26/09/2026
ہاسٹل سٹی اسلام آباد میں طلبہ کی سکیورٹی—آخر ذمہ دار کون؟
ہاسٹل سٹی اسلام آباد میں سکیورٹی کی صورتحال ایک بار پھر سنگین سوالات اٹھا رہی ہے۔ مختلف جامعات کے تقریباً 14، 15 ہزار طلبہ یہاں رہائش پذیر ہیں، مگر اس کے باوجود آئے روز بیرونی افراد کے داخلے، لڑائی جھگڑے اور دیگر ناخوشگوار واقعات کی اطلاعات سامنے آتی رہتی ہیں۔
جو طلبہ اور ان کے والدین کے لیے انتہائی تشویشناک ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب ہاسٹل سٹی ایک بڑا Student Hub ہے تو طلبہ کی جان و مال کے تحفظ کے لیے مؤثر سکیورٹی انتظامات کیوں نہیں کیے جا رہے؟
طلبہ سے ہر ماہ فیس اور دیگر چارجز میں اضافہ کیا جاتا ہے، لیکن بنیادی سہولیات کا حال سب کے سامنے ہے۔ کبھی پانی کا مسئلہ، کبھی صفائی کا، اور کبھی سکیورٹی کا بحران—آخر کب تک طلبہ ان مسائل کا سامنا کرتے رہیں گے؟
ہاسٹل یونین کی ذمہ داری صرف کاروباری معاملات تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ اگر طلبہ سے فیس لی جا رہی ہے تو انہیں بنیادی سہولیات، محفوظ ماحول اور مناسب سکیورٹی فراہم کرنا بھی انتظامیہ اور متعلقہ ذمہ داران کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
یہ بات واضح ہونی چاہیے کہ ہاسٹل سٹی کے اصل Stakeholders یہاں رہنے والے طلبہ ہیں، صرف کاروباری مفادات نہیں۔ طلبہ کی آواز، ان کے تحفظ اور ان کے بنیادی مسائل کو ترجیح دینا ضروری ہے۔
پختون اسٹوڈنٹس فیڈریشن (PSF) متعلقہ اداروں، ہاسٹل سیٹی انتظامیہ اور ذمہ دار حکام سے پرزور مطالبہ کرتی ہے کہ:
ہاسٹل سٹی میں سکیورٹی کا مؤثر اور مستقل نظام قائم کیا جائے۔
غیر متعلقہ افراد کے داخلے کو روکا جائے۔
طلبہ اور خصوصاً طالبات کی سکیورٹی کو یقینی بنایا جائے۔
پانی، صفائی اور دیگر بنیادی سہولیات کے مسائل فوری حل کیے جائیں۔
طلبہ سے وصول کی جانے والی فیس اور سہولیات کے حوالے سے جواب دہی کا مؤثر نظام بنایا جائے۔
اگر متعلقہ انتظامیہ نے طلبہ کی سکیورٹی اور بنیادی مسائل کے حل کے لیے فوری اور عملی اقدامات نہ کیے تو پختون اسٹوڈنٹس فیڈریشن طلبہ کے ساتھ مل کر پُرامن اور جمہوری احتجاج کا حق محفوظ رکھتی ہے۔
طلبہ کی سکیورٹی کوئی رعایت نہیں، بنیادی حق ہے۔
ہاسٹل سٹی طلبہ کے لیے ہے، صرف کاروبار کے لیے نہیں۔