22/04/2026
*اللہ والوں کی پہچان*
حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ نے بصرہ میں ایک غلام خریدا، وہ غلام بھی اللہ والا، صاحبِ نسبت اور تہجد گزار تھا۔ حضرت حسن بصریؒ نے اس سے پوچھا: اے غلام! تیرا نام کیا ہے؟
اس نے عرض کیا: حضور! غلاموں کا کوئی اپنا نام نہیں ہوتا، مالک جس نام سے چاہے پکارے…!
آپؒ نے فرمایا: اے غلام! تجھے کیسا لباس پسند ہے؟
اس نے جواب دیا: حضور! غلاموں کا کوئی پسندیدہ لباس نہیں ہوتا، جو مالک پہنا دے وہی اس کا لباس ہوتا ہے…!
پھر آپؒ نے پوچھا: اے غلام! تو کیا کھانا پسند کرتا ہے؟
غلام نے عرض کیا: حضور! غلاموں کا اپنا کوئی کھانا نہیں ہوتا، جو مالک کھلا دے وہی اس کا کھانا ہوتا ہے…!
یہ سن کر خواجہ حسن بصریؒ چیخ مار کر بے ہوش ہو گئے۔ جب ہوش آیا تو فرمایا: اے غلام! میں تجھ کو آزاد کرتا ہوں۔ میں نے تجھے قیمت دے کر خریدا تھا، مگر اب تجھے بغیر کسی قیمت کے آزاد کرتا ہوں…!
غلام نے پوچھا: آپ مجھے کس نعمت کے بدلے میں آزاد کر رہے ہیں؟
آپؒ نے فرمایا: تم نے ہمیں اللہ کی سچی بندگی سکھا دی۔ تم ایسے غلام ہو کہ اگر ہمیں ہمارا مال واپس دے دیتے تو اپنی غلامی سے آزاد ہو سکتے تھے، مگر ہم اللہ کے ایسے بندے ہیں کہ اگر پوری دنیا کی سلطنت بھی دے دیں تو بھی خدا کی بندگی سے آزاد نہیں ہو سکتے۔ ہماری غلامی کا طوق موت تک ہے…
وَاعْبُدْ رَبَّکَ حَتّٰی یَأْتِیَکَ الْیَقِیْنُ
تم نے ہمیں سکھا دیا کہ اب اللہ جو کھلائے گا ہم یہی کہیں گے: مالک! یہ تیرا احسان ہے۔ جو پہنائے گا ہم یہی کہیں گے: مالک! تیرا کرم ہے۔ جس نام سے پکارے گا، وہی ہمارا نام ہے…!
اے غلام! تو نے ہمیں اصل بندگی کا سبق سکھا دیا۔
یہی اللہ والوں کا راستہ ہے کہ جس حال میں بھی اللہ رکھے، اس پر راضی رہا جائے۔ رضا بالقضا کا مقام اخلاص سے بھی بلند ہوتا ہے…!!
اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگی ہو تو شئیر کریں
۔
─────••●◎●••─────
والسلام