Khattakistan

Khattakistan This is entertainment page .

11/08/2026

امت مسلمہ کے لیڈر عمران خان کی گرفتاری کے تین سال مکمل ہونے کی خوشی میں پی ٹی آیی کے کارکنان نے اج مختلف مقامات پر اس کا اس کی اس کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی رہنمائی میں جس جوش و خروش سے جشن منایا، ڈانس کیا ان پر ان کو مرشد کے رحونیاتی شعور سے لبریز اسلامی ٹچ والا سلام پیش کرتے ہیں. خپل وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے مطابق ناچ گانے کا اگلا مظاہرہ ستائس ستمبر کو ہو گا. ایک ڈیڑھ مہینے اگر یوتھیوں نے مسلسل ایسے ناچ گانے کا مظاہرہ کیا تو مرشد بہت جلد یعنی ڈیڑھ دو صدیوں میں رہا ہو جائیں گے

11/08/2026

میرے ساتھ چائنیز لوگ تقریباً سارے سگریٹ پیتے ہیں، صرف میں سگریٹ نہیں پیتا ہوں سب کو معلوم ہے کہ میں سگریٹ نہیں پیتا ہوں۔۔۔ لیکن پھر بھی دن میں ایک دو بار اپنے سگریٹ کے پیک سے سگریٹ لینے کو کہتے ہیں۔۔ اب سوچ رہا ہوں کہ اگر میں روزانہ دو تین سگریٹ لینا شروع کروں،،،، اور اس کو بھیجنا شروع کروں تو ایک سال میں کتنے روپے بنتے ہیں۔۔ میرے خیال سے شادی کا لہنگا تو نکل آئے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!

06/08/2026

اے آئی کے دور میں آپ بچوں کو یہ پڑھاۓ کہ مرزا غالب کو آم پسند تھے پھر اگر آپ کا بچہ 1200 میں سے 1200 مارکس بھی حاصل کرلے کسی کام کے نہیں

04/08/2026

یہ تو سب جانتے ہیں کہ ادارے ناکام ہیں لیکن سوال یہ ہے ادارے چلاتے کون ہیں۔ ادارے کبھی ناکام نہیں ہوتے، ادارے چلانے والے ناکام ہوتے ہیں۔اگر سات دہائیوں سے ایک ہی ادارہ ایک ہی طرح کے نتائج دے رہا ہے تو منطق یہ کہتی ہے کہ مسئلہ عمارت میں نہیں، عمارت کے مکینوں میں ہے۔ قابل آدمیوں کے ہاتھ سے مسلسل ناقص فیصلے برآمد نہیں ہوتے۔ اگر ہوتے رہیں تو پھر یا تو ہماری قابلیت کی تعریف غلط ہے یا ہماری تقرریوں کا طریقہ۔پارلیمان میں بیٹھے لوگ نااہل ہو سکتے ہیں پارلیمان بطور ادارہ نہیں۔ اسی طرح عدلیہ اور بابوکریسی ہے اور پھر طاقت کا مرکز گوکہ وہ آئین کی رُو سے ادارہ نہیں مگر ہمارے ہاں وہ سب سے اہم ادارہ بن چکا ہے۔

ادارے ناکام کیوں ہوتے ہیں ؟۔کیا اس سرزمین نے ذہین لوگ پیدا کرنا چھوڑ دیے ہیں؟۔ یہ کہنا اتنا ہی مضحکہ خیز ہے جتنا یہ کہنا کہ بارش صرف بنگلوں پر برستی ہے۔ قدرت جب ذہانت تقسیم کرتی ہے تو اسے نہ کسی جاگیردار کا نام معلوم ہوتا ہے، نہ کسی بیوروکریٹ کا گریڈ، نہ کسی بااثر سیاسی خاندان کا ۔ذہانت یہ نہیں دیکھتی کہ ماں کے ہاتھ میں سونے کے کنگن ہیں یا محنت کشی کے چھالے۔ ماہرینِ نفسیات جسے ذہین کہتے ہیں وہ بچے ہیں جو آئی کیو لیول کے 130 سے زیادہ کے معیار پر پورے اترتے ہیں وہ غیرمعمولی ٹھہرتے ہیں۔ اِس حساب سے ہر سال اس دھرتی پر تقریباً دو لاکھ ہیرے جنم لیتے ہیں۔ سو جوہر کا قحط نہیں نقص ہماری نگہداشت اور چناؤ میں ہے۔ خدا تو جھونپڑی میں بھی ویسا ہی دماغ رکھ دیتا ہے جیسا محل میں۔ فرق صرف یہ ہے کہ محل والے دماغ کو لمز، نسٹ، آئی بی اے جیسے تعلیمی ادارے اور لیپ ٹاپ مل جاتا ہے اور متوسط گھرانے والے کو آنکھ کھولتے ہی گھریلو معیشت کا حساب کتاب۔

ہر سال اس ملک میں لگ بھگ دو لاکھ غیرمعمولی ذہن پیدا ہوتے ہیں۔ مگر ہماری ریاست ان سے وہی سلوک کرتی ہے جو اناڑی سنار کچے ہیروں سے کرتا ہے۔یعنی پہچان نہ آئے تو کنکر سمجھ کر رد کر دو۔یوں تو ریاست بڑے فخر سے دعوے کرتی ہے کہ میرٹ پر بھرتیاں ہوں گی۔ ہاں، ضرور ہوں مگر پہلے یہ تو طے کر لیجیے کہ مقابلے میں شامل کون ہے۔اگر دوڑ کے آغاز پر ایک بچے کے پاؤں میں مہنگے جوتے ہوں، کوچ موجود ہو، خوراک بہترین ہو اور دوسرا بچہ ننگے پاؤں، خالی پیٹ اور ذہن میں روٹی کمانے کی ٹینشن لیے دوڑ رہا ہو تو اسے مقابلہ نہیں کہتے بلکہ اسے مہذب طریقے سے ناانصافی کہتے ہیں۔

ہمارا میرٹ بھی بڑا دلچسپ ہے۔ ہم پہلے پچانوے فیصد بچوں کو نظام یا میدان سے باہر رکھتے ہیں پھر باقی پانچ فیصد میں مقابلہ کرا کے اسے کامیابی قرار دے دیتے ہیں۔ یوں ہمارے اعلیٰ عہدوں پر ہمیشہ ملک کے بہترین لوگ نہیں پہنچتے بلکہ بہترین مواقع پانے والے لوگ پہنچتے ہیں۔مقابلے کے امتحانات میں شرکت تو ہر کوئی کر سکتا ہے لیکن انتخابی مرحلہ صرف و صرف آئی کیو اور سسٹم کے مسائل کی سوجھ بوجھ کے گرد نہیں گھومتا انگریزی زبان کے گرد گھومتا ہے،امیدوار کا خاندانی پسِ منظر بھی پیش رو ہوتا ہے اور اس کا تعلیمی ادارہ بھی انتخاب میں بڑا کردار ادا کرتا ہے۔ یوں ہم نے ایک ایسا سماج تشکیل دیا ہے جس میں ذہانت کو اوپر آنے کے لیے قابلیت سے زیادہ خوش قسمتی درکار ہوتی ہے۔ اگر آپ صحیح گھر میں پیدا ہو گئے تو اوسط درجے کی ذہانت بھی لیڈرشپ پوٹینشل کہلاتی ہے۔ اگر غلط گھر میں پیدا ہوئے تو غیرمعمولی ذہانت بھی وسائل کی کمی کے نوحے میں دفن ہو جاتی ہے۔ ہر چار میں سے تین اعلیٰ عہدے قدرے آسودہ طبقے کے اوسط بچوں کے حصے میں آتے ہیں۔ اِس لیے نہیں کہ انہوں نے وسائل کی کمی کا شکار گھرانوں کے ذہین ترین بچوں کو ہرایا بلکہ اس لیے کہ نادار کا ذہین ترین بچہ میدان میں اُترا ہی نہیں۔

پھر ہم حیران ہوتے ہیں کہ ادارے کیوں نہیں چلتے۔ادارے اس لیے نہیں چلتے کہ ہم نے عہدوں کو ذہانت و اہلیت کا انعام نہیں، وراثت کا تسلسل بنا دیا ہے۔ ہر نسل اپنی اوسط اگلی نسل کے حوالے کر دیتی ہے اور ملک مسلسل غیرمعمولی لوگوں سے محروم رہتا ہے۔ بیوروکریٹ کی اولاد آنکھ کھولتے ہی بیوروکریسی میں داخل ہونے کی مشق کا حصہ بنتی ہے ۔ سیاستدان کی اولاد سیاست میں آتی ہے۔ جج کا بیٹا جج بننے کی تیاری کرتا ہے۔ لوہار کا بیٹا لوہار، سنار کا بیٹا سنار والا فارمولہ ہر شعبہ ہائے زندگی میں رائج رہتا ہے۔

ماہرین نے نصف صدی پر محیط تحقیق سے یہ ثابت کیا ہے کہ جن بچوں کی غیرمعمولی ذہانت کو بارہ برس کی عمر میں پہچان لیا گیا اور انہیں بہتر تعلیم اور وسائل ملے انہی بچوں نے بعد میں کہیں زیادہ ایجادات کیں، زیادہ تحقیقی مقالے لکھے، زیادہ پیٹنٹ حاصل کیے اور قیادت کے اعلیٰ مناصب تک پہنچے۔ یعنی ذہانت قدرت دیتی ہے لیکن کامیابی معاشرہ دیتا ہے۔ علاج کسی فلسفی کی الماری میں بند نہیں۔ ہر بچے کا ابتدائی عمر یا اوائل تعلیمی سالوں میں ایک غیرجانبدار امتحان سے چناؤ ، ذہین بچوں کے لیے بہترین رہائشی اسکول، اور غربت کو ذہانت کی سزا بننے سے روک دینا۔ بس اتنا ہی۔

مگر ہم ایسا نہیں کریں گے۔کیونکہ اگر واقعی ہر ذہین بچہ اوپر آ گیا تو بہت سے لوگ پہلی بار جان جائیں گے کہ ان کی اصل قابلیت سفارش یا ہر ممکن وسائل کی دستیابی تھی، صلاحیت نہیں۔جب تک گراس روٹ سے نظام سیدھا نہیں کریں گے تب تک کوئی حقیقی پراگرس نہیں ہو گی۔ چاہے آپ تیس صوبے بنا لیں۔ چاہے کسی بھی من پسند سیاسی جماعت کو اقتدار میں لائیں۔ پیالی میں طوفان برپا کرنا کوئی جامع پالیسی نہیں ہوتی۔ اگر یہی پالیسی ہے تو جاری رکھیں۔دس پندرہ سال بعد بھی یہی نتائج سامنے ہوں گے جو اب ہیں۔

04/08/2026

تیس اور اکتیس جولائی کو مراکو سے ساٹھ ہزار لوگ سمندر میں ٹائروں اور inflatables پر تیر کر اسپین کے شہر سیوتا میں داخل ہو گئے۔ یہ تاریخ کی سب سے بڑی “ڈنکی” ہے۔ اس میں دھکم پیل بھی ہوئی اور لوگ ڈوبے بھی۔ لگ بھگ 67 لوگ جان سے گئے ہیں۔ اسپین نے فوج کو بلا لیا ہے اور وہ تارکینِ وطن کو پکڑ کر مراکو واپس لوٹا رہے ہیں۔ سیوتا کی کل آبادی بیاسی ہزار ہے اور اس پر ساٹھ ہزار تارکین وطن نے ہلہ بول دیا ہے۔

مراکو اور اسپین کو سمندری خلیج جدا کرتی ہے جس کی چوڑائی اٹھارہ سے بیس کلومیٹر ہے۔ میں چار بار مراکو وزٹ کر چکا ہوں اور شمالی مراکو کے شہر طنجہ کے اس مقام پر موجود تھا جہاں سامنے جبلِ طارق تھا۔ طنجہ کے اس مقام سے تھوڑا آگے ایک اور مقام ہے جہاں سامنے اسپین کا شہر سیوتا ہے جو زمینی راستے سے مراکو سے متصل ہے۔ لیکن یہ تارکین وطن سخت بارڈر کنٹرول کی وجہ سے زمینی راہ سے داخل نہیں ہوئے بلکہ مراکو کی زمینی حد سے بذریعہ سمندر پانچ چھ کلومیٹر تیر کر داخل ہوئے ہیں۔

یہ صورتحال اچانک ظہور پذیر نہیں ہوئی۔ ایسا ممکن نہیں کہ ساٹھ ہزار لوگ اچانک نکل آئیں اور سب کا یہی فیصلہ ہو کہ سمندری خلیج عبور کر کے اسپین میں داخل ہونا ہے۔ اسپین اور یورپی یونین مراکو کو سالانہ سپورٹ فنڈ کے نام پر دو ارب ڈالرز سے زائد رقم دیتے ہیں۔ مراکو کو یہ رقم اس لیے دی جاتی ہے کہ وہ تمام تارکین وطن چاہے وہ مراکشی ہوں یا غیر ممالک سے، ان کو اپنی حدود میں روکے رکھے۔ یعنی وہ کسی کو سمندر عبور نہ کرنے دے۔ کچھ عرصہ سے مراکو یورپی یونین کو “سپورٹ فنڈ” بڑھانے پر زور دے رہا تھا۔ وجہ یہ بتا رہا تھا کہ تارکین وطن کو روکنا، جیلوں میں پالنا یا سمندری سرحدوں پر سیکئورٹی فراہم کرنا بہت خرچے والا کام ہو گیا ہے۔

گمان غالب ہے کہ مراکو حکومت نے جیلوں میں پڑے یا پکڑے گئے ڈنکی کے خواہشمندوں کو خود اسپین کی جانب چھوڑا ہے۔ تبادلے میں وہ اپنا “ریٹ” بڑھانا چاہے گا۔دنیا میں کیا کیا ہوتا ہے اور کیسے کیسے حکومتیں خراج وصولتی ہیں۔ مراکو نے اسپین اور یورپی یونین کو بس ذرا سا جھٹکا دیا ہے کہ دیکھو، ایسے نہیں ہوتا، ہماری مجبوری بھی سمجھو، ہم بھی تو کیا کیا جھیلتے، چلو شاباش تھوڑی اپنی جیب ہلکی کرو۔

04/08/2026

کہتے ہیں فرانس سے آزادی کے بعد کانگو میں فرانس نے اپنا سفیر تعینات کیا۔ ایک دن فرانسیسی سفیر شکار کی تلاش میں کانگو کے جنگلات میں نکل گیا۔ چلتے چلتے فرانسیسی سفیر کو دور سے کچھ لوگ نظر آئے۔ وہ سمجھا شاید اس کے استقبال کے لئے کھڑے ہیں۔ قریب پہنچا تو معلوم ہوا کہ یہ ایک آدم خور قبیلہ ہے۔ چنانچہ فرانسیسی سفیر کو پکڑ کر انہوں نے ذبح کیا، اسکی کڑاہی بنائی اور بڑی پارٹی ہوئی۔

فرانس اس واقعے پر سخت برہم ہوا اور کانگو سے مطالبہ کیا کہ کئی ملین ڈالر خون بہا ادا کیا جائے۔ کانگو کی حکومت سر پکڑ کر بیٹھ گئی۔ خزانہ خالی تھا۔ ملک میں غربت و قحط سالی تھی۔ بہرحال کافی غوروخوض کے بعد کانگو کی حکومت نے فرانس کو ایک خط لکھا جس کی عبارت درج ذیل تھی:
کانگو کی حکومت محترم سفیر کے ساتھ پیش آئے واقعے پر سخت نادم ہے۔ چونکہ ہمارا ملک خون بہا ادا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا، لہٰذا غور و فکر کے بعد ہم آپ کے سامنے یہ تجویز رکھتے ہیں کہ ہمارا جو سفیر آپ کے پاس ہے، آپ بدلے میں اسے کھا لیں۔ شکریہ

اس واقعے میں کتنی صداقت ہے، یہ تو نہیں معلوم، لیکن پاکستانی عوام کے لئے ایک سبق ضرور ہے اور وہ یہ ک انہیں آئی ایم ایف کو ایک خط لکھنا چاہیے جس کا مضمون درج ذیل ہو:
پچھلے ستر سالوں میں ہماری حکومتوں نے جو قرضے لئے ہیں، کم و بیش سارے کے سارے، ہماری اشرافیہ اور سیاست دانوں کے ذاتی اکاؤنٹس میں آپ ہی کے بینکوں میں پڑے ہیں، لہٰذا تجویز ھے کہ ہماری اشرافیہ کے بنک بیلنس اور اثاثے جو آپ ہی کے ممالک میں ہیں، اپنے قرض کے بدلے آپ ان سب کو کھالیں۔ شکریہ

02/08/2026

ایک خاتون کابچہ بڑاشرارتی تھا وہ اپنےبچے کونفسیات دان کےپاس لےگئی
نفسیات دان نےبچےکوبڑی سائز کی نیکر پہنادی بچہ اب سارادن شرارتیں چھوڑ کرنیکر سنبھالتارہتاہے
۔۔ شباز صاحب کو بھی سر والوں نے ایک ڈھیلی نیکر پہنا دی گئی ہےاب وہ جتنے بھی سال رہیں گے صرف نیکر ہی سنبھالیں گے۔۔۔۔۔

‏دو لڑکے امتحان کی تیاری کررہے تھے ایک بولا : آج پڑھائی کا موڈ نہیں!ٹاس کرتے ہیں ہیڈ آیا تو فلم دیکھیں گےٹیل آیا تو گھوم...
29/07/2026

‏دو لڑکے امتحان کی تیاری کررہے تھے
ایک بولا : آج پڑھائی کا موڈ نہیں!
ٹاس کرتے ہیں ہیڈ آیا تو فلم دیکھیں گے
ٹیل آیا تو گھومنے چلیں گے

دوسرا بولا: اور اگر سکہ کھڑا ہوگیا تو ۔۔۔
پہلا بولا : پھر پڑھیں گے

29/07/2026

14 اگست سر پے ہے اور میں نے ابھی تک باجا نہیں خریدا 😓😫
قائد اعظم کیا سوچیں گے 🥴

28/07/2026

پٹرول کی قیمت میں ایک روپے جتنی بڑی رقم کی بچت سےآپ لوگ کیا کیا خریدینگے🫠

Address

Islamabad

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Khattakistan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share