائے قانون اور شریعت کی نظر میں یہ جرم یا گناہ کی کیٹیگری میں برحال نہی آتا - لیکن جو بات جرم یا گناہ کی کیٹیگری میں آتی ہے وہ طلاق کے بعد بچوں کے بارے میں معاشرے اور مطلقہ حضرات (عورت ہو یا مرد ) ان کا انتقامی طرز عمل ہے جس میں بچوں پر فطری طور پر ایک فرد کا حق سمجھ لیا جاتا ہے اور اکثر وہ عورت ہوتی ہے جس کو ماں ہونے کی وجہ سے ایموشنلی زیادہ مستحق سمجھا جاتا ہے جبکہ اس کی کوئی ٹھوس وجہ اور جواز اسلامی تاریخ یا شریعت میں ڈھونڈنے سے بھی نہی ملتا - طلاق کے بعد بچوں کو مہرہ بنانا ' دوسرے فریق کے خلاف بد زن کرنا اور اپنے تمام بدلے اس کی زبان سے لینا ایک عام رجحان ہے جس کا مشاہدہ اب عمومی نظر آتا ہے جس میں دونوں مرد اور عورت شامل ہوتے ہیں ' لیکن یہ طرز عمل بھی میرے آج کے کالم کا موضوع نہی ہے -
اصل موضوع یہ رواج ہے کہ جب مطلقہ خاتون کی دوبارہ شادی ہوجاۓ جو اس کا شرعی اور قانونی حق ہے ' تب وہ اگریمنٹ پر شادی کرے - وہ اگریمنٹ جس میں فریق بھی وہ خود ہو اور ثالث بھی وہ اور اس کا خاندان ہو جس کو اس کالم میں "تھرڈ پارٹی " کہ کر مخاطب کیا جائیگا - یہ اگریمنٹ دو طرفہ ہوتا ہے :
ایک طرف عورت اور اس کا خاندان دوسرے شوہر سے اگریمنٹ کرتا ہے کہ شادی کے بعد بچہ دوسرے شوہر کے گھر نہی شفٹ ہوگا -
اور دوسرا اگریمنٹ اس عورت کا اپنے والدین سے ہوتا ہے کہ میں اس شرط پر شادی کرونگی کہ یہ بچہ کبھی اس کے باپ کے پاس نہی بھیجا جائیگا اور آپ کے پاس ہی رہیگا - یوں اس اگریمنٹ میں ہر پارٹی شامل ہوتی ہے سواے اس شخص کے جس کا وہ اتنا ہی بچہ ہوتا ہے جتنا اس عورت کا ہوتا ہے - یوں والدین اپنی بیٹی کی دوسری شادی کردیتے ہیں اور کسی کی بیٹی کو یکطرفہ اگریمنٹ کی بنیاد پر جیتے جاگتے ماں اور باپ دونوں سے محروم کردیتے ہیں اور وہ بچا عمر بھر "تھرڈ پارٹی " کے گھر پر پلتا ہے -
دلچسپ بات یہ ہے کہ ایسا اگریمنٹ کرتے ہویے وہ خود کو اور معاشرے کو جو دو توجیحات دیتے ہیں وہ یہ ہوتی ہیں :
1. بچی کو بیٹی کے دوسرے گھر نہی بھیج سکتے کیوں کہ عورت کا نیا شوہر اس کا نامحرم ہے -
2. بچے یا بچی کو اس کے باپ کے گھر نہی بھیج سکتے کیوں کہ اس کی دوسری بیوی اس بچی کی سوتیلی ماں ہے جو اس پر ظلم ڈھایگی-
اب ان دونوں توجیحات کا الگ الگ پوسٹمارٹم کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ یہ دونوں ہی کمزور دلائل ہیں جو ذہن کی اختراعات اور اپنے منفی انتقامی عمل اور ایک یکطرفہ اگریمنٹ کو جواز فراہم کرنے کا بہانہ ہوتا ہے -
پہلی دلیل کہ مطابق بچی کو ماں کے دوسرے شوہر کے پاس اس لئے نہی بھیجا جاسکتا کہ وہ اس کا نامحرم ہے- یوں ماں کے شوہر کے نامحرم ہونے کا بہانہ کرکے معاشرہ اس بچی کو لڑکی کے والدین کے گھر رکھتا ہے جہاں اس کے ساتھ اس کے کزنز (مامو زاد ' چچا زاد ) وغیرہ پلتے ہیں اور ایک خاص عمر کے بعد وہ بھی اس کے نامحرم ہوتے ہیں پر وہاں ان کو "بھائی " قرار دے کر اس نامحرم والے مسلے کا خود ساختہ " اسلامی ٹچ " تراش لیا جاتا ہے - حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ طرز عمل بیٹوں کی دفعہ بھی دیکھا گیا ہے جب ایک بچے کو وہاں نہی بھیجا جاتا جبکہ اس معاملے میں محرم نامحرم والا سوال ہی نہی بنتا -
اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ معاملہ "محرم نامحرم " کا نہی بلکہ اس یکطرفہ اگریمنٹ کا ہوتا ہے جس پر اس لڑکی کی دوسری شادی کی گئی ہوتی ہے اور جس کی پار کرنے کیلئے ایسے محرم نامحرم والے بہانے تراشے جاتے ہیں -
اور جب کوئی یہ سوال کرے کہ واقعی آپ بہت شرعی ہونگے اور محرم نامحرم والے مسائل کے بارے میں حساس ہونگے تو پھر ماں اس بچے یا بچی کو شادی کرتے وقت باپ کے حوالے کیوں نہی کردیتی تب دوسرا بہانہ تراشہ جاتا ہے - اور وہ ہوتا ہے "سوتیلی ماں "
چلیں اس معاشرے کے اس دوسرے بہانے کا بھی پوسٹمارٹم کرتے ہیں - یہ درست ہے کہ سوتیلی ماں پہلی ماں جیسی نہی ہوسکتی لیکن یہ بھی درست ہے کہ ہر سوتیلی ماں سنڈریلا کی ماں بھی نہی ہوتی - جب معاشرہ ایک سوتیلی ماں جس سے وہ ملا بھی نہی ہوتا اس کے بارے میں گمان کر کے بچوں کو ان کے اصل باپ سے محروم کرتا ہے ' تو دراصل وہ اس کو کتنی سوتیلی ماؤں کے در پر چھوڑ آتا ہے اس کو اس بات کا اندازہ ہی نہی ہے - والدین کے گھروں میں ممانی ؛ چاچی وغیرہ بھی تو ہوتی ہیں ' ان کے بارے میں یہ برا گمان کیوں نہی کیا جاتا کہ وہ اس بچے یہ بچی کی ساتھ برا سلوک روا رکھیں گی خاص طور پر جب وہ اپنے بچوں کے مقابلے میں ان بچوں کو پلتا دیکھیں گی تو وہ فطری جلن کیوں سر نہی اٹھائیگی ؟
اگر معاشرے میں سوتیلی ماں کے ہاتھ بچوں پر ظلم کی کہانیاں ہیں تو کیا ممانی چاچی وغیرہ کے ناروا سلوک کی کوئی کہانی نہی ہے ؟ کیا سوتیلی ماں کے نگہبان ہونے کی کوئی مثال نہی ہے ؟ خاص طور پر یہ کیوں بھلا دیا جاتا ہے کہ وہاں اگر سوتیلی ماں ہے تو سگا باپ بھی ہے جو چیزوں کو مانیٹر کرسکتا ہے ' پر تھرڈ پارٹی کے ہاں تو ایسا کوئی رشتہ ہی نہی جس میں لفظ "ماں یا باپ " آتا ہو -
اگر معاشرے میں عورت کے دوسرے شوہر کے بچی کے ساتھ غلط سلوک اور بدفعلی کی کہانیاں ہیں تو کیا ننھیال یا ددھیال میں ایسی بچیوں کے ساتھ ان کے کزنز جن کو وہ "بھائی بھائی " کہ کر کوور کرتے ہیں ' ان کے ان بچیوں کو "مال غنیمت " سمجھنے کی کوئی مثال نہی ہے ؟
یوں ان دونوں بھونڈی اور من گھڑت دلیلوں کو استعمال کرکے ان بچوں کو نہ ماں باپ میں سے کسی کے ساتھ بھیجا جاتا ہے اور نہ اس ماں یا باپ میں اتنا ظرف ہوتا ہے کہ وہ اگر خود نہی لے جاسکتے تو دوسرے پارٹنر کو سونپ دیں تاکہ وہ بچہ یا بچی ماں باپ کے حیات ہوتے ہویے کسی ایک کے پاس تو رہے نہ کہ کسی "تھرڈ پارٹی " نانا ' کسی نانی ' کسی ممانی کسی دادا دادی کے در پر پڑا رہے جہاں اس کو کزنز کو "بھائی " اور نانا نانی کو "ماما' پاپا " کہنا پڑے - گویا وہ بچہ نہ ہو اس کے جہیز کا فریج یا ٹی وی ہو ' جس کو طلاق کے بعد بس اپنی چیز سمجھ کر اپنے ماں باپ کے گھر لے آیے اور پھر دوبارہ شادی کی تو ساتھ نیا فریج ٹی وی لے گیے اور پرانے کو والدین کے گھر پڑ چھوڑ آیے - اور یہ سب اس وقت ہو رہا ہو جب عورت اپنے نیے گھر میں اپنے ننے شوہر اور بچوں کے ساتھ نئی زندگی گزار رہی ہو اور مرد اپنے نیے گھر میں اپنی بیوی اور بچوں کے ساتھ خوش و خرم رہ رہا ہو - یعنی جو بچہ اپنے سگے بہن بھایوں کے ساتھ رہ سکتا تھا (جو اس کی ماں یا باپ کے دوسرے بچے ہوتے ) وہ ان سگے رشتوں کو چھوڑ کر کزنز کو "بھیا " کہنے پر مجبور رہے اور اس معاشرے کو وہ کزن اس بچی کا "نامحرم " بھی نہ لگے -- اس کو میں منافقت اور بےشرمی نہ کہوں تو اور لقمانیات کہوں ؟
اسلامی تاریخ کا مطالعہ:
چلیں اسلامی تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں کہ سوتیلی ماں اور نامحرم باپ کے حوالے سے تب کیا ہوتا تھا -- تھوڑی تحقیق کریں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ کسی بھی طلاق اور دوسری شادی کے وقت سوتیلی ماں والا جواز یا محرم نامحرم والا جواز سننے یا پڑھنے کو نہی ملتا - کسی بھی جگہ بچوں کو تھرڈ پارٹی کے گھر چھوڑ کر خود بیاہ کرنے کا واقعہ نہی ملتا بلکہ ہر جگہ یہ پڑھنے کو ملتا ہے کہ بچہ یا ماں کے ساتھ اسکے دوسرے گھر میں پلا یا باپ کے ساتھ اس کی دوسری بیوی کے زیر نگرانی رہا -
حضرت ابو بکر رضی الله کی وفات کے بعد ان کی بیوہ حضرت اسما بنت عمیس (رضی الله ) نے جب حضرت علی بن طالب رضی الله سے شادی کی تو وہ اپنے پہلے شوہر ابوبکر کے کم سن بیٹے محمد بن ابو بکر کو اپنے ماں باپ عمیس ابن معاد اور ہند بنت عوف کے گھر نہی چھوڑ آئ تھیں بلکہ اپنے ساتھ حضرت علی ابن طالب کے گھر لے کر گئی تھیں اور اس بچے کی پرورش اسی گھر میں ہوئی تھی کیوں کہ انہوں نے کسی تھرڈ پارٹی اگریمنٹ پر شادی نہی کی تھی -
نبی کریم صلی الله علیھ وسلم کی زوجہ محترمہ ام سلمہ (رضی الله ) کے پچھلے شوہر سے دو بچے تھے ایک بیٹا ' ایک بیٹی - ان کی وفات کے بعد جب انہوں نے نبی کریم (صلی الله علیہ وسلم ) سے شادی کی تو ان کا بیٹا عمر ابن ابی سلمہ اور ان کی بیٹی زینب بنت ابی سلمہ ان کے ساتھ نبی کریم کی زندگی میں شامل ہویے اور ان کے گھر پر پلے - یہاں غور طلب بات یہ ہے کہ ان میں سے ایک بیٹی تھی -
اسی طرح حضرت زید بن حارث (رضی الله ) نے جب حضرت زینب بنت جاش (رضی الله ) سے طلاق کے بعد دوسری شادی کی تو ان کی شادی حضرت ام ایمان (رضی الله ) سے ہوئی جو اپنے ساتھ اپنی پچھلی شادی سے ہونے والا بچہ ایمان ابن عبید ساتھ لے کر آئیں اپنے ماں باپ کے گھر چھوڑ کر نہی آئیں -
میں اس طرح کی درجنوں مثالیں لکھ سکتا ہوں جہاں طلاق یا پہلے رفیق حیات کے انتقال کے بعد عورت اور مرد دونوں اپنے پہلے بچوں کو اپنے ساتھ اگلی زندگیوں میں لے کر گیے کسی نانا ' نانی ' دادا دادی یا ماموں کے پاس چھوڑ کر اگریمنٹس پر شادیاں نہی کرتے رہے - اب پڑھنے والے کہیں گے کہ آپ اس معاشرے کیلئے کن پاک ہستیوں کی مثالیں دے رہے ہیں تو میں پھر کیا فرعون یا نمرود کی مثالیں لکھوں ؟ اس معاشرے کو مثال انہی کی زندگی سے دینی ہی ہے نہ جن کے نام پر دن رات یہ درود پڑھتے ہیں اور مرنے مارنے پر بھی اتر آتے ہیں - فرعون کی مثال بھی دوں تو یہ معاشرہ فرعون سے بہت بد تر معلوم ہوگا کہ فرعون جیسا بھی تھا ' اس نے اپنی بیوی آسیہ کی خواہش پر ننھے موسی (علیھ سلام ) کو اپنے گھر رکھ لیا تھا -
ایسے معاملات میں بہت بڑی ذمے داری اس مرد پر بھی عائد ہوتی ہے جو کسی مطلقہ یا بیوہ سے شادی کر رہا ہوتا ہے - اس کا یہ مطالبہ کہ اس کی بیوی کے پہلے بچے نانا نانی کے ساتھ رہیں گے اور اس کے گھر میں نہیں ساتھ آئین گے ' انتہائی بےرحمانہ اور غیر اخلاقی ہے - کاش ان میں بھی حضرت علی بن طالب والا اخلاق اور خدا خوفی ہو جو اپنے نئی بیوی کے سابقہ بچے اپنے گھر رکھنے کو اپنا فرض سمجھے - لیکن میں نے ایسی مثالیں بھی دیکھی ہیں جہاں ایک طلاق یافتہ مرد ایک طلاق یافتہ عورت سو شادی کرتا ہے ' تو اس کے اپنے بچے اس کی پہلی بیوی ساتھ جیہز سمجھ کر لیجاتی ہے اور اس کو اپنے ماں باپ کے گھر رکھ کر آگے خود شادی کر لیتی ہے - اور پھر وہ بھی یہی کرتا ہے - وہ کسی اور مطلقہ سے شادی کرلیتا ہے پر ساتھ اس کو پابند کردیتا ہے کہ اس کے پہلے بچے اس کے گھر نہیں آئینگے - یوں یہ گھن چکر چلتا رہتا ہے اور بچے سگے ماں باپ کے پاس پلنے کی بجاے "تھرڈ پارٹی " کے پاس پلتے رہتے ہیں - تھرڈ پارٹی والے نانا نانی ' دادا دادی جب گزر جاتے ہیں تو تب بھی ذاتی انتقام اس بچے کو اس کی اصل پارٹی کے پاس نہی شفٹ کرنے دیتا ' اور تب کوئی ماما ' چاچا "گارڈین " بن کر سامنے آجاتا ہے -
پڑھنے والے سوچ رہے ہونگے کہ اس موضوع پر لکھنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
ہمارا معاشرہ جنگل کا معاشرہ ہے - یہاں آیے روز زینب ' منتہی جیسے واقعات دیکھنے کو ملتے ہیں جہاں بچیاں سگے ماں باپ کے زیر نگرانی ہوتے ہویے بھی محفوظ نہی رہ پاتیں اور کسی درندے کی درندگی کا نشانہ بن جاتی ہیں ' تو ایسے میں ایسے بچے جو ماں اور باپ کے حیات ہوتے ہویے کسی تھرڈ پارٹی کے پاس پل رہے ہیں ' کزنوں کو بھائی سمجھ رہے ہیں ' وہ کیوں کر مال غنیمت نہی سمجھیں جائیں گے ؟ وہ عام بچوں کے مقابلے میں کتنے غیر محفوظ ہیں ' اس کا اندازہ ہمیں بخوبی ہے پر ہماری انا' انتقام اور کم ظرفی ہمیں سی طرف سوچنے نہی دیتی - چائلڈ پروٹیکشن بیورو کی ریسرچ کے مطابق بچوں کے ساتھ چائلڈ ابیوز اور جنسی حراسانی کے زیادہ تر واقعات ان کے رشتے داروں اور کزنوں کی طرف سے ہوتے ہیں - لیکن یہ بات اس معاشرے کو کردو تو یہاں "توبہ توبہ ' وہ تو اس کا بھائی ہے " کا ورد شروع ہوجاتا ہے -
بس کہنا یہ تھا کہ یہ عورت کا شرعی حق ہے کہ وہ طلاق کے بعد دوسری شادی کرے اور بچوں کے بارے میں تین آپشنز میں سے ایک اختیار کرے :
1. شادی کے بعد یا اپنے بچے ساتھ لے کر جائے '
2. اور اگر کسی بھی معاشرتی مجبوری کے تحت وہ ایسا نہی کرسکتی تو پھر اس بچے کو اس کے سگے باپ کو سونپ کر جائے -
3. اور اگر وہ ایسا بھی نہی کرسکتی تو پھر اس کو دوبارہ شادی سے معذرت کرنی چاہیے -
اور یہی بات مرد پر بھی اتنی ہی اپلائی ہوتی ہے لیکن چونکہ ایسا انتقامی رویہ زیادہ طرح عورتوں کی طرف سے دیکھنے میں آتا ہے ' اس لئے مخاطب میں وہ نمایا ہورہی ہے - - اگر دونوں اپنی نئی شادی میں اپنے پرانے بچے نہی شامل کر سکتے تو ان کو ہر گز یہ حق نہی کہ وہ ان بچوں کو کسی یکطرفہ اگریمنٹ کے تحت کسی تھرڈ پارٹی کو سونپ آئیں - اس سے بہت بہتر ہے کہ وہ دوسری شادی نہ کریں اور اپنے بچوں کے ساتھ رہیں - اور میں اسلامی تاریخ سے اس بات کی بھی ایک مثال لکھ سکتا ہوں جب ایک خاتون نے دوسری شادی سے اس لئے معذرت کرلی کہ ان کو خدشہ لاحق تھا کہ وہ شادی کے بعد اپنے بچوں کو وقت نہی دے پائینگی اور شوہر اور بچوں کے حقوق میں توازن نہی رکھ پائینگی - کیا آپ جانتے ہیں کہ ایسی سوچ رکھنے والی خاتون کون تھیں اور وہ کون شوہر تھے جن سے شادی سے انہوں نے بصد احترام معذرت کرلی تھی کہ وہ شوہر اور بچوں کے حقوق میں توازن نہی رکھ پائینگی ؟
میں بات کر رہا ہوں حضرت علی بن طالب کی بہن ام ہانی (رضی الله ) کی اور وہ ہستی ہمارے نبی کریم حضرت محمد صلّی اللہ علیھ وسلم تھے - جب فتح مکہ کے بعد نبی کریم نے اپنی چچا زاد ام ہانی کو شادی کا پیغام بھجوایا ' جو ایک روایت کے مطابق بیوہ تھی اور دوسری روایت کے مطابق ان کے پہلے شوہر ہوبیرا ابن ابی وہاب فتح مکہ کے بعد مسلمان نہی ہویے تھے ' سو اس صورت میں ان کی شادی قائم نہی رہی تھی ' سو جب نبی کریم صلی الله علیھ وسلم نے ان کو شادی کا پیغام بھیجا تو انہوں نے یہ کہ کر معذرت کی :
"میں بچوں والی ایک عمر رسیدہ عورت ہوں - مجھے خدشہ ہے کہ شادی کی صورت میں یا میں بچوں کے حقوق پوری طرح ادا نہ کرسکونگی اور اگر کرونگی تو آپ کے شوہر والے حقوق میں کمی کوتاہی نہ ہوجاے "
اس پر رحمت عالم نے یہ کہ کر ان کی تعریف کی تھی کہ بلاشبہ قریش کی عورتیں بہت اچھی مائیں ہوتی ہیں -
تحریر طویل ہوتی جائیگی لیکن یہ موضوع اور یہ رجحان اس سے زیادہ طویل ' سنجیدہ اور گھمبیر ہے - طلاق اور پھر دوسرا نکاح ہر انسان کا شرعی حق ہے - پر اپنے مطلقہ کو بچوں سے محروم کرنا ' اس کی کنیت یا ولدیت تبدیل کرنا کسی طرح بھی حق نہی ہے - اسی طرح بچے کو محض اپنی آنا کی تسکین اور انتقام کی تکمیل کیلئے اس کے باپ یا ماں کے حوالے نہ کرنا بلکہ کسی تھرڈ پارٹی کے پاس چھوڑ کر خود اپنی زندگی بسا لینا اس بچے کے ساتھ ظلم ہے جس کو ماں باپ ہوتے ہویے بھی ایدھی سینٹر کی طرح یتیم اور مسکین بن کر کسی تھرڈ پارٹی کے پاس کسی ممانی ' نانی ' نانا ' دادا ' دادی یا تائی کے رحم و کرم پر رہنا پڑتا ہے - کزنز کو "بھائی" سمجھنا پڑتا ہے - اپنی ماں کے دوسرے شوہر کے گھر نہ جاسکنے کو ماں کی مجبوری اور محرم نامحرم کا مسلہ اور اپنے باپ کی دوسری بیوی کے گھر نہ جاسکنے کو "سنڈریلا کی کہانی" سمجھنا پڑتا ہے - اور خدا نخواستہ اگر ان کے ساتھ گھر پر یا معاشرے میں کوئی بدفعلی ہوجاے تو اس کو اپنا نصیب اور معاشرے کی غلاظت سمجھنا پڑتا ہے -
خدا را ! اپنے آس پاس نظر دوڑائیں - مرد حضرت علی جیسی سخاوت رکھیں اور اپنی دوسری بیوی کے بچے ساتھ لانے پر شرطیں نہ عائد کریں - عورتیں حضرت اسما بن عمیس والی مامتا دکھائیں اور اپنے بچوں کو ساتھ لے کر آگے بڑھیں اور اگر نہی کرسکتی تو پھر یا تو اعلی ظرفی سے اس کے باپ کے حوالے کردیں یا پھر حضرت ام ہانی والی معذرت دکھائیں اور یکطرفہ اگریمنٹ پر شادی نہ کریں - اور ہم بحثیت معاشرہ اپنے گریبانوں میں جھانکیں کہ کہی ایسا تو نہیں کہ ہم میں سے کوئی اپنی انتقام اور آنا کی تسکین کیلئے "تھرڈ پارٹی " بنا بیٹھا ہے کیوں کہ ماں اور باپ کے حیات ہوتے ہویے کسی تھرڈ پارٹی کا بچہ کلیم کرنا جبکہ دونوں میں سے ایک بھی اس کا خواہش مند ہو ' اس حق پر ڈاکہ ہے جو خدا نے کسی عورت یا مرد کو دیا ہے کسی تھرڈ پارٹی کو نہی ' اور اس کی بازپرس خدا خود "تھرڈ پارٹی" سے کریگا-
میں جب بھی ایسا کوئی کیس دیکھتا ہوں تو مجھے محسوس ہوتا ہے کہ وہ بچے اس تھرڈ پارٹی سے اور اس معاشرے سے ان الفاظ میں شکوہ کر رہے ہیں :
خامشی کہہ رہی ہے کان میں کیا
آ رہا ہے مرے گمان میں کیا
عمر گزرے گی امتحان میں کیا
داغ ہی دیں گے مجھ کو دان میں کیا
میری ہر بات بے اثر ہی رہی
نقص ہے کچھ مرے بیان میں کیا
اپنی محرومیاں چھپاتے ہیں
ہم غریبوں کی آن بان میں کیا
وہ ملے تو یہ پوچھنا ہے مجھے
اب بھی ہوں میں تری امان میں کیا
بولتے کیوں نہیں مرے حق میں
آبلے پڑ گئے زبان میں کیا
وما علينا إلا البلاغ المبين
قلم کی جسارت وقاص نواز

"باڈی شیمینگ " ( وہ جگت جو ہم کسی انسان کو نہی بلکہ خدا کو لگارہے ہوتے ہیں )"ارے کوڈو ! ادھر آؤ ! "تھوڑا لٹکا کرو  !قد ل...
05/23/2026

"باڈی شیمینگ " ( وہ جگت جو ہم کسی انسان کو نہی بلکہ خدا کو لگارہے ہوتے ہیں )

"ارے کوڈو ! ادھر آؤ ! "تھوڑا لٹکا کرو !قد لمبا کرو !
"ارے واہ ! تم بہت موٹی ہوگئی ہو - لگتا ہے شادی راس آگئی ہے ؟ "
واہ حاجی صاحب ! بہت توند نکلی ہوئی ہے -
ارے گنجے - ذرا بات سننا ! ............"

یہ وہ الفاظ' نام اور مشورے ہیں جو ہم روز مراه زندگی میں اپنے ارد گرد سنتے رہتے ہیں اور اس میں کچھ برا کچھ قبیح بھی محسوس نہیں کرتے - کسی کی جسمانی ساخت ' رنگت ' قد اور وزن کی بنیاد پر اس کا تضحیک انگیز نام رکھنا یا اس کو طنز کرنا "باڈی شیمنگ " کہلاتا ہے -

ہمارے معاشرے میں باڈی شیمنگ اس قدر عام ہے کہ کوئی بھی کسی کے قد کاٹھ' وزن ' رنگت ' اور ناک منہ کے خدوخال پر بات کرکے ہنس دیتا ہے - جب دوسرا برا مناے تو کہا جاتا ہے "پیار سے کہا تھا " - یہ پیار معاشرے میں اس قدر عام ہے کہ "چھوٹا ' موٹا ' ٹھنگنا ' کلو ' مٹکا ' تھیلا ' کوڈو' پتلو ' بڈھا کھوسٹ ' وغیرہ " کسی کا نک نیم پڑ جاتا ہے - اور ایک وقت آتا ہے کہ وہ اس میں اعتراض بھی محسوس نہی کرتا کیوں کہ یہ نام اب اس کی پہچان بن چکا ہوتا ہے -

ٹی وی ڈراموں میں ہمیشہ گوری لڑکی اور لمبا چوڑا لڑکا ہی ہیرو ہیروئن بنتے ہیں اور سانولی لڑکی یا تو گھر میں کام والی ہوتی ہے یا ہیروئن کی وہ سہیلی بنی ہوتی ہے جس کا کام بس شادی کے دن ڈھولک بجانا اور اس پر چمچ مارنا ہوتا ہے -

اسی طرح عمر رسیدہ یا موٹا دبلا لڑکا یا ہیرو کی گاڑی کا ڈرائیور ہوتا ہے یا ہیرو کا کولیگ یا باڈی گارڈ - کبھی دیکھا ہے کہ رکشے والا گورا چٹا یا لمبا آدمی ہو ؟
ٹی وی کے اشتہارات میں روز غیر محسوس طریقے سے باڈی شیمنگ کی جاتی ہے - کبھی رنگ گورا کرنے والی کریم میں کالی لڑکی کا اس وقت فورا رشتہ ہوتے دکھا دیا جاتا ہے جب وہ فیرن لوولی یا فائزہ بیوٹی کریم استعمال کرنے لگے ' اور کبھی چھوٹے بالوں والی لڑکی کا سکول میں مذاق اڑاتے دکھا یا جاتا جو تب ختم ہوجاتا ہے جب وہ ہیڈ این شولڈر استعمال کرکے بال مظبوط اور گھنے لمبے کرلیتی ہے -

یہ باڈی شیمنگ نہی تو کیا ہے ؟

یقین کریں میں نے کبھی کسی امریکی چینل پر رنگ گورا کرنے والی کریم کا اشتہار نہی دیکھا - کسی اشتہار میں یہ کیوں نہیں دکھایا جاتا کہ سانولی لڑکی کہتی ہو کہ میں یونہی بہت اٹریکٹیو ہوں اور مجھے یہ فیرن لوولی نہی چاہیے بلکہ مجھے وہ نگاہ چاہیے جو "فئیر" بھی ہو اور "لوولی " بھی ہو اور میرے اس نیچرل رنگ کو یونہی قبول کرے - مجھے "فائزہ کریم" نہیں چاہیے کیوں کہ میری تعلیم اور میرا اخلاق ہی عالم فائز ہے - مجھے نسوانی حسن کی کوئی کریم یا دوائی نہی چاہیے کیوں کہ یہ میری شخصیت کا حصہ ہے اور میں ایسے ہی خوبصورت لگتی ہوں -

ایک اور موقع جب ہمارے ہاں بے انتہا باڈی شیمنگ ہوتی ہے اور وہ ہوتا ہے شادی کے رشتے ہوتے وقت - کوئی نہیں پوچھتا کہ لڑکی کتنا پڑھی ہے ' کیسے گفتار کی ہے ' یہ دیکھا جاتا ہے کہ ہائٹ کیا ہے ' رنگت کیسی ہے ' موٹی تو نہیں - فگر کیسا ہے وغیرہ وغیرہ - نتیجہ کیا ہوتا ہے - معاشرے میں بیوٹی پارلرز کی ڈیمانڈ بڑھ جاتی ہے اور کچھ عرصے بعد جب ان کا میک اپ دھندلا پڑتا ہے تو جوڑا ایک دوسرے کی اندرونی خوبصورتی کو فراموش کرکے بیرونی خدوخال بدل جانے پر ایک دوسرے سے کھچا کھچا رہنے لگتا ہے -

میں اس بات پر حیران ہوتا ہوں کہ جب ہم اپنے وہ خواص بتاتے ہویے نہیں شرماتے جو ہم جیسے انسانوں نے ہی ہمیں دیے جیسے کہ نام ' ذات ' خاندان وغیرہ تو پھر وہ خواص بتاتے ہویے کیوں ہچکچاتے اور دوسروں کا مذاق اڑاتے ہیں ہیں جو ہمیں الله کی قدرت نے دیے جیسے کہ ہمارا رنگ ؛ قد ؛ کاٹھ ' خدوخال وغیرہ-
جیسے ہاتھ کی پانچ انگلیاں ایک جیسے نہی ہوتی تو کیا آپ کبھی چھوٹی انگلی کو "کوڈو " کہتے ہیں ؟
بڑی انگلی کو " لمبو " کہتے ہیں ؟
انگوٹھے کو "ڈنگا یا ڈب کھڑبہ " کہتے ہیں ؟

جب ان بے زبان انگلیوں کے نام نہی رکھتے بلکہ ان کی شکل اور لمبائی کے مطابق ان کے خواص کا احترام کرتے ہیں اور ان کو "رنگ فنگر " (ring finger) انڈیکس فنگر" (index finger) کہتے ہیں تو پھر جیتے جاگتے انسانوں کے ان خواصوں کا احترام کیوں نہیں کرتے جو ان کو خدا کی دین ہیں ؟

کبھی سوچا ہے کہ آپ کسی مصور کے سامنے اس کی پینٹنگ میں کیڑے نکالیں یا کسی شاعر کے سامنے اس کی نظم میں کچھ اعتراض لگا کر اس نظم کو "باتھ روم شاعری" کہدیں تو وہ آپ کے ساتھ کیا کریگا ؟ تو جب وہاں آپ اخلاق اور تمیز کا مظاھرہ کرنا قرین اسلوب سمجھتے ہیں اور اپنی زبان کو لگام میں رکھتے ہیں تو پھر سارے جہاں کے خالق کے سامنے اس کی مخلوق کو کیسے "کلو ' چھوٹو' توند والا ' گنجا " کہ دیتے ہیں - کیا آپ کے اخلاق کا سب سے بڑا حقدار آپ کا خالق نہی ہے ؟

کبھی یہ سوچا ہے کہ جس کو آپ موٹا کہ رہے ہیں ہوسکتا ہے وہ " کوشنگ سینڈروم " (cushing syndrom ) کا شکار ہے جس میں جسم میں سٹیرایڈ اتنا بڑھ جاتا ہے کہ وزن بہت زیادہ ہوجاتا ہے - ہوسکتا ہے اس کو تھایرویڈ (thyroid ) ہو جو وہ آپ کو بتانا نہ چاہ رہا ہو "-

کبھی سوچا ہے جو آپ کو کالا سیاہ نظر آرہا ہے وہ دن بھر دھوپ میں اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کیلئے سورج کھاتا ہو اور اس لئے کالا ہوگیا ہو - کیا آپ نے سوچا ہے کہ ہوسکتا ہے اس کو "ایڈیسن ڈیزیز " (addison disease ) ہو جس میں پورا جسم کالا ہوجاتا ہے - آپ تو اس کو گوری کریم کا مشورہ دے آتے ہیں پر اس کے بعد اس پر کیا گزرتی ہے اس کیلئے آپ کو "ایڈیسن کی بیماری " کو پڑھنا پڑیگا -

آپ تو کسی لڑکی کو "تھیلا " یا "موٹی " کہ کر نکل جاتے ہیں ' پر وہ سارا دن جم پر بھاگتی رہتی ہے اور طرح طرح کے ڈائٹ پلان ٹرائی کرتی رہتی ہے تاکہ اگلی دفعہ جب آپ اس سے ملیں تو اس کی خود اعتمادی کو اس طرح ریزہ ریزہ نہ کریں -

اسی طرح قد میں چھوٹا رہ جانے والا دن بھر بانس سے لٹکتا رہتا ہے تاکہ آپ کے چھبتے جملوں اور ان جگتوں سے بچ سکے - سر کے بال گرنے سے گنجا ہونے والا پتا نہی کتنے ڈاکٹروں کے چکر لگاتا رہتا ہے کہ آپ اس کو "ٹکلو " نہ کہہ دیں جبکہ پچاس کے بعد بال گرنا اس نیچرل پروسس کا حصہ ہے جس کو "ایجنگ " (aging) کہتے ہیں -

اگر ہمیں لگتا ہے کہ کوئی اپنی عمر چھپانا چاہتا ہے تو ہم کیوں اس سے یہ راز پوچھنے پر مصر رہتے ہیں - ہم ایسا کیوں نہیں کہ دیتے کہ آپ اپنی عمر سے چھوٹے نظر آتے ہیں اگر اس کو اسی طرح تھوڑی سی خوشی اور خوداعتمادی مل جاتی ہے ؛ تو یہاں ہم اتنے سخت گیر کیوں ہوجاتے ہیں ؟ آپ کا ایسا کہنا اس کا برتھ سرٹیفکیٹ نہی بدلے گا پر اس کا اعتماد ضرور اوج ثریا کو چھونے لگے گا -

میں چاہوں تو اس موضوع پر دو اور صفحے لکھ سکتا ہوں کیوں کہ یہ برائی اس معاشرے میں اس قدر سرایت کر گئی ہے کہ اب برائی کم اور "لاڈ پیار " بن گئی ہے - یہ کوئی لاڈ پیار نہیں ہے - یہ کوئی تفریح مذاق نہی ہے - یہ ایک جیتے جاگتے انسان کے ان خواص کو "عیب" کہنا ہے جو اس کی چوائس نہی بلکہ الله کی تخلیق ہیں - یہ سیدھا سیدھا الله کی صنعت' قدرت اور انجنیرئنگ کا مذاق اڑانا ہے - یہ سیدھا سیدھا خالق کائنات کی خلقت میں کیڑے نکالنا ہے اور خدا کی خدائی کو جگت لگانا ہے -

سو محترم قارئین! سب لوگ جو یہ تحریر پڑھ رہے ہیں - آئندہ جب کسی مرد یا عورت کے کسی نیچرل خواص کا مذاق اڑانے کا جی کرے' کسی کو موٹا ' کوڈو' کلو ' تیلا یا کانگڑی کہنے کا جی کرے ' تو یہ آیت پڑھ لیجیے گا اور خود کو روک لیجیے گا :

هُوَ الَّذِي يُصَوِّرُكُمْ فِي الْأَرْحَامِ كَيْفَ يَشَاءُ ۚ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ
“وہی ہے جو ماؤں کے رحموں میں تمہاری صورتیں جس طرح چاہتا ہے بناتا ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہی زبردست، حکمت والا ہے۔”

"قلم کی جسارت وقاص نواز"

Address

98 Crisfield Street
Yonkers, NY

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr. Waqas Nawaz posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category